اسلام اور جدید سائنسی حقائق - عبدالخالق بٹ

اسلامی علوم بالخصوص قرآن و سنت کے حوالے سے تحقیق، تفسیر، تشریح، تسہیل اور تفہیم کا کام صدیوں پر محیط ایک مستحکم اور درخشندہ تاریخ کا حامل ہے۔ اس ضمن میں محققین، مفسرین اور متکلمین نے جس عرق ریزی اور جاں فشانی کا مظاہرہ کیا، اس کے نتیجے میں دنیا کا بہترین دینی ادب منصۂ شہود پر آیا۔ صدہا سال پر محیط مسلمانوں کے علمی عروج کے زوال کا آغاز1258ء میں سقوطِ بغداد سے ہوا، جو 1924ء میں سقوطِ خلافت عثمانیہ پر تمام ہوا۔ دوسری جانب یورپ اس دوران نشاۃ ثانیہ کے عمل سے گزر رہا تھا۔ جہاں سائنسی علوم کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں بیداری کی لہر جاری تھی۔ سترہویں صدی میں برق و بھاپ کی قوتوں کے بعد اس لہر میں مزید تیزی آئی،جب کہ مارٹن لوتھر کی ’’تحریک ِاصلاح مذہب‘‘ اور پاپائیت کے خلاف علم بغاوت نے مذہب (عیسائیت) کو سائنس کے مقابل سوالیہ نشان بنا دیا۔ اس تحریک سے متاثر، بعض غیر مسلموں اور مغربی تہذیب و ترقی سے مرعوب مسلمانوں نے خود اسلام کو بھی سائنسی معیار پر پرکھنے کی کوشش کی۔ وہ اس بات کے قائل نظر آتے تھے کہ ’’اسلام اور سائنس کا ارتباط اور اتصال محال ہے۔

ہر عہد کا اپنا ایک محاورہ اور معیار ہوتا ہے جس کے مطابق نظریات کی تفہیم و تجزیہ کیا جاتا ہے، یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے آغاز سے ہی ’’سائنس‘‘ اپنے عہد کا محاورہ قرار پائی تھی اور گزرنے والے مہ و سال اس کے محکم ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر رہے تھے، ایسے میں درپیش صورت حال کا مسکت جواب دینے کی ضرورت محسوس کی گئی۔

’’موجودہ دورمیں اسلام کے علم الکلام کی بنیاد بھی جدید تجرباتی علوم کی دریافتوں پر استوار ہونی چاہیے، اس لیے کہ ان کے نتائج قرآنی افشائے حقیقت سے ہم آہنگ ہیں، چناں چہ دین کا سائنٹیفک علم موجودہ دور کے مسلمانوں کے اعتقاد کو پختہ اور راسخ بنادے گا۔‘‘ (علامہ محمد اقبالؒ؍دیباچہ: فکر اسلامی کی تشکیل نو)

اس پس منظر میں ’’اسلام اور سائنس‘‘ کے باہمی ربط کی بنیادوں کی تلاش کا آغاز ہوا۔ اس باب میں ایک نمایاں نام مصر سے تعلق رکھنے والے ’’علامہ طنطاوی جوہری‘‘ کا ہے، جنہوں نے ’’جواہر القرآن‘‘ کے نام سے ایک مفصل تفسیر قرآن مرتب کی، جس میں اپنے عہد تک کی سائنسی ایجادات و ترقی کو قرآن کی روشنی میں پرکھا اور کوشش کی کہ یہ دکھائیں کہ قرآن میں جتنے سائنسی بیانات آئے ہیں، ان کی اب تک کے سائنسی تجربے اور تحقیق نے تائید کی ہے۔ ’’اسلام اور سائنس‘‘ کے باب میں دوسرا نمایاں نام ترکی سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ محقق ہارون یحییٰ کا ہے (جو عدنان اوکتار اور عدنان حوقا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)۔ ہارون یحییٰ کے مذکورہ موضوع پر اب تک متعدد کتب، مقالا جات اور لیکچر سیریز منظر عام پر آچکی ہیں، جنہیں مختلف حلقوں بالخصوص نوجوانوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔ عصر حاضر میں ’’اسلام اور سائنس‘‘ کے حوالے سے خدمت دین کا فریضہ انجام دینے والوں میں ایک مقبول نام ’’ڈاکٹر عبدالکریم ذاکر نائیک‘‘ کا بھی ہے، جو اپنے ادارے اسلامک ریسرچ فائونڈیشن کے پلیٹ فارم سے یہ خدمت بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں گو کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا انداز مناظراتی ہے، تاہم اپنے مدلل اندازِ تخاطب کی وجہ سے وہ ہر سطح پر یکساں مقبول ہیں۔ ان کے لیکچرز کے متعدد مجموعے، سی ڈیز اور کتابی صورت میں عام دستیاب ہیں۔ مذکورہ کامیاب کوششوں نے بہت سوں کی ہمت باندھی اور انہوں نے سائنس کی مختلف جہات پر کام کیا۔ مختصر تعارف حسب ذیل ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک نام ’’ڈاکٹر ہلوک نور باقی‘‘ کا ہے، جن کی کوششیں ’’قرآنی آیات اور سائنسی حقائق‘‘ کے نام سے منظرِعام پر آئیں۔ (اردو زبان میں اس کاترجمہ عام دستیاب ہے)

پاکستان میں اس موضوع پر کام کرنے والوں میں ایک معتبر نام ’’ڈاکٹر خالد غزنوی‘‘ کا ہے، جنہوں نے ’’طب نبویؐ اور جدید سائنس‘‘ کے عنوان کے تحت احادیث میں وارد مختلف پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیاء کے خواص پر بحث کی ہے اور انہیں مختلف امراض میں نافع قرار دیا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد میں آغا اشرف (معراج اور سائنس)، ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری (سائنسی انکشافات قرآن و حدیث کی روشنی میں) اور پروفیسر ڈاکٹر دلدار احمد قادری (قرآن کے سائنسی معجزے) کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ (یہ صرف چند نام ہیں ورنہ یہ موضوع اپنی کیفیت و کمیت کے اعتبار سے خود تحقیق کا متقاضی ہے)

’’اسلام اور سائنس‘‘ پر صرف اسلامی دنیا میں ہی کام نہیں ہوا، بلکہ اسلام کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوششیں یورپ میں بھی جاری ہیں۔ اس بارے میں سب سے نمایاں نام فرانس سے تعلق رکھنے والے سائنس دان اور ماہر امراض قلب ڈاکٹر موریس بوکائیے (پیدائش19 جولائی1920۔وفات17 فروری 1998) کا ہے،جن کی تحقیقی کاوش بصیرت افروز بھی ہے اور ایمان افروز بھی۔ ڈاکٹر مورس بکائیے فرانس کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر اور سعودی شاہ فیصل بن عبدالعزیزکے ذاتی معالج تھے۔ ایک روز جب وہ اپنی پیشہ ورانہ خدمت کی انجام دہی کے لیے ریاض (سعودی عرب) کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے کہ انہیں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا، ڈاکٹر مورس بکائیے نے اس ترجمے کا کئی بار بالا ستیعاب مطالعہ کیا اور اس میں موجود بعض ایسے بیانات جو سائنسی نوعیت کے تھے، مثلاً ارض وسماء کی تخلیق اور انسانی پیدائش وغیرہ، کو نہایت دل چسپی سے پڑھا اور انہیں نشان زد کرتے گئے۔ ریاض سے پیرس واپسی پر انہیں اسی تناظر میں بائبل کو پڑھنے کا خیال آیا۔ یوں انہوںنے بائبل کے ایسے نکات یکجا کرلیے جو سائنسی انکشافات پر مبنی تھے، بعد ازاں انہوں نے بائبل اور قرآن کے ان بیانات کو جب سائنسی معیار پر پرکھا تو جو حقیقت سامنے آئی وہ نہایت حیران کن تھی،یعنی بائبل کے سائنسی انکشافات سو فی صد غلط اور قرآن کے سائنسی انکشافات سو فی صد درست ثابت ہوئے۔

ڈاکٹر مورس بکائیے کی یہ کاوش اول اول فرانسیسی زبان میں "La bible, le coranet la science" کے عنوان سے سامنے آئی، جسے دنیا بھر میں پزیرائی حاصل ہوئی اور متعدد زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔اردو میں یہ کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ کے نام سے عام دستیاب ہے۔ قرآنی اکتشافات کے سائنسی اثبات نے ڈاکٹر موریس بکائیے کے شوق جستجو کے لیے مہمیز کا کام کیا، چناں چہ اس بار انہوں نے ’’صحیح بخاری‘‘کا انتخاب کیا، جو اپنی اسناد کی پختگی کی وجہ سے ’’بعد از قرآن اصح الکتاب‘‘ کہلاتی ہے۔ ڈاکٹر مورس بکائیے نے ’’صحیح بخاری‘‘ کی ایسی سو روایات کا انتخاب کیا، جن سے کسی نہ کسی طور سائنسی پہلو نکلتا تھا۔ بعد ازاں ان روایات کو سائنسی معیارات پر جانچ کر اسے ایک مقالے کی صورت دی اور اشاعت سے قبل اسے مطالعے کے لیے پیرس ہی میں مقیم بین الاقوامی شہرت یافتہ محقق، سیرت نگار اور اسلام کے بین الاقوامی قانون پر اتھارٹی کا درجہ رکھنے والے عالم باعمل ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش فروری 1908،انتقال 17 دسمبر 2002ئ) کی خدمت میں پیش کیا۔

ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق مورس بکائیے نے صحیح بخاری کی منتخب سو روایات میں سے اٹھانوے روایات میں بیان کردہ سائنسی حقائق کو حرف بہ حرف درست قرار دیا۔ تاہم مندرجہ ذیل دو روایت پر انہیں اعتراض تھا کہ یہ سائنسی بنیادوں پر تسلیم نہیں کی جا سکتیں۔ اول یہ کہ(مفہوم): ’’مکھی کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے‘‘۔ ثایناً (مفہوم) ’’قبیلہ عرینہ کے وفد کی مدینے آمد کے بعد ایک مخصوص بیماری میں مبتلا ہونے پر ان کے لیے اونٹ کا پیشاب اور دودھ بہ طور دوا تجویز کرنا‘‘۔ پہلی روایت پر ڈاکٹر موریس بکائیے کا اعتراض یہ تھا کہ مکھیاں تو بیماری پھیلاتی ہیں۔ ان کے پروں میں شفا ہونا ممکن نہیں، جب کہ دوسری روایت میں اونٹ کے پیشاب کو بطوردوا تسلیم کرنے میں اسے تامل تھا۔

’’ ڈاکٹر حمید اللہ نے موریس بکائیے سے کہا کہ میں نہ تو سائنس دان ہوں نہ میڈیکل ڈاکٹر ہوں، اس لیے میں آپ کے ان دلائل کے بارے میں سائنسی اعتبار سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن ایک عام آدمی کے طور پر میرے کچھ شبہات ہیں جن کا آپ جواب دیں پھر اس تحقیق کو اپنے اعتراضات کے ساتھ ضرور شائع کردیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے میٹرک میں سائنس کی ایک دو کتابیں پڑھی تھیں ،اس وقت مجھے کسی نے بتایا تھا کہ سائنس دان جب تجربات کرتے ہیں تو اگر ایک تجربہ دو مرتبہ صحیح ثابت ہو جائے تو سائنس دان اسے پچاس فی صدر درجہ دیتا ہے اور جب تین چار مرتبہ صحیح ہو جائے تو اس کا درجہ اور بڑھ جاتا ہے اور چار پانچ مرتبہ کے تجربات میں بھی اگر کوئی چیز صحیح ثابت ہو جائے تو آپ کہتے ہیں فلاں بات سو فی صد صحیح ثابت ہوگئی ،حالاں کہ آپ نے سو مرتبہ تجربہ نہیں کیا ہوتا۔ ڈاکٹر موریس نے کہا کہ ہاں واقعی ایسا ہی ہے۔ اگر چار پانچ تجربات کا ایک ہی نتیجہ نکل آئے تو ہم کہتے ہیں کہ سو فی صد یہی نتیجہ ہے۔ اس پر ڈاکٹر حمیداللہ نے کہا جب آپ نے صحیح بخاری کے سو بیانات میں سے اٹھانوے تجربات درست قرار دے دیے ہیں تو پھر ان دو نتائج کو بغیر تجربات کے درست کیوں نہیںمان لیتے؟جب کہ پانچ تجربات کر کے آپ سو فی صد مان لیتے ہیں۔یہ بات تو خود آپ کے معیار کے مطابق غلط ہے۔ اس پر ڈاکٹر موریس بکائیے نے اسے تسلیم کیا کہ واقعی ان کا یہ نتیجہ اور یہ اعتراض غلط ہے۔ دوسری بات ڈاکٹر حمید اللہ نے یہ کہی کہ میرے علم کے مطابق آپ میڈیکل سائنس کے ماہر ہیں، انسانوں کا علاج کرتے ہیں۔ آپ جانوروں کے ماہر تو نہیں ہیں تو آپ کو پتا نہیں کہ دنیا میں کتنے قسم کے جانور پائے جاتے ہیں؟ کیا آپ کو پتا ہے کہ دنیا میں کتنی اقسام کی مکھیاں ہوتی ہیں؟ کیا آپ نے کوئی سروے کیا ہے؟

دنیا میں کس موسم میں کس قسم کی مکھیاں پائی جاتی ہیں؟ جب تک آپ عرب میں ہر موسم میں پائی جانے والی مکھیوں کا تجربہ کر کے اور ان کے ایک ایک جزو کا معائنہ کر کے لیبارٹری میں چالیس پچاس سال لگا کر نہ بتائیں کہ ان میں کسی مکھی کے پر میں کسی بھی قسم کی شفا نہیںہے،اس وقت تک آپ یہ مفروضہ کیسے قائم کر سکتے ہیں کہ مکھی کے پر میں بیماری یا شفا نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر مورس بکائیے نے اس سے بھی اتفاق کیا کہ واقعی مجھ سے غلطی ہوئی۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ تحقیق کر کے ثابت کریں کہ مکھی کے پر میں شفا نہیں ہوتی تو یہ کیسے پتا چلے گا کہ چودہ سو سال پہلے ایسی مکھیاں نہیں ہوتی تھیں، ہوسکتا ہے ہوتی ہوں، ممکن ہے ان کی نسل ختم ہو گئی ہو۔ جانوروں کی نسلیں تو آتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں۔ روز کا تجربہ ہے کہ جانوروں کی ایک نسل آئی اور بعد میں وہ ختم ہوگئی۔ تاریخ میں ذکر ملتا ہے اور خود سائنس دان بتاتے ہیں کہ فلاں جانور اس شکل اور فلاں اُس شکل کا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر موریس بکائیے نے اسے بھی تسلیم کیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحبؒ نے کہا کہ میں بہ طور ایک عام آدمی کے یہ سمجھتا ہوں کہ بعض بیماریوں کا علاج تیزاب سے بھی ہوتا ہے۔ دوائوں میں کیا ایسڈ شامل نہیں ہوتے؟ جانوروں کے پیشاب میں کیا ایسڈ شامل نہیں ہوتا؟ ہو سکتا ہے کہ بعض علاج جو آج خالص اور آپ کے بقول پاک ایسڈ سے ہوتا ہے تو اگر عرب میں اس کا رواج ہو کہ نیچرل طریقے سے لیا ہوا کوئی ایسا لیکویڈ جس میں تیزاب کی ایک خاص مقدار پائی جاتی ہو ،وہ بطور علاج کے استعمال ہوتا ہو تو اس میں کون سی بات بعید از مکان اور غیر سائنسی ہے۔

پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آج سے کچھ سال پہلے میں نے ایک کتاب پڑھی تھی۔ایک انگریز سیاح تھا جو جزیرہ عرب کی سیاحت کر کے گیا تھا۔ اس کا نام ’’ڈائونی‘‘ تھا۔ اس نے عرب کا دورہ کیا تھا اور دو کتابیں لکھی تھیں، جو بہت زبردست سمجھی جاتی ہیں۔ ایک کا نام Arabia deserta اور دوسری کا نام Arabia Petra ہے۔ یعنی جزیرہ عرب کا صحرائی حصہ اور جزیرہ عرب کا پہاڑی حصہ۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے اتنی کثرت سے یہاں سفر کیا ہے۔ یہ اپنی یادداشت میں لکھتا ہے کہ جزیرہ عرب کے سفر کے دوران ایک موقع پر میں بیمار پڑگیا، پیٹ پھول گیا، رنگ زرد پڑگیا اور مجھے زرد بخار کی طرح ایک بیماری ہوگئی، جس کا میں نے دنیا میں جگہ جگہ علاج کروایا، لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا۔ آخرکار جرمنی میں کسی بڑے ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ جہاں تمہیں یہ بیماری لگی ہے، وہاں جائو، ممکن ہے کہ وہاں کوئی مقامی طریقہ علاج ہو یا کوئی عوامی انداز کا کوئی دیسی علاج ہو، کہتے ہیں کہ جب میں واپس آیا تو جس بدو کو میں نے خادم کے طور پر رکھا ہوا تھا اس نے دیکھا تو پوچھا کہ یہ بیماری آپ کو کب سے ہے؟ میں نے بتایا کہ کئی مہینے ہوگئے ہیں اور میں بہت پریشان ہوں، اس نے کہا کہ ابھی میرے ساتھ چلئے ، وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر گیا اور ایک ریگستان میں اونٹوں کے باڑے میں لے جا کر کہا،آپ کچھ دن یہاں رہیں اور اونٹ کے دودھ اور پیشاب کے سوا کچھ اور استعمال نہ کریں، چناں چہ ایک ہفتے تک یہ علاج کرنے کے بعد میں بالکل ٹھیک ہو گیا۔مجھے حیرت ہے۔‘‘
ڈاکٹر حمید اللہ نے موریس بکائیے سے کہا یہ دیکھیے کہ 1925-26ء میں ایک مغربی مصنف کا لکھا ہوا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ سابق طریقۂ علاج ہو۔ موریس بکائیے نے اپنے دونوں اعتراضات واپس لے لیے اور اس مقالے کو انہوں نے اپنے دونوں اعتراضات کے بغیر ہی شائع کر دیا۔‘‘

یقیناً منقولہ واقعہ ایمان افروز بھی ہے اور ایقان افروز بھی۔ ’’اسلام اور سائنس‘‘ کے تناظر میں ہونے والا کام جو انفرادی اور ادارہ جاتی سطح پر انجام دیاجا رہاہے،قابل تحسین ہے، مگر ان سب کے باوجود اہل علم کا محتاط طبقہ اسلام کی حقانیت کے اثبات میں سائنسی بنیادوں کو بودا، بلکہ خطرناک قرار دیتا ہے،اس طبقے کے مطابق سائنسی انکشافات کو دوام نہیں ہے،یہ کچھ عرصے میں بدل جاتے ہیں۔ ایسے میں اسلام کی حقانیت کے لیے سائنس کم زور سہارا ہے۔ پھر یہ کہ اسلام سائنس سے بالاتر ایک الہامی دین ہے۔ فروغ علم کے باب میں سائنسی ترقی خود اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے مترادف ہے، کیوں کہ علم کا حصول اور اس کا فروغ، اسلامی تعلیمات کا ہی حصہ ہے،ایسے میںمذہب کو سائنس کے تناظر میں پرکھنا درست نہیں ہے۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */