اللہ کو پردہ پوشی پسند ہے - حافظ نعیم

امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ:"میری ایک بیٹی تھی دور جاہلیت میں میں نے اس کو زندہ درگور کردیا تھا،لیکن مرنے سے پہلے اس کو دوبارہ نکال دیا تھا۔پھر اسلام آیا تو وہ ہمارے ساتھ ایمان لائی،ایمان لانے کے بعد اس سے زنا ہوگئی۔اس کے بعد چھری لیکر اس نے خود کو ذبح کرنا چاہا،وہ بعض رگوں کو کاٹ چکی تھی کہ ہم پہنچے اور اس کو بچا لیا۔ہم نے اس کا علاج کرایا اور وہ ٹھیک ہوگئی،اس کے بعد اس نے دل سے توبہ کرلی۔

اب ایک عادمی نے نکاح کا پیغام ارسال کیا ہے،تو کیا میں اسے اپنی بیٹی کا پرانا کردار بتادوں؟حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا:"کیا تم اس چیز کو ظاہر کرنا چاہتے ہو،جو اللہ تعالی نے چھپا کر رکھی ہے؟خدا کی قسم!اگر تم نے کسی کو بھی اس کے پچھلے کردار کا بتایا،تو میں تمہیں پوری دنیا کے لئے عبرت بنادوں گا۔اس کو ایک پاکیزہ مسلمان عورت کی طرح نکاح کراؤ"۔(کنز الاعمال 150/2)

اللہ تعالی پردہ پوش ہے اور پردے کو پسند فرماتا ہے اور معاشرے کو صاف و پاکیزہ دیکھنا چاہتا ہے۔انسان کا غلطی کر جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے،اس لئے کہ ہر انسان کسی نہ کسی طرح خطاکار ہے۔قابل توجہ اور اہم بات صرف یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں بے حیائی عام نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زنا کے جرم میں سختی سے کام لیا ہے اور اس کے ثبوت کے لئے ایسے چار قابل اعتماد گواہوں کی شرط لگائی ہے،جنہوں نے زنا کے اس عمل کو دن دیہاڑے اور کھلے عام تفصیلا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور یہ شرائط ایسی ہیں کہ عام حالات میں ان کا پایا جانا تقریباً ناممکن ہے۔ کیوں؟اس لئے کہ معاشرے میں بے حیائی کو فروغ نہ ملے۔اس منظر میں ہمارے سامنے ایک نوجوان لڑکی کا کردار ہے،جو غلطی کر بیٹھی ہے اس نے توبہ کر کہ اپنی سیرت و کردار کی اصلاح کردی ہے۔

امیرالمومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ اس کے والد کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر تم نے اپنی بیٹی کا پردہ چاک کیا یا راز فاش کردیا تو تمہیں پوری دنیا کے لئے نشان عبرت بنادوں گا۔
وہ مسلمان لڑکی جس نے سچی توبہ کرلی اور معاشرے نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوے اس پر پردہ ڈالا۔ایسے معاشرے کے لئے اس کے دل میں ایثار و قربانی کا کتنا جذبہ پیدا ہوا ہوگا،جس نے اس کے حقوق کا خیال رکھا اور اس کو تباہی سے بچا لیا۔اسلامی تربیت صرف امر و نہی اور مار پیٹ کا نام نہیں ہے،بلکہ شفقت،محبت،پروقار زندگی اور رازوں کی حفاظت بھی اس کا حصہ ہے۔

آج بھی کتنے ہی ایسے مسائل اور واقعے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں اور معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کے رازوں سے پردہ چاک کرتے ہیں،جس کے باعث جھگڑے،خاندانی مسائل کے وجود کو فروغ ملتا ہے۔موجودہ دور میں اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ فرد خوشحال ہو اور معاشرہ بھی ترقی کرے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com