کراچی کا المیہ: کیا ہوگا؟ - ثناء ہاشمی

کراچی کا شمار پاکستان کے ان شہروں میں ہوتا ہے جس کی اہمیت سے انکار شاید ہی کوئی ذی شعور کرے۔ کراچی دارالحوکمت ہوتے ہوئے بھی اہم تھا اور یہ حیثیت ختم ہونے کے بعد اور بھی اہم ہوگیا۔ اس شہر کی خدا ترسی ایسی ہے کہ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا، لیکن اب اس شہر پر ترس آتا ہے۔ سیاست کا محور، سیاسی بصیرت کا مسکن یہ شہر اور اس کے باسی قابل تعظیم ہیں۔ اس شہر میں علم و دانش کے ایسے ایسے ہیرے موجود تھے اور آج بھی کم سہی مگر اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہیں ،جس کی گواہ اس شہر کی سٹرکیں ہیں۔

کراچی میں رہنے والے اس شہر کی تیز ترین زندگی سے پوری طرح واقف ہیں۔ زیادہ پرانی نہیں، 1980ء کے بعد سے لے کر آج دن تک کے حالات پر ذرا نظر ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ بہت کچھ تیزی بدل گیا۔ اس شہر کی شامیں اور اس کی ٹھنڈی ہوا تک بدل گئی۔ شاید آپ یقین نا مانیں لیکن ایسا ہی ہے، یا کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ بہرحال کہنا یہ تھا کہ بلدیاتی نمایندوں کی مدت پوری ہونے کو ہے۔ کورونا وبا کے ہوتے ہوئے کیا بلدیاتی انتخابات ہوسکیں گے یا نہیں؟ اس بحث کو اٹھا رکھیں، سوال یہ ہے کہ کراچی کے موجودہ سیاسی ڈھانچے میں کیا خلا ہے؟ اور اگر اس کا جواب ہاں ہے تو پھر اگلا سوال یہ ہے کہ اس کو کیسے پُر کیا جاسکے گا؟

میرے ناقص تجزیےکے مطابق، اس وقت دور دور تک کسی نئے ایڈونچر کی نوید نہیں ہے لہٰذا کراچی کی سیاست میں اور بالخصوص آیندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم پاکستان، پی ایس پی، اور پاکستان تحریک انصاف ہی کوئی اسٹیج لگاسکتی ہے، لیکن جماعت اسلامی اور پی پی پی شاید اس طاقت کے ساتھ سامنے نا آسکیں، جس کی شاید وہ کوشش یا خواہش بھی رکھتے ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایم کیوایم پاکستان جو وفاق میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے، وہ تو بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کے ہمراہ بھی میدان میں اتر جائے گی، لیکن کیا پاک سر زمین پارٹی ایم کیوایم پاکستان کی موجودگی میں تحریک انصاف سے اتحاد کرے گی؟

اس وقت بظاہر اس کے آثار نہیں، لیکن سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ کراچی کی سیاست اور شہر کے وسیع تر مفاد میں ہاتھ ملانے اور بڑھانے کے مشورے بھی کہیں نا کہیں چل رہے ہوں گے، لیکن اب سب کی دکان الگ الگ ہے، بیچنے کے لیے کراچی ہے اور خریدار ہیں کراچی کے عوام۔ دیکھنا یہ ہے کراچی پر کونسا فارمولا لگے گا۔ ایم کیوایم کے بغیر یا پی ایس پی ایم کیوایم انضمام تحریک انصاف۔ یاد رہے اس سب میں فاروق ستار کی بحالی کی گنجائش کہیں نظر آتی نہیں، لیکن ہوا کب بدلے یہ نہیں کہا جاسکتا۔

البتہ سندھ صوبے کے شہر کراچی کی سیاسی چالیں اب عوام سے چھپی نہیں، میں نے پہلے بھی کہا اس شہر کی سیاسی بصیرت نے دارالحکومت بدل جانے کے بعد بھی اپنی ہیئت اور اہمیت برقرار رکھی ہے، میرے نزدیک اس وقت کم ازکم کراچی کی سیاسی بساط پر تحریک انصاف کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں اتحاد ہی وہ واحد حل ہوگا جو پی ایس پی کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا، لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کم از اپنے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیں گی۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بلدیاتی نمایندوں کو منتخب کرنے کی ذمہ داری اس شہر کی عوام پر ہے، لیکن عوام یہ دیکھ لیں اس شہر میں نالوں کی صفائی تک جب این ڈی ایم اے کر رہی ہے تو پھر صوبے کی حکمران جماعت سے لے کر شہری علاقوں کا دم بھرتی جماعتیں ذرا سوچیں کیا ہوگا؟ کوئی اتحاد کوئی سیاسی چال کام نہیں آنے والی کیونکہ جس مسودے کو 18 ویں آئینی ترمیم کہتے ہیں اس پر آج کی بے بس وفاقی جماعت اور صوبے کی حکمران جماعت سے لے کر اتحادی اور باقی ماندہ سیاسی جماعتوں کے دستخط موجود ہیں لہٰذا کسی نئی ترمیم کے لیے اسی اجماع کی ضرورت ہوگی جو 18 ویں آئینی ترمیم کے وقت تھا اور ایسی کوئی صورت اس وقت نظر نہیں آتی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */