بڑی عید پہ جوّڑے - سعدیہ مسعود

میری امی ہمارے ساتھ ہی رہتی ہیں، ابو کے انتقال کے بعد ہم اصرار کر کے انہیں ساتھ لے آئے۔ میری روٹین ہے کہ دن بھر امی کے کمرے کے چکر لگاتی رہتی ہوں۔یہ دیکھنے کے لئے کہ اب کیا کر رہی ہیں، دیکھا، تھوڑا رک کر بات کی اور اپنے کام میں لگ گئی۔ شام میں ان کے پاس جا کے بیٹھ جاتی ہوں اور گپ لگاتے ہیں۔ رات کو لیکن دیر تک میرے چکر لگتے رہتے ہیں۔چاہے وہ سوئی ہوئی ہوں بس دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے ۔دن بھر کے ایسے چکر وںپر امی مجھے اکثر ویلکم نہیں کرتیں۔

سو میں سے ستانوے بار وہ مصروف ہوتی ہیں۔ نماز میں، سیپارہ پڑھنے میں، بچوں کا اسلام، خواتین کا اسلام اور اخباروں، رسالوں کی کٹنگ پڑھنے میں ،جو ایک دن پرانی اخبار سے نکالی گئی ہوتی ہیں۔ امی نے رسمی تعلیم حاصل نہیں کی۔قران پڑھ سکتی ہیں، اس لیے اردو پڑھ لیتی ہیں، لیکن روانی سے نہیں۔ ان کے لئے اخبار کے باریک اور مشکل الفاظ پڑھنا مشکل ہے۔ وہ یہ سب پڑھائی ہمیشہ بستر پر لیٹ کر ہی کرتی ہیں۔ہر دوسرے تیسرے دن میرے کسی چکر پر تکئے کے نیچے سے اخبار نکال کرکچھ الفاظ یا کوئی لائن پوچھ لیتی ہیں کہ کیا لکھا ہے میں پڑھ نہیں سکی۔ کبھی کبھی سنڈے میگزین کا کوئی آرٹیکل نکال لاتی ہیں کہ پڑھ کے سنا دو۔

پچھلے دسمبر میں ریڈایشن تھراپی کے بعدامی کمزور ہونے لگی ہیں۔ پریشان ہوتی ہیں کہ بال کیوں اتنے گر گئے ہیں، چکر زیادہ آنے لگے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی پڑھائی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ روزانہ کئی سیپارے پڑھنے ،منتخب سورتیں اور بہت کچھ ۔ مجھے لگا بہت پڑھنے سے بھی چکر آ سکتے ہیں۔ دبی دبی زبان میں کہنا شروع کیا، امی تھوڑا کم پڑھا کریں۔ تھوڑا دن میں سو لیا کریں۔ رات میں ہم دیر تک جاگتے ہیں، توآوازوں کی وجہ سے آپ نیند پوری نہیں کر رہیں۔ امی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا، وہ اپنی روٹین میں مگن رہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان کو کہاں مصروف کیا جائے کہ مطالعہ میں کچھ کمی آئے۔ آخر ایک دن باتوں باتوں میںخیال آیا اور میں نے فوری عمل کر ڈالا۔ بلی جیسا معصوم منہ بنا کر بڑے لاڈ سے کہا،” امی جی! وڈی عید آندی پئی ہے جوّڑے تاں بنا ڈو، بھلا عید دا کوئی مزہ وی ہے جوّڑیاں دے بغیر۔“جوّڑے یا جووڑے ہاتھ سے بنی یابٹی ہوئی سویاں ہیں جنہیں پپوٹے کی سویاں بھی کہتے ہیں۔ آج کل تو بازار سے سویاں خرید لی جاتی ہیں، مگر ایک زمانے میں گھروں میں میدے سے جوّڑے بنانے کا رواج تھا، خواتین عید سے کئی روز پہلے یہ بناتیں ۔

اور پھر دودھ کے ساتھ یا کھوئے میں بھنے ہوئے جوّڑے بنائے جاتے تھے۔ سرائیکی گھرانوں میں اس کا لازمی اہتمام کیا جاتا تھا ۔ میں نے اس امید میں یہ بات کہی کہ امی خوش ہوں گی میری فرمائش پر ، لیکن وہ میری ماں ہی کیا جو اپنے کسی ایکسپریشن سے کوئی ہری جھنڈی ہلا دیں۔ مایوس اٹھ آئی۔ اگلے دن جمعہ تھا۔اس روز امی خاص طور سے عبادت کا اہتمام کرتی ہیں، کئی سیپارے پڑھے جاتے ہیں، احمد پورشرقیہ والے پرانے گھر سے یہ دیکھا کہ میری بلا کی مہمان نواز ماں کو جمعہ کے روز کوئی مہمان آنابالکل نہیں بھاتا۔ بڑبڑاتی رہتیں کہ جمعہ کادن ہے، اپنے گھر نہیں بیٹھا جاتا ان سے ، وغیرہ وغیرہ۔آج کل بھی ان کی وہی روٹین ہے۔ اس دن امی کا بس نہیں چلتا کہ مجھے کمرے میں آنے سے ہی روک دیں۔ بھولے سے اگر کہہ دوں یہ دھنیا تو چن کر کاٹ دیں، میری طرف دیکھے بغیر ایسی خشک آواز جس میں چولستان ، تھر اور دنیا بھر کے تمام صحراﺅں کی خشکی شامل ہو، جواب دیتی ہیں،رکھ دو کل کاٹ دوں گی۔ لو بھلا۔

خیر ہفتے کا دن تھا تو پچھلے دن والی رکھائی اب ختم ہوگئی تھی۔ امی نے پوچھا میدہ ہے گھر میں۔میں نے دل میں نعرہ لگایا، ہرا ، لگتا ہے بات بن گئی۔ اب جلدی سے میدہ ڈھونڈا جائے۔ اتنے میں لاک ڈاﺅن کے دنوں میں میدے سے لگ بھگ ایک ہزار تجربے (ڈونٹ، کپ کیک ، کیک پزا ، شوارما وغیرہ وغیرہ)کرنے والی ہماری بیٹی لائبہ نے میدے کا پیکٹ لاکر پکڑا دیا۔ امی پیکٹ پکڑے کچن میں چلی گئیں اور میں عبد اللہ خاکوانی کی آواز پر انہیں جی ی ی ی ی کہتی ہوئی چل دی۔ گھنٹے بعد امی کے کمرے کاچکر لگا تو دیکھا کہ پیٹ پر چھَبی ( کھجور کے پتوں سے بنی چنگیر ) رکھے امی تیزی سے جوو ڑے(جوّڑے) بنا رہی ہیں۔ مجھے اچھا لگا کہ چلو کوئی اور مصروفیت شروع ہوئی۔

اب نماز، قرآن ،رسالے ،اخبار اور جوو ڑے شروع ہوگئے ۔یہ شکر ہے کہ جوو ڑے بناتے ہوے مجھے بھگا نہیں دیتیں۔ میں نے بھی بی بی سی بنتے ہوئے خاندان بھر میں خبر پھیلا دی "جوو ڑے وٹیندے پن"۔ ایک پرانی روایت کا سن کر سب کو اچھا لگا، خاص طور پر یہ کہ ماشاءاللہ صحت مند ایکٹویٹی ہے۔ امی کی صحت کے خدشات کم ہوئے۔اب ہماری باتیں ہوتی تھیں۔ میدہ ختم ہوگیا، اور منگوا دو۔ آج جو جوو ڑے بنے ہیں وہ چادر پر پھیلا دو۔ خشک جووڑے محفوظ رکھنے کے لیے ڈبہ دے دو۔ بچے عید والے دن جوو ڑے کھائیں گے۔ شیرخرمہ یاجو بھی بناﺅ تمہاری مرضی،،مگر یہ ضرور بننے چاہئیں۔کچھ دن بعد یہ اضافہ ہوا کہ جووڑے کس کس کو بھیجے جائیں گے ؟ کیسے بھیجے جائیں ؟ آنا جانا ممکن نہیں تو پوسٹ کریں ؟ نہیں وہ کم بخت مارے گم نہ کر دیں، اچھا ایسا کر لیں، اچھا ویسا کر لیں۔

عید سے پہلے مجھے بلایا اور کہا کہ اب سبھی ڈبے کھول کرجوّڑے ایک چادرپر اکٹھے کر دو۔پیکٹ بنا کر جس جس کو بھیجنا ہے بھیج دو۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ یہ بلا مبالغہ کوئی 3/ 4 کلو کے قریب تھے۔ ان کی ہدایت پر تین ڈبے بہاول پور روانہ کیے۔ ایک ڈبہ عید کے دوسرے دن شیخوپورہ گئے تو بھائی (جیٹھ) کوپہنچایا۔کچھ اپنے حصے میں سے عید کی صبح بنائے۔ امی سب سے زیادہ خوش اس بات پر رہیں کہ عامر خان کو بہت پسند آئے ہیں۔خان صاحب مزے سے کھویا والے جووڑے کھاتے اور بار بار امی کی محنت کو سراہتے رہے ،ایسی معصومیت آمیز حیرت کے ساتھ کہ گویا تاریخ انسانی میں پہلی بار ایسے عمدہ اور آرگینک قسم کے جوّڑے بنائے گئے ہیں۔ساتھ میرے ٹہوکے بھی جاری رہے کہ میری امی کی اور زیادہ تعریف کریں ۔ خیر سے عید گزر گئی، عید کے جوّڑے تو بن گئے، اب جلد ہی کوئی نیا آئیڈیا سوچنا پڑے گا، امی کو مصروف کرنے کا۔ آپ کے ذہن میں آئے تو ضرور شیئر کیجئے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */