جب وہ کٹھہرے میں تھا - سیدہ ابیحہ مریم

وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں اس کے علاوہ سب جانور تھے. بکری، بیل، گاۓ اور دنبہ وغیرہ. اس نے ادھر ادھر دیکھا تو کمرے کا نقشہ عدالت کا منظر پیش کر رہا تھا. اور کچھ دیر بعد کالے گون میں ملبوس قاضی کو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ وہ عدالتی کمرے میں ہے. یہ خیال آتے ہی اس کا دل 'دھک دھک' کرنے لگا. اس کے ذہن میں ماضی کی ساری غلطیاں گردش کرنا شروع ہو گئیں.

امی کی مار،بابا کی ڈانٹ اور محلے والوں کی گالیاں،سب کچھ. جی ہاں! کٹہرے میں کھڑا یہ لڑکا کوئی اور نہیں بلکہ محلے کا شرارتی ترین لڑکا عاقب ہی تھا."اب جبکہ مجرم کٹہرے میں آ چکا ہے تو عدالت کی کارروائی شروع کی جائے." قاضی کا تحکمانہ جملہ سنتے ہی وکیل کہنے لگا "محترم جج صاحب اس بارہ سالہ لڑکے عاقب منیب کے خلاف بے گناہ جانوروں پر ظلم کا کیس دائر ہے." ایک دم، کٹہرے میں کھڑے عاقب کے چہرے کا رنگ بدلا. سارا معاملہ اس کی سمجھ میں آ گیا تھا. اس نے ایک حیران کن نظر سامنے بیٹھے جانوروں پر ڈالی اور پھر سے وکیل کی طرف متوجہ ہو گیا. وکیل قاضی سے مخاطب تھا "آپ کی اجازت سے میں لڑکے کے خلاف گواہان پیش کرنا چاہوں گا." قاضی کے منہ سے "اجازت ہے!" کا لفظ سنتے ہی عاقب پریشان ہو گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہاں وہ تمام جانور موجود ہیں جنہیں اس نے تنگ کیا تھا اس نے اپنی پریشانی چھپاتے ہوۓ سامنے دیکھا تو سامنے والے کٹہرے میں ایک گاۓ کھڑی تھی جس کی آنکھوں میں آنسو اور گال پر زخم تھے.

"جی شروع کیجئے محترمہ!"قاضی نے گاۓ سے کہا اور وہ بولنے لگی "جج صاحب! کل صبح اسکول جاتے ہوئے اس بدتمیز لڑکے نے مجھے بہت زور سے اپنی پانی کی بوتل ماری اور مجھے کسی کو مارنے کی مہلت دیۓ بغیر یہ ظالم وہاں سے بھاگ گیا. جج صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اگلے ہفتے میں اپنے رب کے لئے قربان ہو جاؤں گی اس کے باوجود بھی یہ ظلم... میں چاہتی ہوں آپ اسے سخت سے سخت سزا سنائیں."اس کے بعد بھی بہت سے جانور آۓ اور آخر میں یہ بول کر چلے گئے کہ عاقب کو ایسی سزا دیں کہ وہ سدھر جاۓ. عاقب نے کچھ نہیں کہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ سب سچے ہیں لیکن اس زخمی بکری کی کہانی سن کر سب کی آنکھوں میں آنسو آ گۓ، جو اپنی زخمی ٹانگ سے چل کر کٹہرے میں آئ اور اپنا دکھڑا سنایا کہ عاقب نے کس طرح اسے اور اس کے دو ننھے بچوں کو زخمی کیا جو اگلے ہفتے بقرہ عید پر ذبح ہو جائیں گے.

یہ سن کرعاقب کا دل چاہا کہ کہ کوئ اس کی بھی حمایت کرے اور اس نے ادھر ادھر دیکھا تو ادھر اس کا کوئی وکیل نہیں تھا وہاں موجود سب لوگ ایک انسان کے بجاۓ جانوروں کا ساتھ دے رہے تھے. اسے ایک لمحے کے لیے غصہ آیا لیکن بکری کی اگلی بات سن کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا. بکری کا کہنا تھا کہ "جج صاحب!میں بس یہ کہ کر اجازت چاہوں گی کہ عاقب ابھی چھوٹا لڑکا ہے میں چاہتی ہوں کہ وہ یہ جان لے کہ ہم جانور انسانوں کے لئے بہت کام کرتے ہیں آپ لوگ ہمارا دودھ پیتے ہو. گوشت کھاتے ہو. گاۓ، بیلیں ہل چلانے میں آپکی مدد کرتی ہیں. خصوصاً ہم قربانی کے جانور ساری زندگی انسانوں کی خدمت کرتے ہیں اور آخر میں اپنے رب کے لیے جان قربان کر دیتے ہیں. اس مشکل زندگی کے دوران اگر لوگ ہمیں عاقب کی طرح تنگ کرنے لگے تو دنیا میں تو بچ جائیں گے مگر قیامت کے روز وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے.

میں چاہتی ہوں کہ عاقب اس بارے میں سوچے اور اللہ کے عذاب سے بچنے کی تدبیریں کرے." عاقب یہ سن کر حیران رہ گیا کہ ایک جانور اسے اللہ کے عذاب سے متنبہ کر رہا ہے. اب جج کی طرف سے فیصلے کا انتظار تھا. سب جانتے تھے نتیجہ کیا ہوگا. لڑکے کو بھی معلوم تھا کہ اسے نہ کسی دلیل کی ضرورت ہے اور نہ ثبوت کی کیونکہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا. اب اسے قاضی کے بجائے اللہ کے عذاب سے بچنے کی تیاری کرنی تھی. ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک جانی پہچانی آواز کانوں سے ٹکرائی جس سے اس کی آنکھیں کھل گئیں.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */