اندھیری رات کا چراغ - ردا بشیر

"تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ سوچنے کی بھی۔تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دوں گا"۔

وہ غصے سے چیخ رہے تھے۔اس نے سر جھکا کر کہا: "ابا جان!میں فیصلہ کرچکا ہوں مجھے میڈیکل میں نہیں جانا، میں تبلیغی جماعت کے ساتھ جاؤں گا"

وہ غصے سے شعلہ بیانی کرتے ہوئے مخاطب ہوئے: وہ رہا باہر کا دروازہ۔آج سے ہمارا تمہارا کوئی تعلق نہیں۔

تو جناب! یہ گھر سے بے دخل ہونے والا نوجوان آج کے مشہور مذہبی سکالر"مولانا طارق جمیل صاحب"تھے۔ انہیں گھر سے نکالنے والے ان کے والد محترم تھے، جو ایک بڑے زمیندار تھے۔ راجپوت خاندان کا چشم و چراغ بغیر کچھ سوچے سمجھے گھر سے بے گھر ہوگیا۔ وہ کیا سوچ کر اتنا بڑا فیصلہ کرگیا۔ کس کے بھروسے پر؟

کچھ عرصہ قبل مجھے بھی کسی نے کہا تھا کہ"ردا! اللّٰہ تمہارا ایسے بازو پکڑے گا تمہیں سمجھ بھی نہیں آئےگی" لیکن مجھے بات سمجھ نہیں آئی تھی۔

مولانا کا ذکر کر رہی تھی کہ کسے معلوم تھا یہ انسان لاکھوں کی تعداد میں انسانوں‌ کو راہ راست پر لائے گا۔ بہت سوں‌کو گناہوں‌ کی دلدل سے نکالے گا. کسے معلوم تھا کہ 500 بااثر مسلمانوں کی فہرست میں اس کا نام با رہا شامل کیا جائے گا۔ لیکن یہ بات بھی کسے معلوم تھی کہ یہ حلاوت اور مٹھاس بھرے لہجے والا انسان براہ راست نشریات میں ایک معمولی صحافی کے ہاتھوں سچ بولنے پر یوں‌ بدنام کیا جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ میڈیا میں جھوٹ کی بنیاد رکھنے والا ہی وہ شخص ہے جو بہت مظلوم بنا ہوا تھا۔ ایک بہت ہی قابل اور مایہ ناز صحافی نے کہا ہے کہ قابل احترام صحافی صاحب میرے ساتھ کسی بھی نشست میں بیٹھ جائیے آپ کی ایک ہزار سے زائد خبریں جھوٹی ثابت کروں گا۔ صحافت میں جھوٹ کی بنیاد ہی آپ نے رکھی"

لیکن میں حیران ہوں کہ کیسے مظلوم بن جاتے ہیں۔ معافی منگواکر ہی دم لیا۔ اپنے آپ کو مکمل صاف ستھرا کہلواکر ہی دم لیا۔

ایک بات جو ذہن کے پردوں پر بارہا سر اٹھاتی ہے کہ "کیا جھوٹ کو جھوٹ کہنا گناہ ہے؟"

یہ بات میں آپ اور پوری دنیا جانتی ہے کہ میڈیا جھوٹ بولتا ہے اور بہت زیادہ بولتا ہے تو مولانا کی بات پر اتنا بھڑکنے کی ضرورت کیا تھی؟ ان کے سچ کہنے اور حق پر ہونے کے باوجود بھی معافی مانگ لینے پر ان کی عزت اور قدر میں اور اضافہ ہوگیا۔ لوگ ان کے مزید گرویدہ ہوگئے۔ ان کے والد کو آج ان پرصحیح معنوں میں فخر ہوگا کہ ان کے ایک فیصلے کے انکار پر آج بہت سے لوگ صحیح راستے پر ہیں۔ شاید وہ اتنی انسانیت کی خدمت ڈاکٹر بن کر نا کرپاتے جتنی ایک عالم دین بن کر کردی۔ ذہن کی وہ گتھی تبھی سلجھ گئی کہ واقعی "جب میرا رب بازو پکڑتا تو فوراً کچھ سمجھ نہیں آتی۔کبھی کبھی گھر والوں کی مرضی کے خلاف جاکر کیا گیا فیصلہ پوری زندگی بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com