طلباء پر رحم کریں - کنور مزمل رشید

کہا جاتا ہے کہ جس قوم کے جوان زندہ ہوں وہ قوم کبھی بھی دنیا کی نیند سو نہیں سکتی۔اور اس بات میں کوئی شک بھی نہیں گزرتا کیونکہ بڑے بڑے انقلابوں کی بنیاد ایک شخص اپنے وقت شباب میں ہی ڈالتا ہے۔لیکن یہی نوجوان نسل بگڑ جاۓ تو سنوارنے میں صدیاں گزر جاتی ہیں۔ایک صدی تو ہم بھی دیکھ چکے ہیں مگر ابھی تک قوم کے نوجوان سو رہے ہیں۔

اور جو ،ان جوانوں کے آرام میں خلل کا سبب بنتا ہے،اسے یہ لوگ قدامت پسندی کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔لیکن آج کا مسئلہ یہ نہیں رہا کہ طلباء پڑھ نہیں رہے بلکہ مسئلہ یہ آ گیا ہے کہ ہم ان کو پڑھانے پر راضی ہی نہیں ہیں۔دیکھ ہی لیں کہ ہم نے کیا رویہ برتا ہوا ہے اپنے مستقبل کے ساتھ۔بات وہی ہے جو شخص کھل کر بلا جھجک کرے،اس لیے کھل کر بات کرتے ہیں۔

آج کے دور میں تعلیم کی افادیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے؟تعلیم کا ذیور سینے پر نہیں بلکہ روح کے پردوں پر سجایا جاتا ہے،تب ہی جا کر تعلیم کا اصلی مقصد پورا ہوتا ہے۔عجیب دور فتن ہے کہ مشکل سے ہم اپنی نوجوان نسل کو تعلیم کی افادیت بتانے اور منوانے میں کامیاب ہوۓ تھے کہ ہماری توجہ ہی اس مسئلے سے اتر گئی ہے۔تعلیم کو عام بیشک کیا گیا ہے مگر تعلیم کو اتنا ہی مشکل،مقاصد سے خالی اور مادی دوڑ بنا دیا گیا ہے۔آج کا طالب علم میٹرک تک خوب محنت کرتا ہے کہ کسی اچھے کالج میں داخلہ ممکن ہو سکے اور اس کے بعد یونیورسٹی کی دوڑ لگ جاتی ہے۔نہ جانے کتنے ہی ٹیسٹ لیے جاتے ہیں جس کے بعد ایک طالب علم کو بھیڑ چال کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔اور وہ ڈاکٹر اور انجنئیر کی دوڑ میں پڑ جاتا ہے،چلیں اتنا بھی چلے تو جائز ہے کیونکہ ملک کو کچھ نہ کچھ سرمایہ تو ملتا ہے مگر موجودہ حالات تو بالکل ہی الگ منطر پیش کر رہے ہیں۔

30 مارچ سے تمام تعلیمی ادرے مکمل طور پر بند پڑے ہیں ۔سکول،یونیورسٹی کالج سب کچھ بند پڑا ہے۔آن لائن کلاسز کا ایک لالی پاپ سب کو تھما دیا گیا ہے۔اس قدر سست روی کا مظاہرا کیا جا رہا ہے کہ لگتا ہے کہ بس یہی کوئی دس پندرہ سالوں میں ڈگری پوری ہو جاۓ گی۔طالب علم اس قدر اس جھنجھلاہٹ اور ذوراہی کا شکار ہے کہ شاید ہی پہلے ہوا ہو۔پوری دنیا ہی کورونا کا شکار ہے مگر ہمیں ایک عجیب بہانہ مل گیا ہےمدارس کو 5 ماہ تک بند رکھنے کا۔اب تو لائق،نالائق ہر قسم کا طالب علم مکمل طور پر تھک کر رہ گیا ہے کیونکہ اس قدر طوالت سے فارغ اور گھروں میں بیٹھے رہنا محال ہو گیا ہے۔طالب علم پریشان ہے کہ کدھر جاۓ؟

اٹلی اور سپین جیسے بدترین حالات دیکھنے والے ممالک بھی اگر آہستہ آہستہ سے تعلیمی ادارے کھول سکتے ہیں تو ہم پر کون سی آفت آن پڑی ہےَاور اگر کوئی آفت آن ہی پڑہی ہے تو کیا وہ تعلیمی اداروں اور تعلیم کے لیے ہی ہے؟بازاروں میں جائیں اور جا کر دیکھیں کہ کیا صورت حال ہے۔یقین کریں کہ پاؤں رکھنے کو جگہ نہیں مل رہی۔اور نہ ہی پچھلے 3 ماہ سے مل رہی تھی۔سارا نظام چل رہا ہے مگر تعلیم کو جام ہی کر دیا گیا ہے۔منڈیاں،کچہریاں،سڑکیں اور باقی تمام عوامی جگہوں پر ہر وقت رش ہے اور اس سے کوئی خطرہ نہیں اور خطرہ ہے تو وہ سارے کا سارا سکولوں سے ہی ہے۔اور سچ میں اتنے ہی بے قابو حالات ہیں تو تو کوئی مکمل خبر معلومات کی شکل میں تو پیش کر دی جاۓ جس سے طلباء کو حوصلہ مل سکتا ہے۔لیکن نہیں،کس کو کیا فکر ہے کہ طلباء کا سارا سال اور نطام تباہ ہو کر گیا ہے۔

معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ درد جگر ابھی باقی ہے۔مشکل ترین حالات ہیں۔والدین کے پاس بھی روزگار نہیں ہے اور زرائعء معاش کی شدید کمی بھی ہے مگر یونیورسٹیوں کو اپنی فیس پوری کی پوری چاہئے۔کسی قسم کی کوئی رعایت مکمل طور پر دیکھنے میں نہیں آئی۔سکولوں کے تو باقاعدہ گھر والوں کو نوٹیفیکیشن مل چکے ہیں کہ فیس ادا کریں ورنہ آپ کے بچے کو خارج کر دیا جاۓ گا۔اور یہ نوٹس کسی تھرڈ کلاس سکولوں سے نہیں بلکہ مہنگے مہنگے اور فرسٹ کلاس سکولوں سے وصول ہوۓ ہیں۔اور ان سب کے علاوہ آن لائن کلاسز کے لیے نیٹ پیکجز اور انٹرنیٹ کا مسئلہ الگ ہے جو کہ ملک کے تمام حصوں میں صحیح اور بہتر طور پر میسر نہیں۔تمام طلباء کو پروموٹ تو کر دیا گیا ہے مگر ان کے رزلٹ تیار نہیں ہو سکے ہیں ابھی تک۔نالائقی کی کوئی ایک مثال ہو تو پیش کی جاۓ۔جو طلبا کسی وجہ سے پروموٹ نہیں ہو سکے وہ نہ آگے کے اور نہ پیچھے کے۔نہ ہی کوئی باقاعدہ تاریخ کا کہا گیا ہے کہ بچے امتحانات کی تیاری کر پائیں۔

عجیب ہی معاملہ ہے کہ ایس او پیز کے تحت تمام ادارے تھوڑے تھوڑے وقفے سے کھل رہے ہیں مگر تعلیم جیسے انتہائی اہم اور حساس معاملے پر کسی کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگ رہی۔ہم نے تعلیم کے ساتھ اس وقت بد ترین سلوک کیا ہے۔براہ کرم اس کے بارے میں کوئی مکمل آگاہی دی جاۓ تا کہ بے یقینی کی یہ صورت حال دور کی جا سکے۔سننے میں آیا ہے کہ 15 ستمبر سے ادارے کھلیں گے مگر 15 ستمبر بھی بہت ہی دور ہے اور پہلے سے فارغ طلباء کسی بے راہ روی کا شکار ہوں ہمیں اپنی پالیسیاں تبدیل کر لینی چاہئیں۔اگر حکومت روزانہ سوشل میڈیا پر بے بہا ترقیاتی اور کارگردگی سے متعلق پوسٹیں کر سکتی ہے تو اس معاملے پر بھی غور ہو سکتا ہے۔

براہ کرم قوموں کی بنیاد اور ماں تعلیم کے ساتھ یہ رویہ نہ کیا جاۓ ورنہ ہم ترقی کو دیکھنا تو درکنار سونگھ بھی نہ پائیں گے۔اگر تعلیمی ادارے کھل نہیں سکتے تو کسی نہ کسی طرح سے معاملات کو درستگی کی طرف تو لایا جا سکتا ہے۔اس سے پہلے حسن نثار صاحب بھی اپنے کالموں کے ذریعے آواز بلند کر چکے ہیں مگر کوئی قابل قدر شنوائی نہیں ہوئی۔براہ کرم اس معامل پر کان دھرے جائیں۔طلباء کے پورے کے پورے کیرئیر کے معاملے کو ہم اس طرح نظر انداز نہیں کر سکتے۔اہلیان اقتدار سے بے حد گزارش ہے کہ کوئی مکمل تفصیلی پالیسی بنائی جاۓ جس سے طلباء کے ہوۓ نقصان کو کم کیا جا سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */