جماعت اسلامی کا دستور - میر افسر امان

جماعت اسلامی کا پہلادستور، اس کے قیام کے روز بتاریخ ۲؍ شعبان المعظم ۱۳۶۰ھ ۲۶؍ اگست ۱۹۴۱ء جماعت کے ۷۵ بانی ارکان کی منظوری سے بلااتفاق وضع کیا گیا اور ۲۶؍ اگست ۱۹۵۲ء تک پورے گیارہ سال نافذ رہا۔۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء جماعت اسلامی دوحصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ۱۲؍ مارچ ۱۹۴۹ء کو قراداد پاکستان پاس ہونے کے بعد پاکستان اصولاًدارلسلام بن گیا۔ اس وجہ سے کل پاکستان اجتماع ۱۰ تا ۱۳؍ نومبر ۱۹۵۱ء میں’’مجلس ترمیم دستور‘‘ کا مرتب کردہ دستور ۲۶؍ اگست ۱۹۵۲ء سے نافذ ہوا۔

بعد میں ضرورت کے تحت اس میں ترمیم اور اضافے ہوتے رہے۔ اس دستور کے مطابق دفعہ:۔ ۱۔کے تحت اس جماعت کا نام جماعت اسلامی پاکستان اور اس کے دستور کا نام دستور جماعت اسلامی ہے۔

دفعہ:۔۲ ۔یہ دستور ۱۹۵۷ء سے نافذلعمل ہو گا۔ دفعہ:۔۳۔ جماعت اسلامی کا بنیادی عقیدہ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ہو گا۔ یعنی یہ کہ صرف اللہ ہی ایک الہ ٰہے اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسولؐ ہیں۔

دفعہ:۔ ۴۔ جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی وجہد کا مقصود عملاً اقامت دین حکومت الہٰیا،ا سلامی نظام زندگی کا قیام اور حقیقۃً رضا الہیٰ اور فلاح اُخروی کا حصول ہو گا۔

دفعہ:۔ ۵ ۔ہر کام اللہ اور رسولؐ کی ہدایت کے مطابق کیا جائے گا۔مقصد کے حصول کے لیے صداقت دیانت کو سامنے رکھا جائے گا۔ ہر اُس کام سے بچا جائے گا جس میں فساد فی الا ارض ہو۔ اصلاح کے لیے جمہوری اور آئینی طریقہ اختیار کیاجائے گا۔

جماعت اسلامی کبھی بھی خفیہ تحریکوں کے طور پر کام نہیںکرے گی۔ بلکہ کھلم کھلا اورا علانیہ کام کرے گی۔

دفعہ:۔۶۔ ہر عاقل بالغ شخص مرد وعورت اس جماعت کا بنیادی رکن بن سکتا ہے۔جو جماعت اسلامی کے دستور کو مانتا اور اس کی معیار کے مطابق عمل کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

دفعہ:۔۷۔ جماعت میں داخلہ کے لیے کسی فرد کو جماعت اسلامی کے دستور کے مطابق اپنی زندگی ڈھال کر اس جماعت میں داخل ہو سکتا ہے۔

دفعہ:۔۸۔ داخل ہونے کے بعدایک فرد کو اپنے فرائض کا علم ہونا چاہیے جس میںاسلام کا بنیادی علم حاصل کرناضروری ہے۔

دفعہ :۔ ۹۔شامل ہونے والے کا یہ فرض ہو گا کہ وہ بندگان کو اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کا پابند کرنے کی کوشش کرے اور اس کام کے لیے لوگوں جماعت اسلامی کے نظم میں شامل کرنا ہے۔

دفعہ:۔۱۰۔ جو عورتیں جماعت اسلامی میں شریک ہوگی ان کے دائرہ عمل میں دفعہ۸ اور ۹ کے تمام اجزاء کا اطلاق ہوگا۔

دفعہـ:۔۱۱ ۔ جماعت اسلامی کا نظام شورائی ہو گا۔

دفعہ:۔۱۲۔اس جماعت میں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا تعین اس کے حسب نسب اور علمی اسناد اور مادی حالات کے لحاظ سے نہ ہوگا۔ بلکہ اُس کے تعلق کے لحاظ سے ہو گا جو وہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور اُس کے دین کے ساتھ رکھتا ہو اور جماعت کو اُس کے اس تعلق کا ثبوت اُس کی ان نفسی، جسمانی اور مادی قربانیوں سے ملے گا جو وہ اللہ کی راہ میں کرے گا۔

دفعہـ۔۱۳۔امیر جماعت اسلامی مرکزی ہو یا ماتحت اس کی انتخاب میں اس بات کو مدنظر رکھا جائے گا کہ وہ نہ امارت کا خود امیداور ہو نہ اس سے ایس بات کو ظہورہو۔ ارکان اس کے تقویٰ، علم کتاب و سنت، امانت، دیانت،دینی بصیرت، تحریک اسلامی کے فہم ، اصابت رائے، تدبر، قوت فیصلہ، راہ خدا میں ثبات و استقامت اور نظم جماعت کو چلانے کی اہلیت پر اعتماد رکھتے ہوں۔

دفعہ :۔ ۱۴۔ مجلس شوریٰ مرکزی یا ماتحت میں خیال رکھا جائے گا کہ وہ مجلس کی رکنیت کا امیدوار نہ ہو نہ اس کاظہور ہو۔

دفعہ:۔۱۶۔ جماعت اسلامی پاکستان کے تمام اُمور میں آخری اختیارات اس کے ارکان کے اجتماع عام کو حاصل ہوں گے۔

دفعہ:۔ ۱۷۔ جماعت اسلامی کا ایک امیر ہو گا اس کی حیثیت ’’امیرالمونین ‘‘ کی نہیں، بلکہ صرف اس جماعت کے امیر کی ہو گی۔

دفعہ:۔ ۱۸۔ امارت کی ذمہ داری سے پہلے امیر جماعت کو حلف اٹھانا ہو گا۔جو اس کے دستور میں درج ہے۔

دفعہ:۔۱۹۔ نظم جماعت اور تحریک کو چلانے کی آخری ذمہ داری امیر جماعت پر ہوگی ۔وہ مجلس شوریٰ اور ارکان کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

دفعہ:۔ ۲۰۔امیر جماعت کے کی مدد اور مشورے کے لیے ایک مجلس شوریٰ ہوگی۔

دفعہ:۔ ا۲۔مجلس شوریٰ کو ارکان منتخب کریں گے۔

دفعہ:۔ ۲۲۔مجلس شوریٰ کے انتخاب کے بعد دو ماہ کے اندر امیر جماعت اس مجلس کاافتتا حی طلب کرے گا۔اس میں مجلس شوریٰ کے ارکان حلف اٹھائیں گے۔

دفعہ :۔ ۲۲۔ مجلس شوریٰ کے مدت تین سال ہو گی۔دفعہ:۔ ۲۳۔مجلس شوریٰ تین سال کی ہے مگر جب امیر یا شوریٰ نئے انتخابات چاہے تو کرا سکتے ہیں۔

دفعہ:۔ ۲۴۔جماعت اسلامی کا اجلاس سال میں ایک بار ہو گا۔

دفعہ:۔ ۲۵۔ مرکزی شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس امیر جماعت ہر وقت طلب کر سکے گا۔

دفعہ:۔ ۲۶۔ مرکزی شوریٰ میں عام ارکن جماعت سامع کی حیثیت سے شریک ہو سکیں گے۔

دفعہ:۔ ۲۷:۔امیر جماعت محسوس کرے کہ کسی مسئلہ میں ارکان کے علاوہ کسی فرد یا افراد کو بھی شریک کر سکتاہے۔

دفعہ:۔ ۲۸۔مجلس شوریٰ کانصاب اس کے ارکان کی تعداد کا ایک تہائی ہو گا۔

دفعہ:۔ ۲۹۔ مجلس شوریٰ کے فیصلے اتفاق رائے سے ہوں گے۔ لیکن اختلاف کی صورت میں اکثریت کا فیصلہ مجلس شوریٰ کا فیصلہ متصور ہو گا۔

دفعہ:۔ ۳۰۔مجلس شوریٰ اور ممبران خدا اور رسولؐ کی اطاعت کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے۔

دفعہ:۔ ۱۳۔ مجلس شوریٰ کی کی قرارداد عدم اعتماد سے معزول شدہ امیر جماعت نئے انتخاب میں دوربارہ امیر منتخب ہو جائے تو شوریٰ پرعدم اعتماد ہو گا۔ پھر نئی شوریٰ کا انتخاب ہو گا۔

دفعہ:۔ ۳۲۔ اگر مجلس شوریٰ اپنے نصاب کی حد تک فرائض دینے کے قابل نہ رہے تو ملک میں تمام مقامی جماعتوں کے امراء کی ایک مجلس مرکزی مجلس شوریٰ کی حیثیت کی قائم مقام قرادرپائے گی۔

دفعہ:۔ ۳۳۔امیر جماعت کا منسب خالی ہو جانے کی صورت میں مجلس شوریٰ کا اجلاس یا دفعہ ۳۲ کی رو سے مقامی امراء کی مجلس کا اجلاس بلانے کا اختیار علی الترتیب قیم جماعت، مرکزی شعبہ تنظیم، مرکزی شوریٰ کے ہر موجود رکن اور مقامی جماعت کے امیر کو حاصل ہو گا۔

دفعہ:۔ ۳۴۔جماعت اسلامی کی ایک مجلس عاملہ ہو گی جو بارہ ارکان پر نشتمل ہو گی۔ جن کا انخاب امیر جماعت مرکزی شوریٰ کے ارکان سے کرے گا۔دفعہـ۔ ۳۵۔ جماعت اسلامی کا ایک قیم ہو گا جسے امیر جماعت مرکزی شوریٰ کے مشاورے منتخب کرے گا۔

دفعہ:۔ ۳۶۔ امیر جماعت کو اختیار ہو گا کہ ایک سے زیادہ نائب قیم مقرر کرے۔

دفعہ:۔۳۷۔ ہر مرکزی شعبہ کا یک ناظم ماتحت ہو گا جس کا تقرر امیر جماعت کرے گا۔

دفعہ :۔ ۳۸۔پاکستان کو جماعت کی تنظیمی ضروریات کے لیے تنظیمی صوبوں میں تقسیم کیا جا سکے گا۔

دفعہ:۔۳۹۔صوبے کے نظم کا ذمہ دار ایک امیر ہو گا جو امیر صوبہ کہلائے گا گا۔ اس کی حیثیت اپنے صوبہ میںامیر جماعت کے نمائندے کی ہو گی۔ وہ امیر جماعت کاسامنے خواب دہ ہو گا۔

دفعہ:۴۰۔ امیر صوبہ کا عزل و نصب امیر جماعت کے اختیار میںہو گا۔

دفعہ:۔ ۴۱۔ امیر صوبہ اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیر جماعت یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے رو برو حلف امارت اٹھائے گا۔

دفعہ:۔ ۴۲۔ امیر صوبہ جماعت کی دعوت، نصب العین،پالیسیوں اور پروگرام کی اپنے صوبے میں اشاعت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔

دفعہ:۔ ۴۳۔ امیر صوبہ اپنے صوبہ میں امیر کے سارے اختیار استعمال کرے گا۔ دستور میں حالات کے تحت مذید ترمیم کی ضرورت تھی مگر پاکستان میں جماعت اسلامی اور دینی عناصر کی طرف سے جاری تھی۔ ۱۹۵۲ء سے ۱۹۵۶ء تک مطالبہ دستور اسلامی کی ملک گیر تحریک اور معرکۃ الآرامہم میں مشغولیت اور مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ کو مئی ۱۹۵۳ء میں فوجی عدالت سے پہلے سزائے موت اور پھر۲۱ سال قید بامشقت جیسے سانحات کی وجہ سے یہ کام معطل رہا۔ لیاقت علی خان وزیر اعظم پاکستان کے دور میں، حکومت نے عوامی مطالبہ کو مانتے ہوئے ۲۹ مئی ۱۹۵۵ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا۔۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو یہ دستور ملک میں نافذ ہو گیا۔

اس دستور میں قراداد مقاصد کو بطور دیباچہ شامل کر لیا گیا۔اقتدار اعلیٰ فقط اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اورباشندگان پاکستان اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے اور مقدس امانت ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں یہ بھی درج کر دیا گیا کی اس ملک میں کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو اور رائج الوقت قوانین کو بھی بدل کر قرآن و سنت کے مطابق بنا دیا جائے گا۔یہ کارنامہ جماعت اسلامی کی دستوری جد وجہد کی وجہ سے ہوا۔ پھر ۱۷؍ تا ۲۱؍ فروری۱۹۵۷ء میں جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع منعقد ہوا۔ اس میں’’ مجلس ترمیم دستور‘‘ کو توڑ دیا گیا۔ اس اجتماع میں بعض تبدیلیاں کی گئی۔

جماعت اسلامی کی تنظیم اسلام کے جمہوری و شورائی اصولوں پر مبنی ہے۔یہ اصول اگرچہ مستقل ہیں لیکن ان کے تحت تشکیل پانے والے اداروں اور تنظیمی ڈھانچوں میں حالات کے مطابق تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے دستور میں بھی توسیع ،تبدیلی اور ترمیم و اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس طرح موجودہ دستور جماعت اسلامی میں بھی ارتقائی مراحل سے گزرا ہے۔ صاحبو!کیا پاکستان میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے دستور بھی ایسے ہی ہیں۔ اس کا استعمال بھی جماعت اسلامی کے دستور میں دیے گئے فرائض اور حقوق کے فلسفے کے مطابق ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */