پولیو کی مہم - سجاد میر

اصل تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ لوگ بھی پولیو ویکسین کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں جو ٹھیک ٹھاک پڑھے لکھے ہیں اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ انسان کے رویے اور اس کے فیصلے صرف علم کی دولت کے مرہون منت نہیں ہوتے‘ بلکہ اس کلچر اور اسلوب حیات کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں جو وہ اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی معقول عالم دین کو اس کی مخالفت کرتا نہیں پائیں گے مگر وہ لوگ جو طالبان یا اس قبیل کے انداز فکر کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ پولیو ویکسین کی مخالفت کرنا بھی ایک طرح کا جہاد سمجھتے ہیں۔ فیس بک پر ایک خاصے پڑھے لکھے لوگوں کا گروپ ہے۔ ایک دن میں نے اس میں پولیو کے حوالے سے عجیب و غریب بحث دیکھی۔طیش میں آ کر دل توچاہا کہ اس میں کود پڑوں مگر مصلحت نے سمجھایا خاموش ہی رہو۔ تمہارے دلائل اکارت جائیں گے۔ کچھ اس قسم کے دلائل بھی دیے جا رہے تھے آخر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ ویکسین استعمال کیوں نہیں کی جاتی اور یہ کہ وہاں پولیو نہیں ہے۔ کسی نے اس بات کا مطالعہ نہیں کیا کہ وہاں پولیو کیوں نہیں ہے۔ جب انسانوں نے اس مرض کا سراغ لگایا اور اس کے خاتمے کے لئے ویکسین ایجاد کی تو کیا انہوں نے اس مرض کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کسی سے رو رعایت سے کام لیا۔ پولیو دنیا سے ختم ہوا تو اس طرح کہ بچوں کو ویکسین کے ذریعے اس سے مامون و محفوظ کر دیا گیا۔ ایک بار یہ مرض ختم ہو جاتا ہے اور تحقیق سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اس علاقے میں اب یہ وائرس نہیں ہے تو ویکسین کا استعمال ترک کر دیا جاتا ہے۔ اب یعنی بچوں کو بعض بیماریوں سے بچائو کے لئے مختلف ٹیکے لگائے جاتے ہیں اور اس کے لئے اس کا ایک شیڈول طے کیا جاتا ہے۔ ویکسین مرض کے خلاف حفاظتی تدبیر اور اس کے تدارک کا نام ہے جہاں یہ مرض ہے ہی نہیں‘ وہاں اس کی ضرورت نہیں اور جہاں یہ وائرس ہے وہاں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ انسانوں کی آئندہ نسل کے لئے اس کے لئے قوت مدافعت پیدا کی جائے۔ ذرا یہ بھی دیکھ لیں کہ جہاں یہ وائرس نہیں ہے‘اس کی وجہ کیا ہے وہ کیسے ختم کیا گیا۔ ہمارے ہاں پہلی بار یہ سازش تھیوری ایوب خاں کے زمانے میں ملی تھی جب خاندانی منصوبہ بندی کے سب طریقوں کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی۔

یہ تک کہا گیا کہ آٹے میں بھی ایسی دوا ملائی جا رہی ہے جس سے آدمی زندگی بھر کے لئے جنسی قوت کھو بیٹھتا ہے۔ چلیے اس مہم میں تو ذرا جان ہو سکتی تھی کہ آدمی اپنی قوت حیات کھونے سے خوفزدہ ہے مگر پولیو کے خطروں میں تو شفا ہی شفا ہے۔ ہم اپنے سامنے دیکھتے ہیں کہ ہر روز کوئی نہ کوئی بچہ اس کا شکار ہو جاتا ہے جن علاقوں میں ایسا ہوتا ہے وہ وہی علاقے ہیں جہاں کے لوگ اس کے استعمال کے مخالف ہیں۔یہ درست ہے کہ پولیو مہم کو اسامہ بن لادن کے خلاف مایوسی کے لئے استعمال کیا گیا اور یہ کام دنیا کی مصروف ترین ایجنسی نے کیا‘ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ طریقہ علاج ہی غلط ہے۔ جانے اس دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو بظاہر تو کسی نیک کام میں مصروف مگر اندر سے اس کی آڑ میں کوئی اور ایجنڈا رکھتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بظاہر وہ جو نیک کام کر رہے ہیں وہ بھی غلط ہے۔ میں بات کو بہت احتیاط اور احترام کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہوں‘ وگرنہ مجھے کہنا صرف یہ ہے کہ اس سے زیادہ شرم کا مقام کیا ہو سکتا ہے کہ آج دنیا میں صرف دو ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو کا وائرس اب تک پایا جاتا ہے۔ دوسرا ملک افغانستان ہے۔ ایک زمانے میں تیسرا ملک بھی تھا۔ وہ مگر اب اس صف سے نکل گیا ہے ہمارے ہاں حکومتیں آئیں اور گئیں۔ بے نظیر ‘ نواز شریف‘ زرداری مشرف اور عمران خاں سب نے حکومت کی مگر اس بیماری پر قابو نہ پا سکے۔ اس کو باالفرض قبائلی خطے میں سامراج کی پھیلائی ہوئی سازش سمجھا جاتا رہا۔ خیر وہ تو قبائلی ہیں‘ گورے سے ہر طرح بدکتے ہیں ان کے اچھے کام کو بھی برا سمجھتے ہیں‘ تاہم ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ بھی ان معنوں میں قبائلی جنگ جو بنے ہوئے ہیں۔ خدا کے لئے اس کا کوئی علاج کیجیے۔ مری اہلیہ چونکہ بنیادی طور پر اس شعبے سے منسلک ہیں۔ انہوں نے وائرس سے تحفظ کے فیلڈمیں امریکہ اور آسٹریلیا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

گھر میں بھی ان لوگوں کا آنا جانا ہے جو اس شعبے سے منسلک ہیں۔ ایک دن جب فیس بک پر میں یہ بحث پڑھ رہا تھا اور سخت غصے میں تھا تو یہ پوچھ بیٹھا کہ یہ ویکسین ہمارے ہاں ہی کیوں استعمال ہوئی ہے۔ اس پر سب نے احتراماً میرا تمسخر تو نہیں اڑایا‘ مگر سمجھایا کہ یہ مرض کیسے ختم ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ مرغیوں میں کوئی بیماری پھیلتی تھی جو وہ دھڑا دھڑ مرنے لگتی تھیں۔ پھر ان کی مختلف بیماریوں کے لئے ویکسین ایجاد ہونے لگیں تو آج ہم بڑے مزے اور اطمینان کے ساتھ پروٹین کا وافر استعمال کر پاتے ہیں۔ چند سال پہلے برڈ فلو کا چرچا ہوا اور یہ تک کہا گیا کہ یہ ایک وبا کی طرح پھیل سکتا ہے۔ایسے ہی جیسے اب کورونا ہے۔ اس وقت اس کی ویکسین بنانے کی ذمہ داری پاکستان میں میری اہلیہ ہی کے سپرد ہوئی تھی۔ دنیا میں بیماریاں آتی رہتی ہیں اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ انسان جن کے لئے اللہ ان بیماریوں کا تدارک کا بندوبست کرتا ہے۔ ایسی بھی بیماری ہیں جن کی کوئی ویکسین نہیں بنتی۔یہ ایک سائنسی بحث ہے کیوں نہیں بنتی۔ مثال کے طور پر ایڈز کی کوئی ویکسین نہیں ہے۔ اس وقت سائنسدان کورونا کی ویکسین بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک نہیں کئی ممالک کے سائنسدان اپنے اپنے انداز میں کام کر رہے ہیں۔ دنیا انتظارمیں ہے کہ کب یہ ویکسین بنتی ہے۔ صاف کہا جا رہا ہے جب تک یہ ویکسین نہیں بنی دنیا کورونا سے محفوظ نہیں ہے۔ انسان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہا ہے کہ یہ ویکسین تیار ہو جائے۔ ساتھ ہی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ اس کے بننے کے بعد تمام نوع بشرتک اس کا حصول کیسے ممکن ہو گا۔

کیا یہ عام آدمی کی پہنچ میں ہو گی یا دوا ساز کمپنیاں اسے پہنچ سے باہر کر دیں گی۔ ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہمارے ہاں اس کے استعمال کی مزاحمت کرنے والے پیدا نہ ہو جائیں۔ یہ تو آپ نے دیکھا ہے کہ لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے تھے کہ کورونا نام کی کوئی وبا موجود بھی ہے یا نہیں کہتے تھے سراسر پروپیگنڈہ ہے حتیٰ کہ جب اس کا پھندا اردگرد اپنے ہی پیاروں کی گردنوں تک پہنچنے لگا تو ہوش آیا۔ اس دوران یہ ہوا کہ ہم پولیو ہی نہیں دوسری امراض کو بھول بیٹھے۔ بہرحال ایسی کسی بھول کی معافی نہیں ہوتی۔ پولیو نے پھر سر اٹھایا تو ہمیں ہوش آیا۔ ہم نے اس کی مہم شروع کی شاید ’’سمارٹ‘‘ مہم۔ اب تو دنیا ہم سے تعاون کر رہی ہے یہ نہ ہو کہ دنیا ہمیں نظرانداز ہی کر دے۔ ایسا بھی ہو تو فرق نہیں پڑتا‘ فرق اس سے پڑتا ہے جب رب کریم نگاہیں پھیر لیتا ہے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com