تعلیم نہیں، علم کی جستجو کرو - ردا بشیر

میری سوچ میں صرف ایک ہی چیز مداخلت کرتی ہے۔۔۔ وہ میری تعلیم ہے۔ میری تنقیدی اور تقلیدی پہلوؤں سے سوچنے کی صلاحیت ہے۔ تعلیم، علم، معلم اور تعلم۔۔۔ بظاہر سوچنے میں اور دیکھنے میں یہ چاروں لفظ رشتے دار اور آپس میں ربط و روابط رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ جیسا نظر آتا ہے یا محض یہ ہماری آنکھوں کا دھوکہ ہے۔۔۔ حقا نیت کو اگر واضح کروں، تھوڑا تلخ ہوجاؤں گی۔۔۔ ویسے بھی زہر سے زیادہ زہریلی ہوچکی ہوں تو لفظوں میں مٹھاس، حلاوت چاشنی ڈھونڈنے کو نہ ملے گی۔۔۔ ہاں تو کہہ رہی تھی "تعلیم" اور علم" "علم اور عالم"۔ تعلیم کیا شعور دیتی ہے؟ یا علم کیا شعور دیتا ہے؟

تعلیم وہ ہے جو جب حاصل کرتے ہیں اور خود پر پڑھا لکھا ہوجانے کا لیبل لگواتے ہیں اور کاغذ کے ٹکڑے حاصل کرتے ہیں جنہیں ہم ڈگریاں کہتے ہیں اور جن کی بنیاد پر نوکریاں ملتی ہیں۔

کیا تعلیم شعور دیتی ہے؟ مجھ سے اگر رائے مانگی جائے تو میں سراسر نفی کرتی ہوں اس بات کی کہ تعلیم شعور دیتی ہے.... جتنے جانور نما انسان میں نے پڑھے لکھے دیکھے ہیں، اتنے گلے سڑے انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھے۔ پڑھا لکھا ہونے کا راگ الاپنے والے یہ پڑھے لکھے جاہل۔

آئیے اب علم کی طرف۔۔۔ کیا علم شعور دیتا ہے؟
جی علم شعور دیتا ہے۔۔۔
علم۔۔۔ حاصل کرنے کی جستجو ہے۔
علم۔۔۔ پیاس ہے۔
علم۔۔۔ حلاوت اور مٹھاس ہے۔
علم۔۔۔ انبیا کی میراث ہے۔
علم۔۔۔ فلسفہ اور خودی ہے۔

ذرا تھوڑی سی تکلیف ذہنوں کو دیجیے۔ کیا قرآن نے کہیں تعلیم حاصل کرنے کو کہا؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں تعلیم حاصل کرنے کو کہا؟ نہیں!
مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ کہیں ایسا ہو۔
ہاں! علم سے متعلق آپ کو بے شمار بار مل جائے گا۔ میں نے بہت ان پڑھوں میں علم دیکھا ہے میاں! علم کی توفیق ہر کسی کو نہیں عطا کی جاتی نہ ہی علم کا زیور ہر ذی روح پر سجایا جاتا ہے۔ میرا رب جس سے راضی ہوجائے اسے چن لیتا ہے۔ زمین پر سے اٹھاکر آسمان پربٹھا دیتا ہے۔ صلاحیت نکھر جاتی ہیں۔۔۔ اس پر اللہ کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔۔۔ اور اللہ کے رنگ سے بڑھ کر کوئی رنگ ہے؟ وہ سرخاب کے پر لگادیتا ہے۔۔۔ اس کی معلومات محض معلومات نہیں ہوتیں، وہ دنیا کے لیے خیر کا سبب بن جاتا ہے۔۔۔ اسے علم عطا کردیا کردیا جاتا ہے اور علم وسعت بخشتا ہے۔۔۔ سوچوں کوسیراب کرتا ہے۔۔۔ اور نفس کو تقویت بخشتا ہے۔۔۔ علم کا دروازہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داماد، حسنین و کریمین کے والد شیر خدا علی کرم اللہ نےفرمایا کہ علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔ جستجو لیکن لازم عمل ہے ۔

علم کی جستجو کو اپنا اول وآخر مشغلہ بنالو، اس کے پیاسے رہو، مانو جیسے تم صحرا اور علم کنواں ہے پانی کا۔ سیراب کرتے جاؤ، کرتے جاؤ۔۔۔ بہت گہرے اور خاموش ہوتے جاؤگے، پرسکون ہوجاؤگے۔۔۔ علم پختگی عطا کرتا ہے۔

زندگی کے ہر فیصلے میں بدلنےوالا انسان بھی کوئی انسان ہوا، ایک فیصلہ کرو بہت سوچ کر کرو۔۔۔ جب کرلو تو چٹان کی طرح اس پر قائم ہوجاؤ۔ چاہے جتنی آندھیاں طوفان راستے میں آئیں، ڈگمگانا مت، قائم رہنا۔۔۔ اللہ راستے کھولنے والا ہے۔۔۔ یقین جانیے علم سے طلسماتی شعاعیں پھوٹتی ہیں۔ جو روح کے اندر تک جاتی ہیں، اور راحت بخشتی ہیں اور اس راحت و سکون کا نشہ ساری زندگی نہیں اُترتا۔ یہ رنگ چڑھ جائے تو نہیں اترتا۔

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */