دکھاوے کی عبادت - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

الحاج قابل احترام حاجی صاحب پچھلے آدھے گھنٹے سے اپنے حج و عمروں ‘ زیارتوں سخاوتوں کی مسلسل میرے اوپر بمباری کر نے میں مصروف تھے وہ اپنی طویل عبادات کا ذکر کر کے مجھے اپنے مذہبی مقام اور شان سے متاثر کر رہے تھے اور میں بناوٹی طور پر اُن کی نان سٹاپ عبادات کی برسات سے مرعوب نظر آرہا تھا وہ بضد تھے کہ میں اُن کو اپنے وقت کا سب سے بڑا عبادت گزار متقی پرہیز گار حاجی نمازی سخی مانوں ‘وہ اپنی نیکیوں کا مسلسل پر چار کر رہے تھے۔

میں اُن کی خوشنودی کے لیے متاثر ہو نے کی اداکاری کر رہا تھا میں نے دو چار بار دبے لفظوں میں یہ کہا کہ یہ تو آپ پر اللہ کا کرم ہے جو آپ مذہب اور نیکی کے تمام شعبوں میں بھر پور پر فارم کر رہے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کاآپ پر خاص کرم ہے تو وہ تھوڑا بگڑ کر بو لے جناب اللہ کا کرم تو سب پر ہو تا ہے لیکن کر تا کو ئی کوئی ہے اور میں کتنے سالوں سے کتنے حج عمرے زیارتیں اور سخاوتوں کے ریکارڈ توڑ چکا ہوں تو اِس میں مجھے کریڈٹ جانا چاہیے وہ زبردستی اپنی نیکیوں کا سہرا اپنے سر پر باندھنا چاہتے تھے وہ خود ستاشی کے سحر میں مبتلا اپنی ذات شخصیت کر دار کی خو بیوں کے مسلسل پل باندھ رہے تھے اور میں انکار بھی نہیں کر رہا تھا ان کے مسلسل اشتہار بازی عبادات ذکر اذکار کے مشتہر کر نے پر اب تو مجھے تھوڑی سی الجھن ہو نے لگی تھی کہ آخر کار وہ میرے سامنے اپنی نیکیوں کے پہاڑ کیوں کھڑے کر رہے ہیں او ر آخر مجھے ہی کیوں منوانے پر لگے ہو ئے ہیں ۔

مذہب نیکی تو بندے اور خدا کا تعلق ہے تو پھر و ہ اپنی نیکیوں کے جھنڈے کیوں گاڑھ رہے تھے اب متجسس ہو کر اُن کی باتیں خود ستاشی کی طویل داستا ن سن رہا تھا کہ وہ پوانٹ نقطہ کب سامنے آئے گا جس کی وجہ سے وہ تواتر سے میری سماعت خراشی پر تلے ہو ئے تھے وہ بار بار اپنی نیکیوں کی اشتہار بازی کے دوران میری آنکھوں اور جسمانی حرکات کو بھی نوٹ کر رہے تھے کہ ان کی ہمالیہ جیسی عبادات کا اثر رعب میرے اوپر پڑا کہ نہیں اور میں اتنا کچھ سننے کے بعد اٹھ کر اُن کے ہاتھ کیوں نہیں چوم رہا اُن کے گھٹنے کیوں نہیں چھو رہا پھولوں کے ہار لا کر اُن کے گلے میں کیوں نہیں ڈال رہا میں شاید اُن کا مطلوبہ رویہ نہیں دے رہا تھا اِس لیے وہ پینترا بدل کر اپنی عبادات نیکیوں کا کوئی نیا چیپٹر کھو ل کر اُس کی تفصیلات بتانا شروع کر دیتے میںاب الجھن زدہ سا ہو گیا تھا لیکن وضع داری خوش اخلاقی کے تحت اُن کی باتیں برداشت کر رہا تھا میرے ایک دوست پچھلے کئی دنوں سے میرے پیچھے پڑے ہو ئے تھے کہ اُن کے انکل کسی نیک بندے سے ملنا چاہتے ہیں۔

تواُس نے مجھ سیا ہ کار کا نام دے دیا ساتھ میں اُس دوست نے اِن سے ملنے کا بھی کہہ دیا تو یہ صاحب وقت مقررہ سے آدھا گھنٹہ پہلے اپنا مذہبی بخار مُجھ فقیر پر اتارنے کے لیے آدھمکے میں نے ٹھنڈے پانی کے بعد چائے کے لوازمات پیش کئے کہ نیک انسان مُجھ گناہ گار سے ملنے آئے ہیں لیکن جب انہوں نے اپنی نیکیوں کی تشہیر نان سٹاپ شروع کی تو میری عقیدت کا رنگ پھیکا پڑنے لگا اب میں اِن کو اور اِن کی مسلسل خو د ستاشی والی گفتگو کو برداشت کر رہا تھا باتوں کے دوران وہ بولے پروفیسر صاحب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اپنی عبادات کا تذکرہ آپ کے سامنے کیوں کر رہا ہوں تو یہ حدیث ہے کہ نیکی دوسروں کے سامنے کرو تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ملے اِس لیے میں تو سارے زمانے کے سامنے نیکیاں کر تا ہوں تاکہ باقی لوگ بھی نیکیاں کریں میں بیچارہ چارو نچار اُن کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا بلکہ اُن کو برداشت کر رہا تھا ۔

اب انہوں نے پینترا بدلا کہ آپ بہت سارے لوگوں سے ملے ہوں گے لیکن میرے جیسا بندہ آپ کو آج تک نہیں ملا ہو گا اب انہوں نے ایک نئے زاویے سے اپنی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دئیے جب وہ خوب بو ل چکے تو میں نے ادب سے گزارش کی جناب میں گناہ گار آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں حالانکہ آپ کو میرے جیسے گناہ گار کی ضرورت نہیں مجھے آپ کی ضرورت ہے تو وہ فاتحانہ انداز سے مسکر ا کر بو لے سچ بات یہ ہے کہ بہت سارے لوگ میری نیکیوں کی وجہ سے مجھے پیر سمجھتے ہیں جبکہ مجھے پیری مریدی کا زیادہ نہیں پتہ تو آپ مجھے پیر بننے کے گُر سکھا دیں اب وہ اپنے اصل مقصد پر آگئے تو میں بولا جناب میں آپ کی خدمت میں ایک حدیث مبارکہ پیش کر نا چاہتا ہوں اگر اجازت ہے تو وہ بولے ضرور ضرور تو میں نے بو لنا شروع کیا عبداللہ بن مبارک ؓ ایک شخص سے روایت کر تے ہیں اُس نے معاذ بن جبلؓ سے کہا مجھے کو ئی حدیث سنائیے تو وہ بہت روئے پھر روتے ہوئے کہا میں نے ایک دفعہ آقا کریم ﷺ سے سنا انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک نفع والی بات بتا تا ہوں تم اِس کو یاد رکھنا۔

اوراگر بھول گئے خدا کے ہاں تمہاری کوئی حجت کام نہ آئے گی اے معاذ خدا نے زمین آسمان بنانے سے پہلے سات فرشتے پیدا فرمائے پھر آسمان بنائے اور پھر یہ آسمان کے لیے سات فرشتوں میں سے ایک دربان مقرر کیا اور یہ آسمان کو عظمت عطا کی صبح شام محافظ فرشتے انسانوں کے اعمال لے کر چڑھتے ہیں اور نیک عمل سورج کی روشنی سے زیادہ روشن ہوتے ہیں جب یہ عمل آسمان دنیا تک پہنچتا ہے تو وہاں متعین فرشتے محافظ فرشتوں سے کہتا ہے کہ یہ عمل واپس لے جائو اور صاحب عمل کے منہ پر دے مارو میں غیب کا فرشتہ ہوں مجھے حکم ملا ہوا ہے کہ میں کسی ایسے شخص کے عمل کو آگے نہ جانے دوں جو لوگوں کی غیبت کر تا ہے محافظ فرشتے اِس بندے کا کو ئی دوسرا عمل پیش کر دیتے ہیں اور اس کے وسیلے سے آگے بڑھ جاتے ہیں یہاں تک کہ دوسرے آسمان تک پہنچ جاتے ہیں وہاں موجود فرشتہ کہتا ہے ٹہرو یہ عمل واپس لے جا کر صاحب عمل کے منہ پر دے مارو اس نے عمل کے ذریعے دنیاوی چیز کی خواہش کی تھی اللہ کا حکم ہے ایسے عمل کو آگے نہ جانے دوں فرشتے دوسرا عمل لے کر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔

جن سے نور پھو ٹتا ہے جس کو فرشتے دیکھ کر حیران ہو تے ہیں تیسرے آسمان پر فرستے روک لیتے ہیں اور کہتے ہیں ٹہرو یہ عمل واپس لے جا کر صاحب عمل کے منہ پر دے مارو میں کبر کا فرشتہ ہوں میرے رب کا حکم ہے اِس عمل کو آگے نہ بڑھنے دوں وہ شخص اپنی مجلسوں میں لوگوں پر تکبر کیا کر تا تھا پھر فرشتے وہ عمل لے کر چوتھے آسمان کی طرف بڑھتے ہیں اِس عمل میں حج عمرہ نماز روزہ تسبیح و تہلیل کی گونج ہو گی چوتھے آسمان کا دربان بو لتا ہے ٹہرو واپس لے جا کر صاحب عمل کے پیٹ اور پیٹھ پر مارو میں فرشتہ عجب ہوں اللہ نے مجھے حکم دیا ہے ایسے اعمال آگے نہ جانے دوں جب یہ عمل کر تا تھا تو اُس میں عجب شامل ہو تا پھر فرشتے پانچویں آسمان کی طرف جاتے ہیں جو دلہن کی مانند ہو تاہے وہاں موجود فرشہ کہتاہے ٹھہرو واپس جا کر اِس کے مالک کے منہ پر مارو اور اِس کا بوجھ اُس کی گردن میں ڈال دو میں حسد کا فرشتہ ہوں میرے رب کا حکم ہے اِس کو آگے نہ جانے دوں یہ شخص اُن تمام لوگوں سے ملتا تھا جو اِس جیسے عمل کر تے تھے جو بھی عبادت کر تا یہ اُس سے جلتا تھا اور زبان دراز تھا۔

اِسی طرح چھٹے آسمان پر روک کر کہاجاتا ہے صاحب عمل کے منہ پر جا کر ماردو اِس کے بعد فرشتے نماز روزہ زکوٰۃ مجاہدہ تقویٰ لے کر ساتویں آسمان پر جاتے ہیں تو بجلی کڑکنے کی آواز آتی ہے کہ ان اعما ل کو لے جا کر صاحب اعمال کے منہ پر دے مارو اوراس کے دل پر تالا لگا دو میں اللہ کے پاس کوئی ایسا عمل نہیں جانے دوں گا جو رضائے الٰہی کی بجائے غیر اللہ کی نیت ہوا اِس شخص نے اپنے اعمال عبادات سے چاہا کہ دنیا میں اِس کا مقام شان بلند زیادہ ہو معاشرے ملک میں اِس کی شہرت ہو تو ایسے اعمال بندے کہ منہ پر مار ددئیے جائیں گے پھر اللہ کی آواز آئے گی ایسے اعمال جن میں میری رضا شامل نہ ہو ں خدا کی لعنت ہو آسمانوں اور زمین کا ذرہ ذرہ ایسے اعمال اور کرنے والے پر لعنت بھیجتا ہے تو تمام فرشتے بولیں گے ایسے شخص پر لعنت ہو تمام آسمانوںسے آواز آئے گی لعنت ہو آسمان زمین فرشتے اور اللہ تعالی ایسے اعمال پر لعنت بھیجیں گے ۔

میں نے حدیث سنائی تو حاجی صاحب کے چہرے پر شرمندگی ندامت کا دھواں پھیلا ہو تھا اب میں نے اُن کی آنکھوں میں جھانکا اور دھیرے سے بولا جی حاجی صاحب کیا آپ نے عبادات عمرے حج سخاوت اپنی ذاتی شہرت کے لیے نہیں کی تو وہ کچھ دیر تو چپ رہے پھر بولے ہاں میں ذاتی شہرت اور معاشرے میں ناک اونچی کر نے کے لیے عبادت کر تا تھا اور میں مانتا ہوں کہ میں غلط تھا تو میں اٹھا حاجی صاحب سے الوداعی گلے ملا اوربولا جایئں کچھ عرصہ صرف خداکے لیے عبادت کریں پھر میرے پاس آئیں تو ہم فقیری کی بات پیری مریدی کی بات کریں گے حاجی صاحب پریشان شرمندہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہو ئے چلے گئے تو میں نے دعا کی کاش ہم عبادت رضائے الٰہی کے لیے کریں ۔ آمین ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */