رؤیت ایپ،رکاوٹ فواد چودھری یا علماء - محمد طاہر مرسلین

ہمارے ہاں نظریاتی اختلاف اس قدر شدد اختیار کر گیا ہے کہ ہم ایک نظریہ کے حامل شخص کے اچھے کام کو اسلئے مسترد کر دیتے ہیں کہ وہ نظریاتی مخالف ہوتا ہے، اسی طرح ہم ایک اچھا کام سرانجام دیکر اسکے ساتھ چند ایسی باتیں منصوب کر دیتے ہیں جس سے مخالف ںظریہ کا حامل شخص اس سے بد زن ہو جائے اور اس اچھے کام کے تعمیراتی پہلو بھی پس پشت ڈال دے۔

ایسا ہی اعمال فواد چوہدری صاحب بکثرت انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے جب سے وزارت سنبھالی ہے چاہے وہ وزارت اطلاعات ہو یا وزارت سائنس و ٹیکنالوجی ان کا اصل حدف علماء اور اسلامی روایات ہی رہیں۔ جس سے مذھبی ذہن رکھنے والے افراد اور علماء ان سے بد زن ہوگئے جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ جو کام انکی وزارت سے منصوب ہوگیا اس سے بھی متنفر ہوگئے۔ ایسا ہی "رویت" کے نام سے متعارف کی جانے والی ایک ایپ کیساتھ ہوا جسکی مدد سے چاند کی لوکیشن کو جانا جا سکتا ہے۔ جو ایک بہت ہی مفید ایپ بن سکتی تھی۔ اس سے ہمارے ہاں چاند دیکھنے کا رواج پھر سے تقویت پکڑتا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ اس سے ہر فرد جو نہیں جانتا کہ چاند کو کس جگہ اور کس وقت دیکھا جائے ایک فون کی مدد سے ایک متعین جگہ پر چاند کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا اور خود با آسانی چاند دیکھ لیتا۔

اگر اس ایپ کو اسی طرح متعارف کروایا جاتا اور اسکو اسلامی روایت کی احیا کے لئے پرموٹ کیا جاتا تو یقیاناً اس ایپ کی پزیرائی ہوتی اور عوام اسکا خیر مقدم کرتے، ایپ کو بنانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی اور وہ مزید ایپ بنانے میں دل لگاتے۔ لیکن فواد چوہدری صاحب نے حسبِ سابق اس ایپ کو اور قمری کیلنڈر کو بنیاد بنا کر احادیث کی مخالفت کرتے ہوئے رؤیت بصری کی رائے کا تمسخر اڑانا شروع کر دیا۔ جس سے عوام میں فواد چودھری صاحب سے بغض پیدہ ہوا نتیجاتاً عوام نے اس ایپ کا استعمال نہ کیا جسکا فواد چوھدری صاحب سے کوئی لینا دینا نہیں سوائے اسکے کہ وہ اسکو متعارف کرا کر کریڈٹ لے رہے جسکے وہ بنانے والے نہیں۔ یہی معاملہ قمری کیلنڈر کا بھی ہے۔

علماء کسی ایسی ٹیکنالوجی کے مخالف نہیں ہیں جس سے چاند کی موجودگی کا اندازہ لگایا جا سکے اور نہ ہی کسی ایسی ایپ کے مخالف ہی جس سے چاند کو دیکھنے میں مدد مل سکے وہ محض چاند کی رؤیتِ بصری کے قائل ہی اور اس پر عمل سنت محمدیﷺ کی پیروی سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
’’1۔"چاند کی رؤیت کی بنیاد پر روزہ رکھو اور چاند کی رؤیت کی بنیاد پر افطار کرو اور جب چاند پوشیدہ ہوجائے تو مہینے کے 30 دن پورے کرلو۔‘‘ (جامع ترمذی)
2۔"چاند کی رؤیت کی بنیاد پر روزہ رکھو اور چاند کی رؤیت کی بنیاد پر افطار کرو اور جب چاند پوشیدہ ہوجائے تو اپنی گنتی پوری کرلو۔‘‘ (صحیح مسلم)
ذیل میں علماء کی رائے سے واضح ہے کہ وہ اندازے اور رویت بصری کے لئے سائنس کی مدد لینے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ پیش گوئی کے خلاف ہیں اور رؤیت بصری پر عمل کے خواہاں ہیں۔

"شعبہ فلکیات صرف یہ بتا سکتا ہے کہ 29تاریخ کو ہمارا ملک کون سے ریجن میں آتا ہے۔ لیکن اگر یہ ریجن بی میں ہے تو نہ ماہرِ فلکیات اور نہ ماہرِ موسمیات کوئی قطعی پیش گوئی کر سکتا ہے۔ شریعت نے ہمیں پیشگوئی کا نہیں، حقیقی رویت کا حکم دیا ہے۔" مفتی منیب الرحمٰن" چاند کی پیدائش کا اندازہ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔تاھم ذوالحجہ کی پہلی تاریخ کا فیصلہ چاند کے اندازے سے نہیں بلکہ چاند دیکھ کر ھی ھوگا۔ " ابتسام الہی ظہیراسکے مقابل فواد چوھدری صاحب کا تضحیک آمیز رویہ بھی ملاحظہ فرمائیے گا۔

1۔"امید ہے آج مولانا صاحبان “خالی آنکھ” سے سورج گرہن دیکھنے پر اصرار نہیں کریں گے، نئ مصیبت ہی پڑ جائے۔"

2۔"مولانا منیب الرحمنٰ ہمارے بزرگ ہیں احترام ہے لیکن ان کو اتنا بڑا چاند نظر نہیں آتا اتنا چھوٹا کرونا وائرس کہاں سے نظر آنا ہے۔۔۔۔۔ ؟"

ان جیسے بہت سے بیانات کی وجہ سے پاکستان کا مذہبی طبقہ ایک طرف فواد چوھدری سے متنفر ہو گیا، دوسری طرف اس کارآمد ایپ کا ذکر ہمارے علمی اور عوامی حلقوں سے غائب ہوگیا۔ قمری کیلنڈر پہلے بھی جنتریوں کی صورت مستعمل تھے لیکن فواد چودھری صاحب نے اسکو بھی متنازع بنا دیا۔ کاش ایسی علمی کاوشوں کو اپنے مفاد کے لئے متنازعہ بیانات کی بھیںٹ نہ چڑھایا جائے اور ہر سیاست دان اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت اور ترویج میں اپنا کردار کرے۔

پاکستانی سائنس دانوں اور دانشوروں کے کام کو سراہا جائے اور انکے کام کے بہتر پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے بجائے انکو متنازع بنا کر اس کے استعمال سے عوام کو بدزن کیا جائے۔ عوام سے درخواست ہے کہ اچھی ایجاد اور کارآمد ٹیکنالوجی کو کسی کی نفرت کے باعث ترک نہ کریں۔ شکریہ

محمد طاہر مرسلین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com