رہ گئ رسم اذاں - ثریا ملک

یوں تو ہمیشہ ہی سے مناسک حج سے،اس ماحول سے ہر مومن کی طرح خاص لگاؤ ہوتا ہے لیکن اس دفعہ دل اور رقیق تھا کیوں کہ ہمارا بھی نام آ گیا تھا خوش نصیبوں میں ۔۔۔۔خیر جو اللّٰہ کی رضا۔ہر سال ہی احساس ہوتا ہے اس سال ذرا زیادہ ہوا کہ وہ جگہ جہاں سے human charter کو نشر ہونا چاہیے تھا ،ان حالات میں مسلمانوں کا کوئ مشترکہ لائحہ عمل سامنے انا چاہیے تھا وہاں ایک Pro American گورنمنٹ کا منظور شدہ کنٹرولڈ خطبہ سامنے آیا بے شک اس سال اردو میں ترجمعہ بھی ساتھ ساتھ تھا لیکن جو تشنگی محسوس ہوئی اس کا ملال نہیں جاتا۔

"رہ گئ رسم اذان روح بلالی نہ رہی"

یہ فنگس پھر ایسا پھیلایا گیا اور اجتماعی حیثیت میں اس نے ہمارے دل ودماغ کو ایسا کنٹرول کیا ہے کہ عمومی زندگی کے مسائل میں بھی یہ چیز جھلکتی ہے ۔بارشوں کے بعد کی بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے جب لوگوں نے کام کرنا چاہا تو پھر ایک عمارت کی تلاش ہوئ جہاں بیٹھ کر اسٹریٹجیز بنائ جا سکے ،ہم نے جھٹ ہر علاقے کی مسجدوں کو اس مقصد کے لیے استمعال کرنے کا مشورہ دیا ،اس پر ہمارے کچھ برادران ناراض ہوگئے کہ "مسجد کو پر سکون رہنے دیا جائے تاکہ پر سکون عبادت ہو سکے"

اس دور پر آشوب میں سکوں کی تلاش ہے ۔ اب عید کی نماز کو ہی دیکھ لیں ، اکثر جگہوں پر نماز میں امام صاحب نے اردو میں دس بارہ منٹ کا خطبہ دیا- 90 فیصد گفتگو عقیدہ توحید سے متعلق رکھی گئی کراچی کے مسائل پر عالمی صورتحال پر کوئ بات نہیں۔کورونا سے نجات کے لیئے دعا کو اکثر جگہوں پر نظر انداز کیا گیا۔ نماز کے بڑے اجتماعات کو لوگوں میں سیاسی و سماجی شعور کی بیداری کے لیئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ کرنا بھی چاہیے۔کاش علمائے کرام منبر کے اصل مقام اور اہمیت کو سمجھیں-

اللہ نے امانت درست لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ہے- ووٹ بھی ایک طرح کی امانت ہے اور اہم امانت ہے- اسے بھی پوری احتیاط اور شعور کے ساتھ اہل لوگوں کے حق میں استعمال کیا جائے-یہ پیغام بھی منبر سے جانا چاہیے۔لیکن ہم سب دین بھی سعودی عرب سے سیکھتے ہیں اور وہاں ایسا نہیں ہوتا لہذا خود دین دار طبقہ مسجدوں کو استمعال کرنے کا مخالف ہے۔
شوہر کونسلر رہ چکے ہیں ان کے دور میں بلاک #6 کے لوگوں کا رویہ یاد ہے ،ایک ایک اوجھڑی کے لیے فون آتے تھے ،بارشوں میں ریسکیو کا کام اور ضروری اشیاء کی فراہمی یہ سب ہمارے لوگوں کا خاصہ تھا لیکن آج لوگوں کی خاموشی اور کمیونٹی کے لیے کسی پلیٹ فارم کی کمی نے علاقے کی حالت کو دگر گوں کر دیا ہے۔پی ای سی ایچ ایس کی خواتین کی پانی سے بھرے گھر کی وڈیو تو خوب وائرل ہوئ لیکن کوئ ان کو یاد تو دلائے کہ انھوں نے ووٹ کس کو دیا تھا؟بلکہ ہمیں تو یہ بھی یاد ہے الیکشن کے دوران ایک مدرسہ میں ورکشاپ کروائی تھی جس کا عنوان تھا"آؤ اللّٰہ کی طرف"اس میں ووٹ کے درست استمعال پر بات کرنے کی وجہ سے محلہ کی کچھ خواتین ناراض ہو گئ تھی کہ اس کا اللّٰہ سے کیا تعلق ؟؟؟
شاید آج ان کو بات سمجھ آ گی ہو۔

ہمیں تو اس دن کا انتظار ہے اور دعا کہ اپنی زندگی میں وہ وقت دیکھ لیں کہ جب سماجی ،سیاسی ،معاشی زندگی کہ ہر پہلو پر مسجد حاوی ہو ،امام قابل تقلید ہو،ملا کی اذاں مجاہد کی اذاں بھی ہو۔امت مسلمہ ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھی کہ اس وقت دنیا کا چیلنج اور ہمارا چیلنج مختلف ہے ۔ہم پر معاشی ،نفسیاتی اور جسمانی سارے وار کر کے بیکار کیا جا رہا ہے بظاہر صورتحال ایک جیسی ہے لیکن اس دنیا کا کنٹرول جن کے ہاتھ میں ہے ان کے لیے معاشی جھٹکے سے نکلنا بہت آسان ہے اور ہو گا ۔ ہمیں ضرورت ہے ایک ایسے پلیٹ فارم جو او آئی سیOIC کی طرح غیر فعال نہ ہو جہاں بیٹھ کر ہم ان مسائل سے نکلنے کی کوشش کرتے اور وہ جگہ میدان عرفات ہی ہو سکتی تھی اور وہاں سے ٹرینڈ بن سکتا تھا مگر ۔۔۔۔

ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ

وہاں دِگرگُوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ

کنارِ دریا خضَر نے مجھ سے کہا بہ اندازِ محرمانہ

سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ

خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی

عمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */