یوم استحصال کشمیر‎ - شہلا خضر

5 اگست کشمیر میں غیر قانونی غیر انسانی بھارتی محاصرہ کو پورا ایک سال مکمل ہو گیا ۔اس طویل محاصرہ کے لاک ڈائون میں محصور بے گناہ معصوم نہتے کشمیری کسقدر ازیت ناک تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں اس کے عشرعشیر کا اندازہ بھی ہم عالمی سمارٹ لاک ڈائون سے نہی لگا سکتے ۔ آج ہم اپنےگھر کی چار دیواری میں اپنے باپ بھائی شوہر اور بیٹوں کے محفوظ حصار میں اطمینان سے لاک ڈائون میں رہ رہے ہیں ۔

ہمیں کسی ہندو فوجی یا انتہاء پسند تنظیم کے غنڈوں کا خوف نہی کہ وہ ہماری چار دیواری پھلانگ کر یا گھر کا دروازہ توڑ کر کسی لمحے بھی آجائیں گے ۔ الحمدللہ نہ ہمیں گھرسے اپنی بہنوں بیٹیوں کے اٹھا لے جاۓ جانے اور عزتیں پامال کیۓ جانے کا ڈر ہے ۔۔۔۔۔ نہ ہی ہمیں یہ فکر ہے کہ ہمارے بیٹوں اور بھائیوں کو نامعلوم مقام پر لے جا کر انسانیت سوز ٹارچر کیا جاۓ گا ۔۔۔یا خدانخواستہ ہمارے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں اور اشیاۓ خورد ونوش ہی نایاب ہوں ۔ یہ تمام ازیتیں اور آلام کشمیری عوام کا مقدر بن چکے ہیں ۔دنیا کے سب سے بڑے اور طویل کشمیری لاک ڈائون سے معصوم شہری زندہ لاش بن چکے ہیں ۔بھوک اور خوف کے ساۓ گہرے ہوتے چلے جا رہے ہہں ۔ کرونا کے خوف سے خود ساختہ کورینٹین میں بیٹھنے سے بھلا کیا اندازہ ہوگا اس کرب اور ازیت کاجو اس 12 ماہ سے جاری جبری محاصرے کے روران کشمیری عوام کو درپیش ہے ۔

ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیسے لمبی لمبی لسٹیں اشیاۓ خور دونوش کی ہم مردوں سے منگواتے ہیں اور سارا دن فرمائشی پکوان بنا کر سب کے لزت کام ودہن کا اہتمام کر تے ہیں ۔دن رات لاک ڈائوں کے فارغ اوقات میں انٹر نیٹ کے دلچسپ پروگرامز کے زریعے اپنا دل بہلاتے ہوۓ کیا ہم اس ڈر اور خوف کا اندازہ لگاسکتے ہیں جس کاسامنا کشمیری عوام کو کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے انٹر نیٹ کنیکشنْ موبائل ْ ٹیلی فون سب کچھ بند کر دیا گیا ہے ْ ان کا بیرونی دنیا سے ہر طرح کا رابطہ منقطۀ کر دیا گیا ہے وہ بے چارے پوری دنیا کو درپیش اس مہلک کرونا جرثومے کے بارے میں کچھ نہی جانتے نه هی اس سے بچاؤ کے اقدامات سے واقف ہیں ۔

اقوام عالم کی انسانیت تو معیشت ومفاد کے بھاری بوجھ تلے دب کر مر چکی ہے ۔پربحیثیت امت مسلمۀ کے ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں تو شرم سے گردنیں جھک جائیں ۔ ہم کیسے مظلوم کشمیری عوام کو فراموش کر کے چین کی زندگی گزار سکتے ہیں ؟۔کیا ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ دوسرے مسلمان کو مصیبت میں گھرا دیکھ کر آنکھیں بند کر کے سکون سے سو جائیں ۔؟ اور انہیں بے یارومددگار چھوڑ کر اپنی راہ چل دیں ْ نہی اللہ تعالیٰ نے تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر بہت حق دیا ہے ۔نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا "مسلمان آپس میں بھائ بھائ ہیں اور نہ وہ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کو مصیبت میں تنہا چھوڑتے ہیں " عالمی بے حسی اور بے ضمیری کی وجہ سے کشمیری مظلوم شہریوں کی آہ پوری دنیا کو لگ گئ ۔پوری دنیا کرونا کے خوف سے لاک ڈائون میں چلی گئ ۔لاکھوں لوگ مر چکے ْ اربوں ڈالرز کا سرمایہ ڈوب چکا ْ معیشت تباہ وبرباد ہوچکی ْ ۔

اب بھی دنیا کے ٹھیکے داروں کو شرم نہ آئ توکب آۓ گی ؟اگر مظلوموں کا استحصال بند کر دیا جاۓ تو شائید اللہ انہیں معاف کردے اور دنیا اپنی اصل حالت پربحال ہو جاۓ ۔۔ حیرت تو اس بات کی ہےکہ جو اقوام شخصی آزادی کی علمبردار بنتی ہیں جہاں پر ہر انسان کو مکمل فکری اور عملی آزادی کا اختیار دینے کادعویٰ کیا جاتا ہے ْ جو لوگ کتوں بلیوں کے لیۓ بھی درد دل رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں کشمیر میں سسکتی تڑپتی انسانیت نظر کیوں نہی آتی ؟؟؟؟سلامتی کونسل کے اجلاس منعقد کرنے والے باشعور ْعقل ودانش کے علمبردار ْ اور او۔آئ ۔سی ۔جیسی فعال تنظیمیں کہاں گم ہیں ؟

خدا کی لاٹھی بے آواز ہے ۔۔۔۔ شائیداس کا کچھ تو اندازہ دنیا کو ہو ہی چکا ہوگا ۔۔۔۔۔۔اب بھی وقت ہے بھارت پر دباؤ ڈال کر اسے اپنی فوجیں کشمیر سے ہٹانے کی کوشش سب مل کر کریں ۔مظلوم کی آہ اور اللہ کے درمیان کچھ بھی حائل نہی ۔" کشمیر جنت نظیر "کو آزادی کا حق دیا جاۓ ْ اللہ کے غضب سے بچ جائیں ورنہ جو رب کائنات ایک معمولی جزثومے سے پوری دنیا کی آزادی کو عارضی طور پر سلب کر سکتا ہے وہ ہمیشہ کے لیۓ بھی اس سے محروم کردینے پر قادر ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */