سنت ابراہیمی ، دینی تہوار کوتفریح اورمحض ڈشز، کھابوں سےمنسلک کرنے کی کاوش - محمد عاصم حفیظ

کیا آپ نے دنیا میں کوئی ایسی قوم دیکھی ہے کہ جو اپنی مذہبی روایات ، دینی شعائر اور روحانی اقدار کو بھی طنز ومذاق ، فحاشی اورتفریح کی نظر کر دے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے مذہبی رمضان المبارک میں جس طرفلمی دنیا کے ستاروں سے مذہبی پروگرامز ، کوئز شوز اور ہلے گلے والے شوز کرائے جاتے ہیں ۔

جبکہ عبدالاضحی اور قربانی جو کہ سنت ابراہیمی ؑ اور نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک خاص دینی فریضہ ہے اسے نمود و نمائش ، جانوروں کی سج دھج اور طرح طرح کے پکوان تیار کرنے کی پہچان دی جا رہی ہے ۔ مویشی منڈیوں میں کیٹ واک کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کی خوب تشہیر ہوتی ہے ۔ میڈیا پرآنے کے شوق میں لوگوں سے عجیب و غریب حرکتیں کروائی جاتی ہیں۔ جانوروں کے نام ” ڈان “ ، پپو اور فلمی اداکاروں کے نام پررکھے جاتے ہیں ۔ کبھی وہ وقت تھا کہ رمضان المبارک اور حج و قربانی قریب آتے ہی ان مقدس ایام کی فضیلت ، روحانیت، مقاصد اور فلسفہ پر بات کی جاتی تھی ۔ علمائے کرام اور سکالرز اس حوالے سے قرآن پاک اور سیرت النبیﷺ کی روشنی میں مسائل اورفضائل کا تذکرہ کرتے ۔ لیکن اب ہر دینی تہوار کو بھی انٹرٹیمنٹ کا تڑکہ ضرور لگایا جاتا ہے بلکہ اس قدر لگایا جاتا ہے کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ تہوار تو جیسے ہے ہی تفریح کے لئے ہے ۔

اگر آپ میڈیا کی نظر سے دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے پورے ملک میں ہر قربانی کے جانور کی قیمت لاکھوں میں ہے ۔ لوگ مویشی منڈیوں میں صرف ایسے جانور ڈھونڈتے نظر آتے ہیں کہ جو ماڈلز کے انداز میں کیٹ واک کا تجربہ رکھتے ہوں ۔ قربانی کو تو جیسے مقابلہ بازی کی ایک دوڑ بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔اور اس کا مقصد تو جیسے صرف مہنگے جانور خریدنا ، ان کی کیٹ واک کرانا ، ان کے ساتھ سیلفیاں بناناہی ہے۔ اس سارے ہنگامے میں سنت ابراہیمی ؑ کی ادائیگی اور دینی جذبہ تو کہیں کھو سا ہی گیا ہے۔ اس کے بعد عید کا دن آئے گا تو قصائیوں ، جانوروں کو لیکر مزاحیہ خاکے بنائے جائیں گے ۔ سجے سجائے ٹی وی شوز میں ٹاپ ماڈلزعید کے دن اس دینی تہوار پر اپنی رائے اور اسکی اہمیت و فضیلت پر اظہار خیال کرتی نظر آئیں گی ۔ اس دوران ایک اور اہم ترین موضوع ہوگا پکوانوں کی تیاری کا ۔

ہرچینل پکڑپکڑ کر ماہر باورچی بلائے گا اور نئی نئی ڈشز بنانے کے تراکیب پیش کرے گا۔ باقی رہے قربانی کے دینی مسائل ، اس کے اجر و ثواب کے لئے کوشش اور اللہ کی رضا کے حصول کا جذبہ ان کا تذکرہ تک نہیں ہوتا ۔ قربانی اور عید کے بارے میں ہمارے معاشرتی رویے کس قدر بدلے ہیں اس سے ہم اپنی قومی زوال کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شائد ہم دنیا کی واحد ایسی قوم ہوں کہ جس نے اپنی دینی روایات اور مذہبی شعائر کو مذاق ، فحاشی ،طنز و مزاح ، لالچ اور نمودونمائش کاشکار بنا دیا ہے !!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */