حضور نبی اکرم ﷺ کا حج مبارک ایک نظر میں - محمد احمد رضا

یہ مضمون مختلف کتب وروایات کے مطالعہ سے لکھ رہا ہوں۔ احباب اگر خود مطالعہ فرمانا چاہیں تو کسی بھی حدیث کی کتاب میں کتاب الحج مطالعہ کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے دسویں سال اعلان فرمایا: میں اس سال حج پر جانے والا ہوں۔ آپ کا اعلان سن کر مختلف مقامات سے صاحب استطاعت افراد جوق در جوق مدینہ منورہ پہنچنے لگے تاکہ رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے جمعرات کے دن، ماہ ذو القعدہ کی تقریباً پچیس تاریخ کو اپنا سفرِ حج شروع فرمایا۔ نماز عصر ذو الحلیفہ میں پہنچ کر ادا کی۔ جمعہ کی رات آپ ﷺ نے وادیء عقیق میں گزاری۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ہاتھ سے آپ کو خوشبو لگائی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے سر مبارک پر لبیدہ لگایا۔ (لبیدہ : وہ حاجی جس نے زلفیں رکھی ہوں اس کے لئے مسنون ہے کہ وہ اپنے سر پر چپکنے والی چیز لگا لے تاکہ بال جمے رہیں)۔ اپنی قربانی کے جانوروں کو قلادہ پہنایا۔ پھر آپ ﷺ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے اور جب مسجد ذی الحلیفہ کے قریب پہنچے تو تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔آپ نے حج و عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکارا جو کہ حج قران کا تلبیہ تھا۔ اور لوگوں کو بھی یہ فرمایا کہ جو حج اور عمرے دونوں کا تلبیہ کہنا چاہتا ہے کہے اور جو صرف حج یا عمرہ کی نیت رکھتا ہے وہ بھی صحیح ہے اور وہ اس کا تلبیہ کہے۔

پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے تلبیہء توحید کہنا شروع کیا، جس کے الفاظ یہ ہیں: لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک والملک لا شریک لک۔میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں تیری ہیں اور بادشاہت بھی تیری ہے تیرا کوئی شریک و ہمسر نہیں۔پھر آپ ﷺ نے مقام بیداء میں نماز ظہر ادا کی اس کے بعد اونٹنی پر سوار ہوئے اور تلبیہ کہنا شروع کیا۔ دوران سفر بھی آپ ﷺ تلبیہ کہتے رہے۔ مقام سرف میں پہنچ کر آپ ﷺ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ اپنے حج کو عمرہ میں بدلنا چاہے تو بدل لے، یعنی عمرہ کر کے احرام کھول دے اور پھر آٹھ ذی الحجہ کو حج کے لئے نیا احرام باندھ لے اور جس نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا ہے اور اس کے پاس قربانی کا جانور بھی ہے تو وہ احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ دس ذی الحجہ کو منیٰ میں قربانی نہ ہو جائے۔ مقام سرف سے چل کر آپ وادی ذی طویٰ میں پہنچے۔ ذی الحجہ کی چار تاریخ ، اتوار کی رات وہیں گزاری۔ نماز فجر بھی اسی مقام پر ادا فرمائی۔

مکہ مکرمہ میں داخلے کے لئے مقام کداء کی طرف سے ثنیہ علیا والا راستہ اختیار فرمایا۔اتوار کے دن سورج نکلنے کے بعد آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ مسجد الحرام کے قریب اپنی سواری روکی، بیت اللہ میں آتے ہی حجر اسود بوسہ دیا اور دائیں طرف چلتے ہوئے بیت اللہ شریف کے سات چکر لگائے، پہلے تین چکروں میں رمل فرمایا یعنی آہستہ آہستہ دوڑے اور باقی چار چکر عام رفتار سے مکمل فرمائے۔ ہر چکر میں رکن یمانی کو اپنے دست اقدس سے چھوتے اور حجر اسود شریف کو بوسہ دیتے۔ پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ زمزم شریف نوش فرمایا، اور اپنے سر مبارک پر ڈالا اور حجر اسود کو دوبارہ بوسہ دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ صفا کی پہاڑی کی طرف گئے اور سعی فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام نہ کھولا۔ آپ ﷺ کا حج، حج قران تھا۔ قربانی ساتھ تھی۔ اس لئے آپ ﷺ احرام میں ہی رہے اور اسی احرام کے ساتھ حج فرمایا۔ آٹھ ذی الحجہ بروز جمعرات کو آپ ﷺ منی کی طرف روانہ ہوئے۔ جمعہ کی صبح فجر کی نماز بھی یہیں ادا فرمائی۔ جمعہ کا سورج طلوع ہونے کے بعد منی سے عرفات کے لئے روانہ ہوئے اور فرمایا کہ میرا خیمہ وادی نمرہ میں لگایا جائے۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر وادی عرنہ میں تشریف لائے۔ نمرہ اور عرنہ کی چھوٹی وادیوں کو عام طور پر عرفات کاحصہ سمجھا جاتا ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے۔

آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی سے ہی حج کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ خطبے کے بعد حضرت ام الفضل ہلالیہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو دودھ کا پیالہ پیش کیا جو آپ ﷺ نے نوش فرمایا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، آپ ﷺ نے ظہر اور عصر کی نمازیں قصر اور جمع فرمائیں۔ نماز کے بعد آپ ﷺ سوار ہو کر میدان عرفات میں تشریف لے گئے اور اپنا رخ قبلہ کی طرف فرمایا۔ یہ جمعہ کا دن تھا، آپ دوپہر سے لے کر شام تک تلبیہ و اذکار ، دعا و مناجات میں مشغول رہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد آپ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور عرفات سے روانہ ہوئے۔ جب مزدلفہ پہنچے تو یہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات تھی۔ آپ ﷺ وضو فرمایا اور مغرب اور عشاء کی نماز قصر کر کے جمع فرمائیں۔ پھر پیارے آقا کریم ﷺ آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئے ، حتی کہ فجر ہو گئی۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ یہ ہفتے کا دن اور ذوالحجہ کی دس تاریخ تھی۔ سورج نکلنے کے بعد آپ ﷺ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ۔ جب سورج بلند ہو گیا تو آپ ﷺ نے جمرہء عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری مارتے وقت آپ ﷺ اللہ اکبر کہتے۔ اس مقام پر آپ ﷺ نے تلبیہ کہنا بند کر دیا۔

کنکریاں مارنے کے بعد آپ ﷺ قربان گاہ تشریف لائے۔ یہاں ایک سو اونٹ ذبح فرمائے۔ ان میں سے تریسٹھ اونٹ اپنے دست اقدس سے ذبح فرمائے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے سر مبارک کا حلق کروایا۔ طواف افاضہ کے لئے مکہ مکرمہ جانے سے قبل آپ ﷺ نے خوشبو لگائی۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر ظہر کی نماز سے قبل طواف افاضہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے چونکہ حج قران فرمایا تھا اس لئے دوبارہ سعی کی ضرورت نہ تھی اس لئے آپ ﷺ دوبارہ منیٰ تشریف لے گئے۔ اور بقیہ ایام تشریق یعنی 13ذی الحجہ تک منیٰ میں ہی تشریف فرما رہے۔ ان دنوں میں زوال کے بعد تینوں جمرات پر کنکریاں مارتے۔

تیرہ ذی الحجہ کو منیٰ سے روانہ ہو کر وادی محصب میں تشریف لائے۔ ظہر ، عصر، مغرب، عشاء کی نمازیں یہیں ادا فرما کر رات بھی وہیں بسر فرمائی۔ اگلے دن فجر سے پہلے بیت اللہ شریف میں تشریف لائے اور طواف وداع فرمایا۔طواف وداع کے بعد پیارے آقا کریمﷺ نے قافلے کو روانگی کا حکم دیا اور مکہ مکرمہ سے ثنیہ سفلیٰ کی طرف سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔قارئین ، پیارے آقا ﷺ کے حج مبارک کا یہ واقعہ انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ تفصیلات احادیث کی کتب میں درج ہیں۔ اللہ کریم تمام مسلمانوں کو حج بیت اللہ شریف کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com