شریعت کی روح سے ، عورت کا جانور ذبح کرنا - حافظ مطیع الرحمان جمالیؔ

ہمارے ہاں اکثر مسائل ایسے ہیں جن کا ہمیں کم علمی، دین سے دوری اور معاشرتی جہالت کی وجہ سے علم ہی نہیں۔ خصوصی طور پہ خواتین کے حقوق کے متعلق اکثر مسائل کا ہمیں ادراک ہی نہیں ہوتا،بس ہم اپنے معاشرتی رسم و رواج کو دین اسلام، یا شریعت سمجھ بیٹھتے ہیں جو اسلام کی روح کے بلکل برعکس ہوتے ہیں، اول تو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اسلام نے عورت کو بہت سے حقوق دیے ہیں۔

اسلام کی روح سے اور شریعت محمد {صلی اللہ علیہ وسلم} کی نظر میں عورت ہرگز معاشرے کا پسماندہ، پیسہ ہوا، ظلم و ستم برداشت کرنے والا، یا ہر معاملے میں دبا دیے جانے والا طبقہ بلکل بھی نہیں، بلکہ اسلام نے تو عورت کو برابری کے حقوق دیے، دین اسلام ہی وہ واحد دین تھا جس نے عورت کو اس کے حقوق سے متعارف کروایا۔اسے جینے کا حق دیا، اسے ظلم و ستم کی اندھیری راتوں سے نکال کر دین اسلام کی روشن، مہذب تہذیب سے متعارف کروایا،وہی عرب معاشرہ جو عورتوں کو ذبح کیا کرتا، یا زندہ درگور کر دیتا تھا، اسے معاشرے کا حقیر طبقہ، اسکی پیدائش کو ناموشی کی علامت، یا باعث بےعزتی کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔

ایسے معاشرے میں دین اسلام ہی نے عورت کو اسکا مقام عطا کیا، اسے ایک ذمہ دار طبقہ بنایا، اسے نسلوں کی تربیت، معاشرے کی اصلاح، خاندان کی دیکھ بھال سمیت اسے خوبصورت رشتوں کی ڈوری میں پرو دیا، مختصر یہ کہ اگر کوئی شریعی احکامات سے تھوڑا سا بھی تعلق رکھتا ہو تو اسے بخوب علم ہے کہ دین اسلام میں مردوں سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا دفاع کیا گیا،اور نا ہی اس میں کوئی شک باقی رہتا کہ شریعت محمدی {صلی اللہ علیہ وسلم} میں عورتوں کو مردوں سے زیادہ حقوق دیے گے،آجکل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہے جس میں آپ ہماری ایک بہن کو خود قربانی کا جانور ذبح کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، جسے لے کر لوگ اپنی اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں، کچھ کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں یہ چیز چائز نہیں جب تک مرد گھر ہو عورت جانور ذبح نہیں کرسکتی۔

ہاں کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ جانور بیمار ہو یا مرنے کے قریب تو مجبوری کے طور پہ عورت اس کو ذبح کرلے یا کسے چھوتے بچے کا ہاتھ رکھ کر اسے تکبیر پھیر دی جائے، یہ باتیں بلکل غیر اسلامی اور غلط ہیں جسکا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اگر بات شریعت کی کیجائے تو عورت کو قربانی/ یا غیر قربانی کے جانور کو بذات خود ذبح کرنے کی اجازت دی ہے ۔۔۔
بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی بھی کی، شریعت کے مطابق جس کے نام کی قربانی ہو وہ خود اس جانور کو ذبح کرے تو یہ عمل زیادہ افضل ہے، زیادہ پسندیدہ اور مستحب عمل ہےاس میں کوئی خرج نہیں وہ مرد ہو یا خاتون۔

جس کے نام کی قربانی ہے، جو قربانی کررہا ہو، یا جسکا حصہ موجود ہو وہ بذات خود اس جانور کو قربان کرے یہی افضل ترین اور مستحب عمل ہے۔۔۔ اس میں مرد یا عورت کی قید نہیں
مرد گھر ہو بھی تو عورت جانور ذبح کرسکتی ہے اور جانور صحت مند یا بیمار نا بھی ہو تب بھی۔ہمیں فضول اور غلط رسم رواج کو تَرک کرتے ہوئے ایسے اعمال کو فروغ دینا چاہیے،
جن اعمال کی دین اسلام، شریعت، اور ہمارے پیارے نبی کریم {صلی اللہ علیہ وسلم} اور صحابہ کرامؓ نے حوصلہ افزائی کی ہو۔ جبکہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہمیں اس کی راہنمائی بھی ملتی ہے، صحیح بخاری میں حدیث پاک موجود ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہےحضرت کعب بن مالکؓ نے فرمایا "کہ ایک عورت نے بکری کو ذبح کیا تو حضور پاک {صلی اللہ علیہ وسلم} سے اس کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ {صلی اللہ علیہ وسلم} نے اس بکری کے کھانے کی اجازت دی اور کہا اسے کھا لیا جائے۔

"ایسے ہی صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں موجود ہے کہ"حضرت ابو موسٰی اشعریؓ اپنی بیٹیوں کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جانور ذبح کیا کریں"حضور نبی پاک {صلی اللہ علیہ وسلم} کا اسکی اجازت دینا اور صحابی رسول {صلی اللہ علیہ وسلم}کا اپنی بیٹیوں کو جانور ذبح کرنے کا حکم دینا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اس چیز میں، یعنی عورت کے جانور ذبح کرنے میں کوئی کسی قسم کی قباحت نہیں،اللہ پاک ہمیں دین اسلام کی صحیح سمجھ عطا کرے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */