خاتونِ مشرق - حبیب الرحمن

جوش ملیح آبادی اردو کے ان عظیم شعرا میں شمار کئے جاتے ہیں جن کے قلم اور زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو سند حاصل ہے اور جس لفظ کے متعلق اگر انھوں نے فرما دیا کہ یہ لفظ اردو کا ہے، ادبا نے اس کی کبھی نفی نہیں کی۔ ان کی شخصیت بے شک کئی اعتبار سے بہت متنازع رہی ہے لیکن یہ بات مانا پڑے گی کہ پاکستان کی جد و جہد میں ان کا اس لحاظ سے بہت احترام پایا جاتا ہے کہ انگریزوں کی حکومت کے خلاف اپنی زبان کھولنے کے سلسلے میں وہ دو مرتبہ پسِ دیوار زنداں ڈالے گئے۔

اس دور کی دو نظمیں انگریز سرکار کی ناراضگی کا سبب بنیں جن میں ایک نظم "بغاوت" تھی جس پر انھیں قید کرلیا گیا تھا، رہائی کے بعد باہر آئے تو "ہٹلر کو سلام" کے عنوان سے نظم داغ دی جس پر ان کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ وہ جس عقیدے کے حامل تھے، اسے کبھی پوشیدہ نہیں رکھا لیکن اس کے باوجود بھی خانقاہوں میں ہونے والی ساری ریاکاریوں کے سخت مخالف تھے۔ اس سلسلے کی کئی نظموں میں سے سب سے زیادہ "فتنہ خانقاہ" کے عنوان کے تحت کہی گئی نظم نے بہت شہرت حاصل کی۔ ان کی یہ نظم خانقاہوں میں ہونے والی ریاکارانہ عبادتوں کی خوب خوب عکاسی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ روایتی مولویوں کے خلاف بھی اسی طرح کے خیالات رکھتے تھے جیسے اُس دور کے اور بہت سارے شعرا، جن میں اکبر الٰہ بادی، الطاف حسین حالی اور علامہ اقبال جیسے شعرا شامل ہیں۔ "شیخ کی مناجات" "مولوی سے ملاقات" کے عنوان سے لکھی گئیں نظمیں ایسے نیم ملاؤں کے ریاکارنہ انداز اور چشمکوں کا نقشہ بہت خوبصورتی کے ساتھ کھینچتی نظر آتی ہیں۔

ان کا ذاتی کردار کیا تھا، یہ ایک الگ بحث لیکن وہ ایک مشرقی عورت کو کس روپ میں دیکھنا چاہتے تھے، اس کو "خاتونِ مشرق" کے عنوان کے تحت نظم میں انھوں نے جس انداز میں بیان کیا ہے، یہ جوش کا اپنا ہی خاصہ ہے۔ نظم کا ایک ایک مصرع اتنا مرصع ہے جیسے ہر مصرع میں موتی جڑ دیئے ہوں۔ نظم کیا ہے، اس کے آگے نثر بھی شرما کر رہ جائے۔ میں نے آج تک اس تسلسل کے ساتھ ایک مشرقی خاتون کی سچی تصویر کشی کرتے کسی اعلیٰ سے اعلیٰ نثر نگار کو بھی نہیں دیکھا۔ اپنے ظاہری انداز اور بود و باش کے لحاظ "میرا جسم میری مرضی" کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد اسی نظم کے آخری اشعار میں ایسی ہر سوچ کی دھجیاں بکھیرتا ہوا نظر آتا ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کوئی انسان خود کتنا ہی کیوں نہ بگڑ جائے، اپنے معاشرے کو اپنے جیسا بگڑا ہوا دیکھنا گوارہ نہیں کرتا۔

با الفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو غلط کو غلط سمجھتا ہو اس کا درست راستوں کی جانب پلٹ آنا ناممکن نہیں ہوا کرتا۔ ایسی ہی سب باتوں اور ان کے اس نظم میں بیان کئے گئے جذبوں کو سامنے رکھ کرمیں ایسا خیال کرتا ہوں کہ اگر ان کی اس نظم میں بیان کئے گئے خیالات کو ہر عام و خاص تک نہ پہنچا یا جائے تو شاید یہ ایک بہت بڑی خیانت ہو۔ انھوں نے مذکورہ نظم میں نہ صرف ایک مشرقی عورت کی بہترین تصویر کشی کی بلکہ اس بات کا اظہار بھی کیا کہ وہ ایک عورت کو کس روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے آگے میں کچھ اور تحریر نہیں کرنا چاہتا سوائے اس کے کہ مجھے سارے قارئین، خصوصاً مشرقی خیالات رکھنے والے حضرات و خواتین اس بات سے ضرور آگاہ کریں کہ میرا انتخاب آپ سب کو کیسا لگا۔

غنچہ دل مرد کا روز ازل جب کھل چکا

جس قدر تقدیر میں لکھا ہوا تھا مل چکا

دفعتاً گونجی صدا پھر عالم انوار میں

عورتیں دنیا کی حاضر ہوں مرے دربار میں

عورتوں کا کارواں پر کارواں آنے لگا

پھر فضا میں پرچم انعام لہرانے لگا

ناز سے حوریں ترانے حمد کے گانے لگیں

عورتیں بھر بھر کے اپنی جھولیاں جانے لگیں

جب رہا کچھ بھی نہ باقی کیسہ انعام میں

کانپتی حاضر ہوئیں پھر ایشیا کی عورتیں

دل میں خوف شومئی قسمت سے گھبرائی ہوئی

رعب سے نیچی نگاہیں آنکھ شرمائی ہوئی

حلم کے سانچے میں روح ناز کو ڈھالے ہوئے

گردنوں میں خم سروں پر چادریں ڈالے ہوئے

آخر اس انداز پر رحمت کو پیار آ ہی گیا

مے کدے پر جھوم کر ابر بہار آ ہی گیا

مسکرا کر خالق ارض و سما نے دی ندا

اے غزال مشرقی آ تخت کے نزدیک آ

نعمتیں سب بٹ چکیں لیکن نہ ہونا مضمحل

سب کو بخشے ہیں دماغ اور لے تجھے دیتے ہیں دل

یہ وہی دل ہے جو مضطر ہوکے سوز و ساز سے

میرے پہلو میں دھڑکتا تھا عجب انداز سے

تجھ کو وہ رخ اپنی ہستی کا دیئے دیتے ہیں ہم

جس میں یزدانی نسائیت کی زلفوں کے ہیں خم

آ کہ تجھ کو صاحب مہر و وفا کرتے ہیں ہم

لے خود اپنی جنبش مژگاں عطا کرتے ہیں ہم

پہلوئے خاتون مشرق میں بصد تمکین و ناز

منتقل ہو جا الوہیت کے سینے کے گداز

عورتیں اقوام عالم کی بھٹک جائیں گی جب

تو رہے گی بن کے اس طوفاں میں اک موج طرب

حسن ہو جائے گا جب اوروں کا وقف خاص و عام

دیدنی ہوگا ترے خلوت کدے کا اہتمام

عالم نسواں پہ کالی رات جب چھا جائے گی

یہ ترے ماتھے کی بندی صبح کو شرمائے گی

عورتیں بیچیں گی جب اسٹیج پر با رقص و چنگ

اپنی آنکھوں کی لگاوٹ اپنے رخساروں کا رنگ

ان کے آگے ہر نیا میدان ہوگا جلوہ گاہ

اور ترا اسٹیج ہوگا صرف شوہر کی نگاہ

گودیاں پھیلا کے جب مانگیں گی با صدق و صفا

عورتیں اولاد کے پیدا نہ ہونے کی دعا

مژدہ باد اے ایشیا کی دختر پاکیزہ تر

آنچ آئے گی نہ تیرے مادرانہ ذوق پر

ماؤں کی غفلت سے جب بچوں کو پہنچے گا گزند

جب فغاں بے تربیت اولاد کی ہوگی بلند

صرف اک تیرا تبسم اے جمال تابناک

سینہ اطفال میں پیدا کرے گا روح پاک

وہ حرارت تیرے ہونٹوں کی نہ ہوگی پائمال

جس کے شعلوں سے نکھر جاتا ہے رنگ نونہال

وہ تری معصوم رعنائی نہ ہوگی مضمحل

بخشتی ہے نسل انسانی کے پہلو کو جو دل

وہ بھی دن آئے گا جب تجھ کو ہی اے مست حجاب

زیب دے گا مادر اولاد آدم کا خطاب

جب کرے گی صنف نازک اپنی عریانی پہ ناز

صرف تو اک اس تلاطم میں رہے گی پاکباز

ان کے دل جب ہوں گے یاد معصیت سے پاش پاش

تیرے رخ پر ایک بھی ہوگی نہ ماضی کی خراش

ان کی راتیں خوف رسوائی سے ہوں گی جب دراز

تیرے سینے میں کسی شب کا نہ ہوگا کوئی راز

دہشت فردا سے تھرائے گا جب ان کا غرور

حال سے تو ہوگی راضی خوف مستقبل سے دور

جب اڑے گی ان کی چشم دام پروردہ میں خاک

نرم ڈورے تیری آنکھوں کے رہیں گے تابناک

نرم ہوں گے تیرے جلوے بھی تری گفتار بھی

با حیا ہوگی تری پازیب کی جھنکار بھی

چھاؤں بھی ہوگی نہ تیری بزم ناؤ نوش میں

تیرا پرتو تک رہے گا شرم کی آغوش میں

اے شعاع ارض مشرق تیری عفت کا شعار

کج کرے گا ملک و ملت کی کلاہ افتخار

آبرو ہوگا گھرانے بھر کی تیرا رکھ رکھاؤ

دے گا تیرا باپ شان فخر سے مونچھوں پہ تاؤ

تیری آنکھوں کی کرن سے اے جہان اعتبار

جگمگائے گی نسب ناموں کی لوح زر نگار

بو الہوس کا سر جھکا دے گی تری ادنیٰ جھلک

ہوگی لہجے میں ترے نبض طہارت کی دھمک

تیری پیشانی پہ جھلکے گا مثال برق طور

طفل کا ناز شرافت اور شوہر کا غرور

علم سے ہر چند تجھ کو کم کیا ہے بہرہ مند

لیکن اس سے ہو نہ اے معصوم عورت درد مند

جب ضرورت سے زیادہ ناز فرماتا ہے علم

عارض تاباں کے بھولے پن کو کھا جاتا ہے علم

نطق ہو جاتا ہے علمی اصطلاحوں سے اداس

لعل لب میں شہد کی باقی نہیں رہتی مٹھاس

علم اٹھا لیتا ہے بزم جاں سے شمع اعتقاد

خال و خد کی موت ہے چہرے کی شان اجتہاد

قعر وحشت کی طرف مڑتی ہے اکثر راہ فن

جھانکتی رہتی ہے اس غرفے سے چشم اہرمن

چھوڑ دیتی ہے تکلم کو ملائم قیل و قال

علم کا حد سے گزر جانا ہے توہین جمال

علم سے بڑھتی ہے عقل اور عقل ہے وہ بددماغ

جو بجھا دیتی ہے سینے میں محبت کا چراغ

علم سے باقی نہیں رہتے محبت کے صفات

اور محبت ہے فقط لے دے کے تیری کائنات

دیکھ تجھ پر علم کی بھرپور پڑ جائے نہ ضرب

بھاگ اس پردے میں ہیں شیطان کے آلات حرب

علم سے رہتی ہے پابند شکن جس کی جبیں

ناز سے شانوں پر اس کی زلف لہراتی نہیں

وقت سے پہلے بلا لیتے ہیں پیری کو علوم

عمر سے آگے نکل جاتے ہیں چہرے بالعموم

جن لبوں کو چاٹ پڑ جاتی ہے قیل و قال کی

ان کی گرمی کو ترستی ہے جبیں اطفال کی

اک جنوں پرور بگولا ہے وہ علم بے وثوق

جس کی رو میں کانپنے لگتے ہیں شوہر کے حقوق

دور ہی سے ایسے علم جہل پرور کو سلام

حسن نسواں کو بنا دیتا ہو جو جاگیر عام

جس جگہ حوران جنت کا کیا ہے تذکرہ

کیا کہا ہے اور بھی کچھ ہم نے جز حسن و حیا

تذکرہ حوروں کا ہے محض ایک تصویر جمال

ہم نے کیا ان کو کہا ہے ''صاحب فضل و کمال''

ہیچ ہے ہر چیز زیور غازہ افشاں رنگ و خال

حسن خود اپنی جگہ ہے سو کمالوں کا کمال

چاندنی، قوس قزح، عورت، شگوفہ، لالہ زار

علم کا ان نرم شانوں پر کوئی رکھتا ہے بار؟

روشنائی میں کہیں گھلتی ہے موج ماہتاب

کیا کوئی اوراق گل پر طبع کرتا ہے کتاب

میرے عالم میں نہیں اس بدمذاقی کا شعار

کاکل افسانہ ہو دوش حقیقت سے دو چار

حسن کا آغوش رنگیں دل فریب و دل ربا

علم سے بن جائے اقلیدس کا محض اک دائرہ!

مصحف روئے کتابی روکش ناز گلاب

اور بن جائے یہ نعمت دفتر علم حساب

نغمہ شیریں کے دامن میں ہو شور کائنات

بزم کاوش میں جلے شمع شبستان حیات

گرم ہو تیزاب کی کھولن سے لالے کا ایاغ

غنچہ نورس کا طاق اور پیر مکتب کا چراغ

شہپر بلبل پہ کھینچی جائے تصویر شغال!

موتیوں پر ثبت ہو طوفان کی مہر جلال

صبح غرق بحث ہو غنچے کھلانے کے عوض

درس دیں موجیں صبا کی گنگنانے کی عوض

تو نہ کرنا مغربی متوالیوں کی ریس دیکھ

گھات میں تیری لگا ہے فتنہ ابلیس دیکھ

تو نہ ان کی طرح بھرنا عرصہ فن میں چھلانگ

کوکھ تا ٹھنڈی رہے بچوں سے اور صندل سے مانگ

دختران مغربی کو دے نہ عورت کا خطاب

یہ مجسم ہو گئے ہیں کچھ گنہ گاروں کے خواب

پھر رہی ہیں یا تری نظروں کے آگے پر فشاں

عورتوں کے بھیس میں شیطان کی سرتابیاں

علم حاصل کر فقط تدبیر منزل کے لیے

وہ دماغوں کے لیے ہیں اور تو دل کے لیے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */