انتقام قوم اسرول - گلزار فاطمہ

بہاری لغت میں اسرول یعنی کاکروچ اور ٹھیٹھ بہاری میں تل چٹا اور عام اصطلاح میں لال بیگ، زمانہ قدیم کے آن حشرات الارض میں سے ہے جو دوسری جنگ عظیم کی عظیم تباہ کاریوں کے بعد بھی نیست ونابود نہ ہوۓ بلکہ اس کے بعد وہ اس ڈھیٹ قوم کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے کہ اسکی کوئ مثال نہیں ملتی ۔

بلکے ہماراا یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ کیا طالبان نےانگریزوں کا ناک میں دم کیا ہوگا جتنا اس پھرتیلی اور ادنی سی مخلوق نے بنی نوع انسان کا کر رکھا ہے کبھی کبھی تو ہمیں یہ مخلوق جناتی بھی معلوم ہوتی ہے اور اسکا انتقام کسی جنونی قاتل کی طرح ،راصل یہ دکھڑا ہم اس لیے رو رہے ہیں کہ بچپن سے ہم نے اپنے خاندان کو اس کے ہاتھوں بڑا خوار ہوتے دیکھا ہے اور ہاں سب سے اہم بات ،کچن کے کیبنٹ اور ان کا چولی دامن کا ساتھ ہوتاہے ،ہاں تو ہم بتارہے تھے کہ بچپن میں( کہنے کو) اس ناچیز نے کیسے ہمارے خاندان کا پیچھا لیا ہے ہمارے ابو جان کو کیںنٹ کی صفائ کی سوجھی اور ساتھ ساتھ ابو جی بھی سوجے اسرول کا تو قصہ تمام ہو انہیں لیکن ابو کے گردے اب تک ان اسرول کی یاد میں اکثر سوج جاتے ہیں ۔

اور اگلا دنگل اس وقت سجا جب ہمارے میاں صاحب fumigation کے بعد ان کے لاشے اٹھانے گھر میں داخل ہوئے اور دمے کے ساتھ ساتھ انواع و اقسام کی بیماریوں کے ساتھ گھر سے برآمد ہوۓ۔ جو کہ نہایت وفاداری سے ہمارے شوہر نامدار کا ساتھ نبھارہی ہیں۔کچھ عرصے تک تو راوی چین ہی چین لکھتا رہا ،لیکن کچھ عرصے بعد پھر ان کا خاندان اپنے لاہو لشکر کے ساتھ ہمارے پورے گھر میں ٹہلتا ہوا دکھائی دیا اور دبی ہوئی چنگاری کو پھر بھڑکا ڈالا اور ہم نے غسل کے دوران ہی کیڑا مار دوا کے اسپرے کو کلاشنکوف کے برسٹ کی طرح پورا خالی کر ڈالا لیکن اس سے پہلے کے ہم ان کی لاشوں پر خوشیاں مناتے ہماری اپنی سانس نے ہمارا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔

اور ہم اپنی بچی کچی سانسوں کے ساتھ بمشکل غسل خانے سے آ کر خود کسی اسرول کی طرح پٹ سے بستر پر گرگئے اور گھر میں اگر نیبییولائزر اور میاں موجود نہ ہوتےتو اسرول گھر کے کونے کونے سے نکل کر فتح کا جشن منارہے ہوتے اور شاید ہماری قل کی بریانی پر بھی کیٹ واک کررہے ہوتے، ہماری اور اسرول کی جنگ ابھی بھی جاری ہے اور ناخلف ایسی ایسی جگہوں پر روپوش ہوتے ہیں کہ ہم حلفیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عزت مآب چیف جسٹس صاحب کے لیے بھی ان کے خلاف سرچ آپریشن کرنا ناکوں چنے چبانے کے مترادف ہوگا لیکن ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور اپنی آخری سانس تک ان سے جنگ لڑتے رہیں گے ۔بےشک ان پر کیے جانے والے ہر اسپرے کے بعد ہمیں اپنے گلے میں سولیفر اسپرے کیو ں نہ کرنا پڑے یا انہیلر ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

حالانکہ یہ حقیقت بھی ہم پر روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ خاندان اسرول نے ان کیڑا مار دواؤں کی کمپنیوں سے خفیہ معاہدہ کیا ہو ہے جس سے اسپرے ہوتا تو ان پر ہے لیکن لپیٹ میں آتے ہیں ہم اور آپ ۔۔وہ آتا ہے نا اک اشتہار میں,"چھوڑے گا نہیں گن گن کر مارے گا" یہ انتقامی نعرہ سمجھ جائیے کس کاہے؟ آپس کی بات ہے اسرول کا انتقام اچھا داری ناگن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور ان کی پوری قوم اس انتقام میں شامل ہوتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */