مجھے اب ڈر لگتا ہے - فاطمہ طاہر

جب جب میں گھر سے قدم نکالتی ہوں او ر میرا بھائی ساتھ نہیں ہوتا مجھے ڈر لگتا ہے ۔ جب جب میں سٹاپ پر انتظار میں کھڑی ہوتی ہوں مجھے ڈر لگتا ہے ۔ جب جب میرے پاس سے گزرتی کسی گاڑی کی رفتار دھیمی ہوتی ہے مجھے ڈر لگتا ہے ۔ جب جب کوئی بائیک والا آوازیں کستا ہے مجھے ڈر لگتا ہے ۔ جب جب کوئی 2 سیکنڈ سے زیادہ میری طرف دیکھتا ہے مجھے ڈر لگتا ہے۔ جب جب میرا پسندیدہ شخص بھی میرے قریب آتا ہے مجھے ڈر لگتا ہے ۔

بابا کی بہادر بیٹی اب ڈرنے لگی ہے ۔ گلِ لالہ مرجھانے لگے ہیں ۔ یقین کی تتلی ہاتھوں میں رنگ چھوڑ کر اب بے رنگ ہوچکی ہے ۔ اپنے سارے گھڑے اب کچے لگنے لگے ہیں یہ ماحول اب غیر محفوظ لگنے لگا ہے ۔ انسانیت تعفن زدہ لگنے لگی ہے ۔ انسان تو دور یہاں جانور بھی محفوظ نہیں ۔ تو ہم لڑکیاں؟ کیا پڑھائی چھوڑ دوں؟ کیا جاب چھوڑ دوں؟ یہ عبایا سکارف کافی نہیں ہے شاید اب ۔ سات پردوں میں چھپ کر گھر ہی بیٹھ جاتی ہوں ۔ مگر آج کل تو گھر بھی کہاں محفوظ ہیں بھلا؟ تو جائیں تو کہاں جائیں؟

بابا کی شہزادیوں کے تاج قدموں میں روندنے کی تمام سازشیں ہر طرف مکمل ہیں۔ مگر اک امید کا ٹمٹماتا سا دیا ہے جو بجھنے پر آمادہ نہیں ہے ۔ تند و تیز ہواؤں سے جھگڑ پڑتا ہے ۔ ضد پر اتر آیا ہےکہ ایک دن یہ سب بدلے گا۔اک دن یہ ممکن ہوگا کہ جب زیوروں سے لدی عورت صنعا سے حضر موت تک اکیلی سفر کرے گی مگر اس کی طرف کوئی میلی آ نکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرے گا۔ایساتب ہی ہوگا کہ جو ہم سوچتے ہیں ، محسوس کرتے ہیں، اسے اردگرد دوسروں کے ذہن میں بھی اتارنے کی کوشش کریں خصوصاً نئی نسل کے کچے ذہن درست سمت لگانے والے بنیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اچھی تحریر مگر کچھ زیادہ ہی خوف سمایا ہوا ہے آپ جیسی خود اعتماد تو اسطرح نہیں گھبرا سکتی خیر گھبرانے اور ڈرنے سے احتیاط بہتر ہے جزاک اللہ کوشش جاری رکھیں ان شاءاللہ جلد صف اول کی لکھاری بن کر ابھریں گی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com