عرقِ انفعال - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

وقاص بڑی بے رغبتی سے کھانا زہر مار کر رہا تھا، فریحہ کھانا اس کے سامنے رکھ کر اندر جا چکی تھی، اس نے ٹھنڈی روٹی کا نوالہ بنا کر مرغی کے بے رنگ شوربے میں ڈبویا، اور کتنی دیر اس سے کھیلتا رہا، پیٹ نے بھوک کا احساس دلایا، تو اس نے نوالہ منہ میں ڈال لیا، ایک ۔۔ دوسرا اور تیسرا ۔۔ اس سے زیادہ وہ نہ کھا سکا۔ اس نے ٹرے کو سامنے سے کھسکایا اور اٹھ کر لاونج میں آگیا۔ٹیلیوژن کا بٹن دبایا اور چینلز سکرول کرنے لگا، اور اسی اکتاہٹ سے صوفے پر آڑھا ترچھا لیٹ رہا، نجانے کس لمحے اسے نیند آگئی۔

سہ پہر سو کر اٹھا تو اس کی بیوی بیٹے کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھی۔ اس کی کلکاریاں اس کے دل میں گدگدی کر رہی تھیں، وہ باہر لان میں آگیا، اور ہاتھ بڑھا کر معاذ کو اٹھا لیا۔ وہ جیسے اسی کا منتظر تھا، جونہی وہ لپک کر اس کی گود میں آیا ، فریحہ اندر چلی گئی۔ معاذ سے وہ کتنی دیر کھیلتا رہا،اسے لئے ہوئے اندر آیا تو فریحہ کپڑے استری کرنے میں مشغول تھی۔ اسے چائے کی حاجت تھی، مگر دن کے ٹھنڈے اور دو دن پرانے کھانے کی کدورت ابھی تک اس پر چھائی تھی، اس لئے اس نے مطالبہ کرنے کے بجائے انتظار کرنا ہی مناسب سمجھا۔

زندگی کی حرارت اور رویوں میں سے خوشبو عنقا ہوتی جا ری تھی، وہ دونوں بے دلی اور کسی قدر بد دلی سے روز و شب کے تسلسل میں گھسٹ رہے تھے۔صبح دونوں اپنے اپنے الارم پر بیدار ہوتے، اور پھر بھاگم بھاگ تیاری! فریحہ جتنی دیر بچے کو تیار کرواتی وہ چائے اور سنیکس اور انڈا بنا کر میز پر رکھ دیتا۔ بچے کی آمد کے بعد یہ ذمہ داری اس نے از خود اٹھا لی تھی، لیکن ان دنوں وہ مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کرتی تھی۔ وہ ناشتا کرنے لگتی تو وہ معاذ کو گود میں لے لیتا، اور اس سے باتیں کرتے ناشتا بھی کر لیتا۔ آفس کے لئے اٹھتا توکچھ سامان وہ اٹھاتا، کچھ فریحہ، اور گاڑی میں بیٹے کو ’’بچہ سیٹ‘‘ پر بٹھا کر وہ دونوں مسکراتے اور باتیں کرتے اپنے کام پر پہنچ جاتے۔ فریحہ ایک بڑے ہسپتال کے سٹاف میں تھی، اور وہ دواؤں کی کمپنی کا کارندہ۔ ان کی ملاقات ہسپتال ہی میں ہوئی تھی، اسے فریحہ بڑی مختلف سی لگی تھی۔ ہلکی سی مسکراہٹ لئے وہ اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی۔ ان کے درمیان نہ زیادہ ملاقاتیں ہوئیں نہ وعدے ، نہ آسمان سے ستارے توڑ لانے کے پیمان، وہ دونوں ہی عمل پر یقین رکھتے تھے۔ زندگی اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہے، یہی کافی ہے۔

اور یہ بھی اتفاق تھا کہ وہ اسی کے علاقے سے تعلق رکھتی تھی، وہ ایک ہی ضلع کی مختلف تحصیلوں کے رہائشی تھے، فریحہ عمر کے اس دور میں تھی جہاں بالوں میں چاندی جھلکنے لگی تھی۔ عمر تو اس کی بھی ایسی ہی تھی، مگر لڑکوں کی عمر سے بڑھ کر روزگار دیکھنے والی نگاہوں نے اسے قبولیت کی سند دے رکھی تھی۔ ہر بار گاؤں جانے پر والدہ کئی معززگھرانوں کا تذکرہ اس سے بڑی محبت سے کرتی تھیں، جو اس کے ایک مثبت اشارے پر اس کا رشتہ قبول کر سکتے تھے، مگر وہ ہر بار ہی ٹال کر آ جاتا۔اپنے آبائی علاقے سے سینکڑوں میل دور وہ دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے۔ بڑے شہر میں رہائش ایک بڑا مسئلہ تھا۔مہنگائی کے اس دور میں وہ دوستوں کے ہمراہ مشترکہ رہائش میں رہ رہا تھا، جبکہ فریحہ نے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ لے رکھا تھا، جس میں اس کے دو بھائی بھی ساتھ رہ رہے تھے۔ شادی کے بعد بھائی کہیں اور منتقل ہو گئے اور وہ فریحہ کے اپارٹمنٹ میں آگیا۔شادی کے بعد ابتدائی دور بہت سہانا تھا۔ فریحہ ہر کام بڑی پلاننگ کے ساتھ انجام دیتی، اور وہ بھی تعاون کو تیار رہتا۔ اسے اپنا ہر کام خود ہی کرنے کی عادت تھی، اور اب بن کہے چائے کا کپ بھی مل جاتا تو اس کا دل خوشی کے احساس سے بھر جاتا۔نکاح کا بندھن کتنا خوبصورت ہے، اطمینان اور خوشی ان کے چہروں سے عیاں تھی، اور بات بے بات اس کا اظہار بھی ہوتا۔ ہفتہ وار چھٹی کے دن وہ اصرار کر کے فریحہ کے بھائیوں کو گھر بلاتا اور اہتمام سے گھر میں کھانا بنتا یا وہ کہیں سیر سپاٹے کو چلے جاتے۔

معاذ کی آمد نے ان کی خوشی دو چند کر دی تھی۔ سردیوں میں وہ بڑے اصرار سے اماں کو گاؤں سے لے آیا تھا، اور وہ پورے دو مہینے ان کے ساتھ رہیں۔ فریحہ کا ان سے رویہ کچھ کھنچا کھنچا سا تھا۔ وقاص نے اس فاصلے کو محسوس کر لیا تھا، لیکن اس نے فریحہ سے اس پر احتجاج نہ کیا تھا۔ اماں تو چند ہفتوں کے لئے آئی ہیں، ان کے جانے کے بعد ہی فریحہ کو توجہ دلاؤں گا۔ البتہ اس مرتبہ جب فریحہ کے بھائی آئے تو اس کے اند ر بھی سرد مہری کی ایک کونپل نمو پانے لگی۔وہ بظاہر مسکراتا رہا اور فریحہ کے قہقہوں میں شامل رہا، لیکن ایسے ہر قہقہے پر اس کا چہرہ دھواں دھواں ہو جاتا، جسے شاید کسی نے بھی نہ دیکھا تھا۔اماں کے جانے کے دن قریب آ رہے تھے، وہ انہیں خوش کرنے میں لگا رہتا۔ وہ اس کے پاس پہلی مرتبہ اتنے دنوں کے لئے آئی تھی۔ اس نے اماں ابا کے لئے کپڑے وغیرہ خریدنے چاہے تو فریحہ نے یہ ذمہ داری اپنے سر لے لی۔

اس نے اپنا کریڈٹ کارڈ اسے دے دیا اور مطلوبہ بجٹ بھی بتا دیا، بلکہ اس سے کہا کہ اپنی امی ابو کے لئے بھی تحائف لے لینا۔ وہ بیٹے کو لئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گھر پہنچ کر اس نے تحائف دکھائے تو دونوں گھرانوں کی خریداری میں نمایاں فرق تھا۔ اس نے فریحہ کو متوجہ کیا تو وہ بے پرواہی سے کہنے لگی:

۔ ’’آپ کے اماں اباتو گاؤں میں رہتے ہیں، ایسے ہی کپڑے پہنے جاتے ہیں گاؤں میں ۔۔‘‘۔

۔ ’’تو تمہارے امی ابو بھی تو ۔۔‘‘۔

لیکن فریحہ نے اسے جملہ مکمل نہ کرنے دیا، اور چنگھاڑ کر بولی:

۔ ’’خبر دار جو میرے گھر کے کسی بندے کا نام لیا تو ۔۔ ‘‘۔

اس نے شاپنگ کے تھیلے زمین پر پٹخے اور یہ جا وہ جا۔ کئی دن تک ان کے درمیان کھنچاؤ رہا۔ وہ اکیلا ہی اماں کو بس پر بٹھانے گیا، اور ان کے ہاتھ پر کچھ اضافی رقم بھی رکھ دی۔ وہ اس سب سے بے نیاز اسے دعائیں دے رہی تھیں۔ اس کی اور بیوی بچوں کی آبادی اور سکھی رہنے کی دعائیں!معاذ دو سال کا ہو چکا تھا۔ اب ان کے درمیان گرما گرمی آئے دن کا معمول بن گئی تھی۔ ہفتہ وار چھٹی کے دن فریحہ کے بھائی بڑی باقاعدگی سے آتے، اس دوران فریحہ کا موڈ بھی بہت خوش گوار رہتا۔ گھر بھی صاف ستھرا اور باورچی خانہ بھی آباد! جونہی تعطیل مکمل ہوتی، فریحہ کا ایک نیا روپ ہی سامنے آ جاتا، اسے پرواہ بھی نہ ہوتی کہ اس کے میاں کو کیا پسند ہے کیا نا پسند۔ بس ایک ہنڈیا بنا دیتی، جس کے لئے روٹی عموماً تنور سے آ جاتی۔ اگر وہ کسی چیز کی فرمائش کرتا تو بھی عموماً اسے ٹال دیا جاتا، یا ایسا بنایا جاتا کہ جیسے سر سے اتارا گیا ہو۔کبھی سالن جل جاتا اور کبھی گندے برتنوں کا انبار اسے اس قابل بھی نہ چھوڑتا کہ وہ خود ہی چائے کا ایک کپ بنا لے۔

جب دلوں میں تنگی آنے لگے تو نعمتیں بھی نچھاور نہیں ہوتیں۔ ان دونوں نے بڑے خلوص سے اس رشتے کی ابتدا کی تھی، یہ گھر ان دونوں کا تھا، اور اس گھر کے چین اور اطمینان کے لئے وہ ایک دوسرے کو آرام پہنچانا چاہتے تھے۔ ہر فریق دوسرے کی عنایت اور نوازش کو محسوس کرتا تھا۔ ان کے چھوٹے سے گھر سے خوشی کے نغمے پھوٹتے تو اس کے درو دیوار گنگنا اٹھتے۔ اور معاذ کی صورت میں انہیں اپنا مستقبل مل گیا تھا۔ نجانے وہ کونسا لمحہ تھا، جب وہ ایک دوسرے سے بوجھل ہو گئے تھے؟ اماں کے آنے سے فریحہ کے مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہو گیا تھا، اور ان کے برسوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے بجائے، ان کی ہر بات کو وہ ایک ان پڑھ اور دیہاتی خاتون کی بات سمجھ کر اسے ماننے سے انکار کر دیتی تھی، ایسے میں اس کا دل چاہتا کہ اماں ہی خاموش ہو جائیں، اور اسے کوئی گر کی بات نہ بتائیں، مگر وہ اماں سے ایسی بات کہہ کر ان کا دل نہ توڑ سکتا تھا۔

اماں تو چلی گئیں، مگر ان کے تعلق کی دراڑ نہ مٹ سکی۔ اب فریحہ کے بھائی آتے تو وہ گھر میں نہ ٹکتا، کسی دوست کے ہاں چلا جاتا، کبھی کسی کام میں لگ جاتا، یا کچھ اور نہیں تو چھٹی کے دن بستر ہی میں پڑا رہتا، باہر کے ہنگامے کی آوازیں اس کا سکون برباد کرتی رہتیں، کبھی نت نئے کھانوں کی خوشبو اس کا دماغ خراب کرتی۔ معاذ ماما کا پیغام لے کر اسے بلانے آتا تو وہ نیند کا بہانہ کر دیتا، کبھی سر درد کا۔ اب گاہے گاہے اس کی زبان پر گلہ بھی آجاتا، اور کبھی تو وہ چیخ اٹھتا:

۔ ’’بھائیوں کے لئے تو سب تازہ پک جاتا ہے، کبھی شوہر کی قسمت بھی جاگے، ہم توپورا ہفتہ زہر مار کرتے ہیں ، بے مزا اور باسی کھانا‘‘۔

اور وہ تلملا کر کہتی:

۔ ’’تم بھی کھا لیتے ۔۔ جب اہتمام سے کچھ پکے ،تو کونسا تم تعریف کر دیتے ہو ۔۔ میرے بھائی ہی اچھے ہیں، کھا کر شکریہ تو کہتے ہیں نا‘‘۔

تناؤ کی اس کیفیت میںبھی ان کے لئے واحد تفریح معاذ تھا، جس سے ان دونوں کا بڑا بے غرض رشتہ تھا، اور اتنی کشیدگی نے اس معاملے میں ان کے رویے کو مثبت ہی رکھا تھا۔ اب وہ دونوں الگ الگ شاپنگ کرنے لگے تھے، مگر دونوں کی ترجیح ِ اول معاذ تھا۔ اس کے کھلونے، کپڑے، اور جسمانی اور ذہنی نشونما کی مددگار چیزیں۔فریحہ اس کی صحت کا خیال بھی رکھتی، میاں کے لئے چائے کا کپ بھی اس کے لئے بوجھ بن جاتا لیکن معاذ کے لئے بھاگ کر اٹھ کھڑی ہوتی۔یہی حال وقاص کا تھا، وہ اس کی تربیت کا خاص خیال رکھتا۔ جب سے معاذ چیزوں کو سمجھنے لگا تھا، وہ اس کے سامنے تلخی سے اجتناب کرتے۔اپنی اپنی جگہ وہ دونوں محسوس کر رہے تھے کہ ان کے درمیان دوری اور سرد مہری معاذ کے حق میں بہتر نہیں، اسی لئے ان کے رویے میں بہتری بھی آ جاتی لیکن پھر ساکن پانی میں گرنے والا کوئی پتھر اس کی لہروں میں ہلچل پیدا کر دیتا۔ وقاص سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ان کی لگی بندھی زندگی میں کبھی ایسی شورش بھی جنم لے سکتی ہے کہ اس گھر کی دیواروں کو متزلزل کر دے۔ بات اتنی بڑی بھی نہ تھی، لیکن جب شروع ہوئی تو شیطان کی آنت کی طرح بڑھتی ہی چلی گئی۔

فریحہ نے چند روز قبل اسے ایک پارسل دیا تھا کہ اسے ٹی سی ایس کر دے۔ پارسل کچھ بڑا تھا، ایک شیطانی خیال اس کے دل میں آیا کہ وہ بھی تو دیکھے کہ اپنے میکے میں کیا بھجوایا جا رہا ہے۔ وہ دانستہ طور پر اس روز پارسل گھر ہی چھوڑ گیا۔ اس روز وہ دفتر سے جلد ہی گھر آ گیا، اس نے پارسل کو احتیاط سے کھول کر دیکھا۔ اور پھر غصّے سے اس کا دماغ کھول کر رہ گیا، فریحہ اپنے میکے میں اتنے قیمتی تحائف بھجوا رہی تھی، اور اسے خبر بھی نہ تھی۔ اس نے اسی ناگواری میں پارسل بند کیا، لیکن اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ ایک تحفہ کھسک کر بستر سے نیچے جا پڑا ہے۔ وہ پارسل بھیج کر واپس لوٹا تو غصّے سے کھول رہا تھا۔ فریحہ نے آہستہ آہستہ گھر کے اخراجات سے ہاتھ کھینچ لیا تھا، اور وہ یہی تاثر دیتی تھی کہ اس کا ہاتھ تنگ ہے۔ یوں گھر کے اخراجات کی زیادہ تر ذمہ داری اس کے کندھوں پر آ گئی تھی۔ جب وہ ٹھنڈا اور بے مزا کھانا کھا رہا ہے، اور گھر کے بہت سے کاموں میں حصّہ ڈال رہا ہے تو کیا فریحہ کی تنخواہ پر اس کا کوئی حق نہیں؟ گزشتہ چند دنوں کے کئی واقعات اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے جب فریحہ نے اس کے سامنے ضروریات کے لئے پیسے نہ ہونے کا رونا رویا تھا۔ اس متضاد رویے نے اسے اندر تک بھڑکا دیا کہ وہ اسے تو صاف انکار کرے اور اپنے میکہ والوں پر اس مال کو نچھاور کرے۔

ابھی اس نے فریحہ سے دو دو ہاتھ بھی نہ کئے تھے کہ فریحہ کو پارسل سے باہر گرنے والا تحفہ ہاتھ آگیا، اور اب وہ اس سے چلا چلا کر پوچھ رہی تھی کہ کیا اس نے اس پارسل کو اس کی اجازت کے بغیر کھولا تھا؟ اور اسے جرآت کیسے ہوئی کہ وہ اپنی بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس روز ان کی ایسے ہی لڑائی ہوئی جس طرح بے نتھے بیل لڑتے ہیں، نہ انہیں پڑوسیوں تک آوازیں پہنچنے کا احساس ہوا نہ معاذ کے چیخنے چلانے کا، جو پڑھے لکھے والدین کو جاہلوں کی طرح لڑتے دیکھ کر ہلکان ہو رہا تھا۔ سونے پر سہاگہ اسی وقت فریحہ کے کڑیل بھائی بھی پہنچ گئے، جنہوں نے مار مار کر وقاص کا بھرکس نکال دیا۔

اگلے دن اس نے ایک بزرگ پڑوسی کی مدد سے مصالحت کرنا چاہی تو فریحہ اور اس کے بھائیوں نے صاف انکار کر دیا، بلکہ اس کے کپڑوں کا سوٹ کیس اسے تھما دیا گیا۔ اسی تناؤ میں چند روز اور بیت گئے، وہ ایک مرتبہ پھر اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے اسی دروازے پر کھڑا تھا، جہاں سے فریحہ کے بھائی نے بڑی بد تمیزی سے اسے دھتکار دیا۔ اگلے کئی مہینے انہیں کوششوں میں لگ گئے کہ کوئی مصالحت کار ان کے درمیان معاملات سنوار دے، لیکن تعلقات کی الجھی ڈور مزید الجھتی چلی جا رہی تھی۔وہ جس قدر لچک کا مظاہرہ کر رہا تھا، فریحہ اور اس کے کنبے کی جانب سے اسی قدر کٹھورپن برتا جا رہا تھا۔ فریحہ نے اس کا نمبر بلاک کر دیا تھا۔اس نے ایک فیملی فرینڈ کی وساطت سے رابطہ کرنا چاہا تو دو لفظی جواب ملا: ’’طلاق چاہئیے‘‘۔

اور اس کا جواب تھا: ’’نہیں بسنا تو خلع لے لو‘‘۔یعنی دل تو ایک دوسرے سے متنفر ہو چکے تھے، اب دونوں جانب نظریں اس مال پر تھیں جو اس معاہدے کو قائم کرتے وقت بطور مہر دیا گیا تھا۔ طلاق کی صورت میں وہ مال فریحہ کی جھولی میں رہتا اور خلع کی صورت میں وقاص اس مال کا مطالبہ کر سکتا تھا، اور دونوں ہی کے لئے دس تولے سونا بہت قیمتی ہو گیا تھا۔
ماہر وکیل کی فیس ادا کرنے کے بعد فریحہ کے حصّے میں کتنا مال آیا تھا اور وقاص کے پاس کیا بچا تھا ، اس سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے، ان کا اصل نقصان تو یہ تھا کہ ان کا مستقبل معاذ ہی خطرے میں تھا۔ دونوں ماموں اب مستقل طور پر ان کے گھر آ چکے تھے، اور بات بے بات معاذ کی پٹائی بھی کر ڈالتے تھے، اس کے باپ کو برا بھلا کہنا اور گالیاں دینا بھی معمول تھا۔ اب ہر مہینے وہ ایک ویک اینڈ اپنے باپ کے ساتھ گزارتا ، اور سات برس کی عمر میں اسے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنے اچھے بابا اس کی اتنی شفیق ماما کے ساتھ کیوں نہیں رہتے، اور ماموں جب بھی اسے برا بھلا کہتے ہیں، تو اس کی ماں اتنی خاموش کیوں ہو جاتی ہے۔

اس روز سوموار کی صبح جب اسے بابا واپس چھوڑنے آنے تو ماما بس سٹاپ پر ہی کھڑی تھیں، اسے خدا حافظ کہتے ہوئے بابا نے ماما کو بھی سلام کر دیا۔ ہمیشہ تو وہ اسے گھر کے دروازے پر اتارا کرتے تھے، اور کسی سے ملے بغیر ہی آ جاتے تھے۔ ماما بابادونوں کی نگاہوں میں حیرت تھی۔ دونوں ہی خاموش تھے۔ پھر جب تک انہیں بس نہیں ملی ، باباکچھ دور کھڑے انہیں تکتے رہے۔اور اس روز گھر آکر وہ بے اختیار ہی کہہ بیٹھا:

۔ ’’بابا بہت اچھے ہیں ماما ۔۔ آپ کی ان سے لڑائی کیوں ہو گئی تھی‘‘۔

فریحہ خاموش تھی، لیکن وہ سوچ رہی تھی، آخر ان کی لڑائی کیوں ہو گئی تھی۔ وہ تو دو محبت کرنے والے وجود تھے، وہ یک جان دو قالب کیوں نہ بن سکے۔۔ وہ تین دن سے سوچوں میں گم تھی، اور آج وہ انہیں بزرگ پڑوسی جوڑے کے سامنے بیٹھی تھی، عرقِ انفعال اس کا چہرہ بھگو رہے تھے،وہ پچھلے قصوروں کی تلافی کا ارادہ لے کر آئی تھی۔وقاص سے دوبارہ نکاح کے لئے، آج وہ انہیں سے مدد کی خواہاں تھی۔ دس سالہ معاذ نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔معاذ کے سامنے اپنا مقدمہ جیتنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے ہی سامنے اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ، اس کے گھر کی دیواریں اس کے تکبر اور خود غرضی کی بھینٹ چڑھ گئی تھیں۔ ’’اور غلطیاں انسانوں ہی سے ہوتی ہیں‘‘۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */