کراچی بے وفاؤں کا شہر،اسے جلنے دو - حسین اصغر

جماعت اسلامی والوں اس شہر کو ان کے حال پر چھوڑ دو اس شہر پر آسیب کا سایہ اس شہر پر نواز،زرداری اور عمران کا سایہ ہے۔اس شہر پر “بوٹوں “ والوں کا سایہ ۔ اس شہر کو اس کے حال میں جلنے دو اس شہر کے باسی نے محسنوں کو بہت ستایا ہے بہت مایوس کیا ہے۔اس شہر کو بار باران بوٹوں اور سیاسی نوٹنگی بازوں نے برباد کیا ہے اور اس شہر کو ہر بار جماعت اسلامی نے سنبھالا ہے۔یہ شہر کبھی ان محسینوں عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان جو جماعت اسلامی کے مئیر کراچی رہے جنہوں نے اس شہر کو بار بار روشنیوں کا شہر بنایا مگر اس شہر کے باسیوں نے ہر بار بے وفائی کی اور ان ہی سیاسی نوٹنگی بازوں کو اپنا نمائیدہ بنایا ہے ۔

اس شہر کے باسیوں کو روشی کا شہر بنانے والے عبدالستار افغانی پسند نہیں آئے انہیں اس کی جگہ ایم کیو ایم کے ۳۰ ہزار کراچی کو دئیے گئے لاشیں پسند آئیں اور وہ ان کے منتخب نمائیدہ بنیں ۔اس شہر کے باسیوں کو نعمت اللہ خان کے بنائے ہوئے روشنی کا شہر پسند نہیں آیا انہیں اس کی جگہ ایم کیو ایم کے بلدیا ٹاؤن میں ۲۵۰ لوگوں کو زندہ جلانے والے پسند آئے اور ان کو کراچی کو دئیے گئے لاشیں پسند آئیں اور وہ ان کے منتخب نمائیدہ بنے ۔اس شہر کے باسیوں کو نعمت اللہ خاں کے 44 ارب کا بجٹ پسند نہیں آیا اس شہر کو وہ پی ٹی آئی پسند آئی جو بارشوں میں جب لوگ مر رہے تھے تو وہ ایم کیو ایم کے ساتھ بارش میں میڈیا کے سامنے چائے پراٹھا کھا رہی تھی اور جماعت اسلامی کا نعیم الرحمن ان کے لئے روڈوں پر موجود رہا کر ان کے لئے راحت کا سامان کر رہا تھا ۔انہیں پی ٹی آئی کے وہ لوگ پسند آئے جو آپس میں ہی اپنی اپنی کرپشن پر لڑرہے ہوتے ہیں اور خود پی ٹی آئی کے بانی سابق صدر جسٹس وجہہ کے مطابق عمران کے۔الیکٹرک سے بھتہ لیتا ہے اور امریکہ میں منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے جس میں عمران نیازی کا نام بھی شامل ہے۔

کراچی کے باسیوں میں اب اتنا بھی دم خم نہیں ہے کہ وہ کراچی سے منتخب وزیراعظم عمران نیازی ،کراچی سے نامزد صدر پاکستان عارف علوی ، عمران کے صوبائی گورنر اور عمران ہی کے چودہ ایم این اے،23 ایم پی اے، اور پی پی پی وزیر اعلی سندھ کراچی کے چار وفاقی وزیر سے ہی اپنا حق مانگ سکیں بلکہ کراچی کے باسیوں نے ان سیاسی نوٹنگی بازوں کو صرف میڈیا پر ایک دوسروں کو گالیاں بکنے اور اسمبلی میں ایک دوسرے کے لئے زاتی مفادات سمیٹنے اور تحفوظ دینے کے لئے منتخب کیا ہے ۔ تو اب اپنے منتخب نمائندوں کے کرتوتوں کو بھکتو ۔
تو اب اس شہر کے باسیوں کو حق ہے کہ وہ اس کے وہ پھل بھی کھائیں جیسے وہ راحت سمجھ کر بار بار اگاتے رہے ہیں ۔

نہیں اس بار ہمیں کوئی اختیار نہیں چاہئے ! جب تک یہ طے نہیں کر لیتے کہ اگر بلدیا کا کام جماعت اسلامی کروا سکتی ہے تو قومی اور صوبائی اسمبلی میں بھی انکا ہی حق ہے یہ ڈرامہ نہیں ہونا چاہئے کہ تمہارے گٹر ہم صاف کریں لیکن ریاست کا قانوں بنانے کا حق ان ہی چوروں کے پاس ہو جو ہر بار شطرنج کی بساط کی طرح سب پلٹ دیں اور پھر اپنے من پسند لوگوں کو زبردستی اختیار دے دیں۔

نہیں اٹھنا بغاوت کو تو مر جاؤ کہیں جا کر

یہ سہنا روز کی ذلت یہ جینا روز گھبرا کر

جو بذدل رہ کے زندہ ہوں مقدر انکا سوتا ہے

ہم اسکے مستحق ہیں جو ہمارے ساتھ ہوتا ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com