کشمیر کے مستقبل کا خواب - سمیرا غزل

کشمیردرد کی وہ طویل شب ہے جس کی سحر کے ہم آج بھی منتظر ہیں۔ کشمیر وادی دلگیر،جو تھا کبھی جنت نظیر،بہار کی تصویر آج ہے ایک خونی لکیر،جس کے زخم 73 سال سے ہرے ہیں۔اور ان زخموں میں اگر غیروں کی جفا کے تیر گڑے ہیں تو اپنوں کے لگائے ہوئے نشتر بھی ہیں۔وہ کشمیر جسےایک مشکوک معاہدے کے تحت ہتھیا لیا گیا،وہ کشمیر جسے ماضی میں ہندو راجہ کی ہوس کی بھینٹ چڑھاہا گیا،وہ کشمیر جس کے خوابوں کو نوچا گیا،بھنبھوڑا گیا،یہاں تک کہ اس کی آنکھوں سے خون بہنے لگا،پاوں فگار،زخمی انگلیاں،چھلنی بدن اور کٹا ہوا دل لیے ہر دن پرانے خواب مار کر نئے خواب سجا لیتا تھا۔

جہاں کے جوانوں پر جھوٹے مقدمات چلائے جاتے اور اس کی آڑ میں موت کی سزا سنا کر ناحق قبر تک پہنچایا جاتا ہے۔وہ کشمیر جہاں آہیں،آنسو ،سسکیاں زندہ ہیں۔وہ کشمیر جس کی سہاگنوں کی آنکھ سے کاجل بہتا ہے۔وہ کشمیر کہ جس کے حسن میں گائے گئے طربیہ گیت المیہ بن چکے ہیں۔وہ کشمیر جس کے گالوں کی سرخی کملا چکی ہے۔وہ کشمیر جس کا سبز لباس سیاہ ہوچکا ہے۔وہ کشمیر جس کے ساتھ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے لطیفے کیے گئے۔وہ کشمیر جس کے ساتھ صوابدیدی اختیارات دینے کے نام پر استہزا کیا گیا۔وہ کشمیر جس کے اختیار کو آزادی کے وقت کچلا گیا ایک بار پھر آزادی کے مہینے میں اس کی بچی کچھی حیثیت کو مودی عفریت نے نگل لیا۔وہ کشمیر جس کے جھرنے لوگوں کے درد چنتے تھے آج آنسو بن چکے ہیں۔وہ کشمیر جو بوڑھی آنکھوں سے اپنوں کی طوطا چشمی کو دیکھ کر آنسو بہاتا ہے۔وہ کشمیر جس نے اپنے ماں جایوں کے ساتھ مل جانے کے لیے طویل جدوجہد کی۔وہ کشمیر جس نے اپنی شناخت کو زندہ رکھا۔

وہ کشمیر جس نے پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر دین کا سودا نہ کیا۔وہ کشمیر جس بے توحید کے متوالوں کو امان دی اور رام کے پجاریوں کے دانت کھٹے کردیے۔وہ کشمیر جس کی سانس میں پاک خوشبو بسی تھی،جو اس دیوار کو گرادینا چاہتا تھا جو اسے اس کے ماں جائے سے ملنے سے روک وہی تھی۔وہ کشمیر جس کی بیٹیوں نے اپنے زیور تیر اور تلوار کے عوض رہن رکھ دیے۔
وہ کشمیر جس کی سہاگنوں نے پازیب کی جھنکار پر گولیوں کی بوچھاڑ کو ترجیح دی۔جنھوں نے وطن کی محبت میں ہجر کے لمحوں کی اذیت چنی اور وصل کو پاک دھرتی پر قربان کر دیا۔
وہ کشمیر جس کی برف پوش وادیوں میں ہیروں نے پناہ لی ہوئ ہے۔وہ کشمیر جس کے پہلو میں آزادی کی دلہن اب سہمی پڑی ہے۔وہ کشمیر جس کے خواب گورداس پور اور جونا گڑھ والوں کی طرح ادھورے رہ گئے۔وہ کشمیر جس کے ارمان اجڑی ہوئ دلی بن گئے۔وہ کشمیر جو نہتا ہو کر بھی ہار نہ مانتا تھا آج ااپنوں کے لگائے ہوئے زخموں سے چور ہے۔وہ کشمیر بہت رنجور ہے۔وہ کشمیر جس کے چنار خوں چکا داستانوں کی وہ کہانی سناتے ہیں جس میں نسلیں جیتی اور مرتی ہیں۔

وہ کشمیر جس کی جھیل ڈل جس کے سرووسمن آج پھر خونبار ہیں۔اس کے غنچوں اور کلیوں پر سوالوں کے انبار ہیں۔جس کی مسلی ہوئ آنکھیں اب کسی نئے خواب کو دیکھنے میں کتنا وقت لیں گی؟نہیں معلوم۔جس کی مزگاں پر چمکتے تارے کب خوشی کی بارش بن کر برسیں گے کیا خبر؟خبر ہے تو یہ کہ لوگ تھکنے لگے کل جب ان کا اخری اختیار بھی چھین لیا گیا اور بزرجمہر زبانی جمع خر چ کے بعد خاموش ہوگئے۔جنھوں نے کرتار پور کے راستے کھولے۔رام مندر بنانے کی تیاریاں کیں مجبورا منہ دھونا پڑا۔کرتار پور راہداری کی خوشی میں نوجوت جوت جگاتا رہا مگر کوئ اس سے سوال کرنے والا نہ تھا کہ بدلے میں کشمیر دلواو گے؟حد تو یہ ہے کہ کشمیر سے زندہ رہنے کے اسباب چھینے جارہے تھے اور حکمران خر مستیوں میں گم تھے۔
یسین ملک کو مسلسل ٹارچر کیا گیا،گرفتاریاں ہوئیں کشمیر کے عوام نہیں تھکے تھے،سید علی گیلانی جیسے بزرگ پر توڑے گئے تمام ستم ہر صبح آزادی کا خواب دکھا کر جگاتے رہے۔
لیکن جب اپنوں نے منہ موڑا تو کشمیر کا دل توڑا،آج کشمیر کا دل لہو لہان ہے۔

اس کے آبشار خون بہاتے ہیں۔اس کے پہاڑ غمزدہ ہیں۔اور اس کی زلف پریشاں کھوج رہی ہے وہ راستہ جس پر ان قدموں کے نشان تھے جو مقصد کے حصول کے لیے ہزاروں فٹ کی بلندی پر جاتے تھے۔ڈھونڈھ رہی ہے وہ منزل جس کا پہلا لفظ آزادی ہے۔کشور حسین شاد باد کہنے والوں کو کون بتائے کہ کشمیر تمھاری گمشدہ جنت ہے۔تم سانس نہیں لے سکتے کہ کشمیر تمھاری شہ رگ ہے۔سنیں!وہ جو ظالم ہیں۔وہ جو بے وفا ہیں۔بے شک کشمیر بے اماں ہےحالات کی پیدا کردہ مایوسی کا راج ہےمگر اب بھی کوئ ہے جو اپنی نحیف اور نزار آواز میں کہہ رہا ہے
طویل شب کے آگے ڈٹ جاو ڈرو اور جھکو نہیں۔

ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے اور اپنی دلیل کی خوشبو نئے مسافر کو تھما جاتا ہے۔بس اسی کارواں کا ترانہ ہے یہکفن کا سہرا پہن کے اپنے لہو کی مہندی رچاوں گا میں اور اس کے نتیجے میں مستقبل کا کشمیر آزاد ،خوشحال اور باختیار نظر آتا ہے۔ پاک دھرتی میں،پاک خطے میں آنکھ مچولی اور اونچ نیچ کا پہاڑ کھیلتے ہوئے۔انشاء اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */