عدالتوں نے کتنے گستاخوں کو سزا دی؟ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کئی دوست یہ سوال کررہے ہیں اور اس سوال کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ چونکہ عدالتیں گستاخوں کو سزا نہیں دیتیں، اس لیے ان کا ماورائے عدالت قتل جائز ہوجاتا ہے۔ یہ سوال اٹھانے والے کچھ وہ ہیں جو ماورائے عدالت قتل کو جائز تو نہیںکہتے لیکن یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ ایسا تو پھر ہوگا! اس استدلال میں چند درچند غلطیاں ہیں۔

ان غلطیوں کی وضاحت سے قبل یہ ضرور نوٹ کرلیں کہ یہی استدلال سی ٹی ڈی کی جانب سے ”دہشت گردوں“ کے ماورائے عدالت قتل، اور امریکا کی جانب سے ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں کے قتل کے جواز کےلیے ہوتا ہے۔

جیسے آپ کا مفروضہ یہ ہے کہ ملزم کا گستاخ ہونا تو پہلے ہی ثابت شدہ ہے، عدالت کا کام بس سزا دینا ہے اور جب وہ اسے سزا نہیں دیتی اور یوں اپنا کام کرنے سے گریز کرتی ہے تو ماورائے عدالت انصاف کا نفاذ نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہوجاتا ہے؛ بعینہ یہی استدلال سی ٹی ڈی جیسے اداروں اور امریکا جیسی ریاستوں کی جانب سے ان لوگوں کے قتل کے متعلق ہوتا ہے جو ان کے نزدیک عدالت میں ثابت کیے بغیر بھی دہشت گرد ثابت ہوئے ہوتے ہیں۔ عدالت کا کام صرف ان دہشت گردوں کو سزا دینا ہوتا ہے، لیکن جب عدالت ان دہشت گردوں کو سزا نہیں دیتی تو پھر ماورائے عدالت انصاف کا نفاذ ضروری ہوجاتا ہے!

ہمارے نزدیک مسئلہ گستاخ کا ہو یا دہشت گرد کا، یہ استدلال ہر دو صورتوں میں غلط ہے۔ جب تک کسی کو عدالت میں گستاخ یا دہشت گرد ثابت نہ کیا جائے، تب تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عدالت نے گستاخ یا دہشت گرد کو سزا نہیں دی۔

پھر اس پر غور کریں کہ یہی استدلال جبری گمشدگیوں کےلیے بھی کیا جاتا ہے۔ قانون نے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور اس سے تفتیش کےلیے کڑی شرائط رکھی ہیں جن کی موجودگی میں اداروں کی جانب سے کسی بھی شخص کو اٹھا لے جانا اور نامعلوم مدت تک غائب کیے رکھنا قطعاً ناجائز ہے، لیکن اداروں کی جانب سے ہمیشہ عذر ”قومی مفاد“ کا ہوتا ہے جسے وہ آزادی اور دیگر اقدار سے بالاتر سمجھتے ہیں اور اس بنا پر کہتے ہیں کہ اگر قانونی قیود کی پابندی کریں گے تو قومی مفاد کا تحفظ ممکن نہیں ہوسکے گا اور اس وجہ سے ماورائے قانون کارروائی ضروری ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس استدلال اور گستاخی کے ملزموں کے ماورائے عدالت قتل کےلیے استدلال میں جوہری فرق کیا ہے؟

اس کے بعد اس بات پر آئیے کہ عدالت کسی کو سزا تب دے سکے گی جب اس کے سامنے ایسے شواہد پیش کیے جائیں جو کسی شک و شبہے سے بالاتر ثابت کریں کہ ملزم نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ کسی بھی طرح شک کا عنصر پیدا ہوجائے، مثلاً ثبوت غیر قانونی طور پر جمع کیے گئے ہوں (جیسے فوجی عدالتوں نے ”دہشت گردوں“ کے اعترافی بیانات پر سزائیں دی تھیں)، یا گواہوں کے بیانات میں ایسے تضادات ہوں جو واقعے کو مشکوک بنادیں، یا ملزم کی ذہنی حالت ایسی ہو جو جرم کےلیے درکار ”مجرمانہ ذہن“ کی شرط پوری ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن جائے، تو عدالت سزا نہیں دے سکتی، نہ ہی اسے سزا دینی چاہیے کیونکہ ننانوے مجرموں کا سزا سے بچ جانا اس سے بہتر ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا مل جائے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمارے ہاں توہینِ رسالت کے ملزموں کے خلاف ثبوت اور گواہی کا معیار بالعموم کمزور کیوں ہوتا ہے؟ آسیہ مسیح کا کیس ہی لے لیجیے۔ سیشن کی عدالت میں کتنے گواہ پیش کیے گئے؟ پھر ہائی کورٹ میں کیا ہوا؟ وقوعے کے وقت گواہ کتنے تھے، مبینہ اقرار پر کتنے گواہوں کی موجودگی کی بات کی گئی لیکن عدالت میں کتنے آئے؟ اور جو آئے ان کے بیانات میں کتنے مسائل تھے؟ میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ گواہوں کے بیانات میں بعض تضادات کو شاید بڑھا چڑھاکر پیش کیا گیا ہو، لیکن ان میں کئی ایسے جھول یقیناً موجود تھے جن کی موجودگی میں عدالت سزا نہیں دے سکتی تھی۔ چنانچہ اس سوال پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے لوگ گواہی دینے کےلیے آگے کیوں نہیں آتے؟ وہ ملزم کا جرم عدالت میں کوثابت کرنے کے بجائے اسے گولی ماردینے کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ عام مقدمات میں تھانے اور کچہری کے چکر سے بچنے کی روش قابلِ فہم ہے کہ اس میں بہت خوار ہونا پڑتا ہے، لیکن اگر مسئلہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے بدبخت کو عدالت سے سزا دلوانے کا ہو تو عشق رسول کے دعوے دار تھانے اور کچہری کی خواری سے کیوں خود بچانا پسند کرتے ہیں؟ میں یہ نہیں کہتا کہ سارے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ بہت سے یقیناً وہ ہیں جو یہ ساری خواری اپنے سر لے لیتے ہیں، لیکن بالعموم لوگ گواہی دینے سے کتراتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں کہ عدالت نے سزا کیوں نہیں دی!

پھر عدالت سے سزا دلوانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ پولیس کا نظام ہے۔ عدالت کے سامنے استغاثہ کی جانب سے کہانی پولیس پیش کرتی ہے اور اس کہانی کو ثابت کرنا بھی پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پولیس نے جو چالان پیش کیا ، سارے مقدمے کا انحصار اس پر ہوتا ہے۔ چالان کمزور بنایا جائے تو مقدمہ خود بخود کمزور ہوجاتا ہے اور عدالت (چاہے بھی تو) سزا نہیں دے سکے گی۔ توہینِ رسالت کے مقدمات کی تفصیل دیکھیے۔ تقریباً ہر مقدمے کے چالان میں آپ کو مسائل نظر آئیں گے۔ جذبات اپنی جگہ، لیکن عدالت نے قانو ن پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر پولیس نے ایسی کہانی بیان کی جو وہ عدالت میں ثابت نہیں کرسکی، تو عدالت کیسے سزا دے سکتی ہے؟

اچھا، پولیس کے چالان سے بھی پہلے کا مرحلہ ایف آئی آر کا ہوتا ہے۔ اس بات پر بھی توجہ کریں کہ ہمارے ہاں بالعموم یہ ہوتا ہے (اور یہ صرف توہینِ رسالت کے مقدمات میں ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے مقدمات میں ہوتا ہے) کہ اصل واقعہ کچھ اور ہوتا ہے لیکن ایف آئی آر میں کچھ اور لکھوایا جاتا ہے۔ مثلاً زید نے بکر کو دن دیہاڑے بازار میں گولیوں سے بھون دیا۔ جس وقت اس سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا، بکر کے بھائی عمر اور علی کھیتوں میں کام بوائی کررہے تھے لیکن انھوں نے یہ سوچا کہ بازار سے گواہی دینے تو کوئی آئے گا نہیں، اس لیے وہ ایف آئی آر درج کرتے وقت کہتے ہیں کہ ہم اور بکر اپنے دو کزنز سعد اور معاذ کے ساتھ وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ملزمان آئے اور انھوں نے ہمارے سامنے یہ یہ کچھ کیا! یہ جھوٹ بولنا وہ اس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس طرح وہ مجرم کو، جس نے واقعی وہ جرم کیا ہوا ہوتا ہے، سزا دلواسکیں گے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ صفائی کا وکیل ان کی گواہی میں جھول معلوم کرلیتا ہے، ان کے بیانات میں تضادات دکھادیتا ہے، ان کی وقوعے کے وقت عدم موجودگی، یا کم از کم اس کا غیریقینی ہونا، ثابت کردیتا ہے، اور نتیجتاً وہ شخص سزا سے بچ جاتا ہے جس نے واقعی جرم کیا ہوتا ہے۔ توہینِ رسالت کے مقدمات کے ایف آئی آر دیکھ لیجیے۔ وہاں بھی بالعموم یہی کچھ نظر آئے گا۔ آسیہ مسیح کا مقدمہ ہی دیکھ لیجیے۔ ایف آئی آر میں کیا تھا؟ پولیس چالان میں کیا کہانی بنی؟ پھر ماتحت عدالت سے ہائی کورٹ تک پہنچتے پہنچتے خود استغاثہ کی جانب سے کتنے گواہوں کو ترک کردیا گیا!

اب اس معاملے میں وکلا کے کردار کی طرف بھی آئیے۔ سوال کیا جاتا ہے کہ توہینِ رسالت کے مقدمے کے فیصلے میں اتنا زیادہ وقت کیوں لیا جاتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ انصاف میں تاخیر بھی ظلم ہے، لیکن انصاف میں جلدی بھی ظلم کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے عدالت پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ملزم کو صفائی اور دفاع کا ہر ممکن موقع فراہم کرے اور اس وجہ سے وکیلِ صفائی کا کردار بہت اہم ہوجاتا ہے۔ میں نے کئی دفعہ مقدمات میں تاخیر کے اسباب پر بات کی ہے اور میرے نزدیک اس تاخیر کا ایک بڑا سبب وکیلوں کی جانب سے تاخیری حربوں کا استعمال ہوتا ہے۔ وکیل جب جان لیتا ہے کہ اس کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ اپنے کلائنٹ کو بچا نہیں سکے گا، تو وہ تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ آج تیاری نہیں کرسکا، اگلی تاریخ دی دیں؛ آج ہائی کورٹ میں پیشی ہے؛ آج وکلا کی ہڑتال ہے؛ وغیرہ۔ اس دوران میں اگر جج صاحب کا تبادلہ ہوجائے تو مقدمہ مزید لٹک جاتا ہے کیونکہ نئے جج نے پوری فائل پھر سے دیکھنی ہوگی۔ جنید حفیظ کے متعلق توہینِ رسالت کے مقدمے کی روداد دیکھ لیجیے کہ مقدمے کے دوران میں کتنے ججز کا تبادلہ ہوا۔

تاہم یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ وکلا پر دباؤ کتنا ہوتا ہے؟ جس شخص پر توہینِ رسالت کا الزام لگ جائے، اس کا مقدمہ لڑنا خود اپنے آپ کو توہین کا ملزم، بلکہ مجرم، بنانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اب اگر وکیل کے نزدیک ملزم بے گناہ ہے، تب بھی کتنے وکیل ہوتے ہیں جو اس کی جانب سے صفائی کے وکیل کے طور پر پیش ہونے کی جرات کریں؟ نیز اگر ملزم کسی وکیل کے نزدیک بے گناہ نہیں بھی ہے، تب بھی بنیادی قانونی تقاضے پورے کرنے، اور ملزم کے بنیادی قانونی حقوق کے تحفظ کےلیے کسی کو تو آگے آنا ہوگا، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ کتنی بار ایسے وکیلوں کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ ایسے میں وکیل اگر تاخیری حربے استعمال کرنے پر آئے، تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟

کئی لوگ اس معاملے میں اپیل کے حق کی بھی مخالفت کرتے ہیں اور کئی دوستوں نے تو یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ جب ماتحت عدالت اور ہائی کورٹ نے سزا سنائی تو سپریم کورٹ نے سزا معاف کیسے کی جبکہ جرم ثابت ہوچکا تھا؟ یاد رکھیے کہ جب تک اپیل، بلکہ اپیل کے بعد نظرثانی کا مرحلہ پورا نہ ہوجائے، تب تک قانون کی رو سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جرم ثابت ہوچکا اور اب سزا دی جائے۔ اپیل کے مرحلے کو ٹرائل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ہاں، اگر ماتحت عدالت کے فیصلے کے بعد اپیل ہوئی ہی نہیں، اور ماتحت عدالت کا فیصلہ حتمی ہوگیا، یا ہائی کورٹ کو اپیل ہوئی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کو اپیل نہ ہونے کی وجہ سے ہائی کورٹ ہی کا فیصلہ حتمی ہوگیا، تو وہ الگ بات ہے۔ چنانچہ جب تک فیصلہ حتمی نہیں ہوجاتا ، تب تک اسے واپس بھی لیا جاسکتا ہے اور اس کی تصحیح بھی ہوسکتی ہے۔ آخر اپنے دار الافتاء میں ہی دیکھ لیجیے کہ ایک مفتی صاحب جواب دے لیتے ہیں لیکن وہ حتمی تب ہوتا ہے جب اس پر بڑے مفتی صاحب، جو مصحح کا کردار ادا کرتے ہیں، لکھ لیں کہ الجواب صحیح، یا المجیب مصیب۔

پھر توہینِ رسالت کی سزا اگر حد ہے (جیسا کہ ہمارے ہاں عام طور پر یہ موقف اختیار کیا گیا، حالانکہ حنفی مذہب کی رو سے یہ صرف اسی صورت میں حد ہے جب اس کا ارتکاب کوئی بدبخت مسلمان کرے)، تو حدود کے متعلق تو فقہائے کرام نے یہاں تک کہا ہے کہ قاضی کی جانب سے فیصلہ ہوچکنے کے بعد بھی جب تک سزا کا مکمل نفاذ نہ ہوجائے، اس کی واپسی کا امکان ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص کے اقرار پر زنا کا جرم ثابت ہوا اور اسے سو کوڑے لگائے جارہے ہوں، نوے کوڑے لگائے جاچکے لیکن اچانک وہ اقرار سے انکاری ہوگیا، تو اب باقی دس کوڑے نہیں لگائے جائیں گے، نہ ہی اس پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائے گا، بلکہ اسے آزاد کردیا جائے گا۔ اسی طرح اگر اس کا جرم گواہی سے ثابت ہو اور سزا کے نفاذ کے وقت ہی، یا جب سزا کا نفاذ شروع ہوچکا ہو تو اختتام سے قبل بھی، اگر کوئی گواہ اپنی گواہی سے پھر جائے، تو نہ صرف سزا کا نفاذ رک جاتا ہے بلکہ سرے سے مقدمہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ (البتہ گواہوں کے خلاف جھوٹی گواہی پر کارروائی ہوگی۔)

اپیل کا حق اسی لیے دیا جاتا ہے کہ کوئی بھی جج غلطی سے مبرا نہیں ہوسکتا۔ ہر انسان سے غلطی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ایک عدالت کے فیصلے کو اس سے بڑی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھ لیا جائے کہ قانون کی کسی شق کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی؟ یہ اپیل کا حق نہ ہوتا تو کتنے ہی بے گناہوں کو سزائیں دی جاچکی ہوتیں۔ دیکھ لیجیے کہ فوجی عدالتوں کی جانب سے ”دہشت گردوں“ کو دی گئی سزاؤں کو پشاور ہائی کورٹ نے پہلے معطل اور پھر قانون کی خلاف ورزی پر منسوخ کردیا۔ اب وہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے جس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

حتمی پر بھی نوٹ کیجیے کہ ضروری نہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی ہو۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس لیے آخری نہیں ہوتا کہ وہ لازماً درست ہوتا ہے ، بلکہ اس لیے اسے درست اور نافذ العمل مانا جاتا ہے کہ وہ آخری ہے۔ ظاہر ہے کہ مقدمے کا سلسلہ کہیں تو روکنا ہوگا۔ چنانچہ ہمارے نظام میں سپریم کورٹ کو آخری فورم مانا گیا ہے۔ اس کے فیصلے پر بے شک تنقید کیجیے لیکن نافذ اسی کے فیصلے کو مانیے۔

رہی بات عدالتوں میں تاخیر کی یا پھر مسائل کی تو میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ عدالتوں کا اس تاخیر میں کوئی کردار ہی نہیں ہے، یا وہ بالکل ہی بے قصور ہیں۔ جج بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور اس معاشرے میں پائی جانے والی عمومی اخلاقی برائیاں ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ تاخیر سے فیصلوں میں ان کی کمزوریوں کا بھی حصہ ہے لیکن جب ہم نے عدالتیں بنائی ہوئی ہیں تو عدالت ہی کا فیصلہ حتمی ماننا ہوگا اور عدالت سے ماورا انصاف کے تصور سے جان چھڑانی ہوگی۔

اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ اگر ”گستاخوں“ کو عدالتوں نے سزا نہیں دی تو اس کےلیے صرف عدالتیں نہیں ، بلکہ پورا معاشرہ ذمہ دار ہے۔ ایف آئی آر میں جھوٹ، چالان میں جھوٹ، مقدمے کے دوران گواہوں کی جانب سے جھوٹ، وکلا کی جانب سے جھوٹ، ججز کی جانب سے جھوٹ، یہ سب مل کر اس بے انصافی کا باعث بن رہے ہیں۔ جب تک پورے نظام کی، بلکہ پورے معاشرے کی، اوورہالنگ نہ کی جائے، صرف ”گستاخوں“ کے مقدمے میں (یا صرف ”دہشت گردوں“ کے مقدمے میں) یہ کہنا کہ عدالتیں مجرموں کو سزائیں نہیں دیتیں، خود کو دھوکا دینا ہے۔

حل کیا ہے؟

دو میں سے کوئی ایک حل اپنائیے۔

یا تو ساری عدالتوں کا خاتمہ کیجیے اور ہر ادارے، بلکہ ہر فرد، کو اپنے طور پر اپنا انصاف نافذ کرنے کا حق دے دیجیے؛ یا ہر ادارے اور ہر فرد نے یہ ماننا ہوگا کہ عدالت ہی کو فیصلے کا اختیار ہے۔ جب تک ہر ادارے اور ہر فرد کی جانب سے عدالت کے اس اختیار کو کھلے دل سے تسلیم نہ کیا جائے، تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عدالتوں کےلیے انصاف اور فیصلے کا اختیار مان کر ہی عدالتوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ درست فیصلے دیں کیونکہ تب ان کے پیچھے پورا معاشرہ کھڑا ہوگا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */