بہاولپور کی آواز- رؤف کلاسرا

بہاولپور سے اپنا بہت پرانا ہے۔ نعیم بھائی نے ستر کی دہائی میں قائد اعظم میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تو ہمارا اس شہر سے رشتہ استوار ہوا۔ نعیم بھائی ہوسٹل سے اماں کو خطوط لکھتے جن کا گائوں کے گھر میں بیتابی سے انتظار کیا جاتا تھا۔ نعیم بھائی کی ہینڈ رائٹنگ بہت اچھی تھی۔ آج بھی کچھ خطوط محفوظ ہیں۔ ان کی یاد ستاتی ہے تو وہ نکال کر پڑھ لیتا ہوں۔ ان خطوط میں وہ بہاولپور کے بارے میں لکھتے‘ دوستوں کا ذکر ہوتا، پروفیسرز کی باتیں ہوتیں۔ وہ سب کردار ہمیں گھر کا فرد محسوس ہوتے۔ نعیم بھائی کے جن دوستوں کا ہمارے گھر میں مستقل ذکر رہتا ان میں ڈاکٹر اشو لال، ڈاکٹر جاوید اقبال کنجال، ڈاکٹر محسن شہزاد، ڈاکٹر ابوبکر، ڈاکٹر حافظ طاہر اور نعیم پرنس شامل تھے۔ وہ اپنے کالج کی لیفٹ کی تنظیم 'دی ایگلز‘ کے چیف بھی رہے۔ دوستوں سے ناراضی ہوتی تو بھی ہمیں خطوط سے پتہ چل جاتا۔
ہم کچھ بڑے ہوئے تو چھوٹے بھائیوں نے بھی ان کے ہاں جانا شروع کیا۔ وہ بہن بھائیوں پر جان چھڑکتے تھے۔ وہ عباس منزل میں رہتے تھے۔ ایک فقیر ملنگ سادھو ٹائپ انسان۔ اکثر ہوسٹل کمرے میں جاتے تو وہ فرش پر کتاب سر کے نیچے رکھ کر سو رہے ہوتے تھے جبکہ تونسہ، ڈیرہ غازی خان، ملتان کے دوست یا علاقے کا بندہ ان کے بیڈ پر سو رہا ہوتا۔ یہ اور بات کہ وہ جن کے لیے وہ خود فرش پر سوتے تھے اور اپنا بیڈ انہیں دیتے تھے، ان میں سے اکثر کو توفیق نہ ہوئی کہ ان کی وفات پر تعزیت کرنے ہماری بستی ہی آ جاتے۔ شاید زندہ انسانوں کی اہمیت ہوتی ہے، مر جانے والے کسی کام کے نہیں ہوتے۔ قل والے دن شجاع آباد سے ایک اجنبی نوجوان لڑکا آیا اور بتاتا رہا کیسے ایک رات وہ ڈپریشن میں اور حالات سے تنگ کالج کے پارک میں بیٹھا تھا کہ دور سے نعیم بھائی نے دیکھا اور گھر لے گئے‘ مرتے دم تک خیال رکھا۔ وہ بیٹھا رو رہا تھا اور مجھے ان کے وہ دوست یاد آرہے تھے جن کے لیے وہ رات کو فرش پر سو جاتے تھے اور وہ ایک دن نکال کر تعزیت کے لیے نہ آ سکے۔ بہاولپور ہمارے دل میں بستا ہے۔ اس شہر نے ہمارے بھائی کو جگہ دی۔ انہیں اپنا سمجھا، پیار دیا اور وہ اپنی موت تک وہیں رہے۔

زاہد بلوچ نے چند برس پہلے میسج کیا تھا: میں بہاولپور سے ہوں‘ نعیم بھائی کے شہر سے۔ زاہد بلوچ کو اپنے ساتھ شو میں رکھا تو عامر متین نے تین دن بعد پوچھا: یہ لڑکا کون ہے؟ میں نے کہا: بہاولپور سے ہے‘ چولستان کے صحرا کے کونے پر گھر ہے۔ عامر متین کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے ہیں لیکن زاہد بلوچ کی تعریف کی۔ زاہد کے بعد وہاڑی سے عمران مگھرانہ آیا اس نے بھی ہم سب کو متاثر کیا۔ مجھے احساس ہوا ہمارے علاقوں میں بہت ٹیلنٹ ہے بس ایکسپوژر اور موقع مل جائے۔ میں نے اپنے علاقے سے کچھ اور لڑکوں کو بھی اپنے شوز میں اکاموڈیٹ کیا‘ لیکن دو تین نوجوانوں نے اب ایسے ڈنک مارے ہیں کہ یقین کریں ایک دفعہ تو نیکی اور کسی کی مدد کرنے سے بندے کا ایمان اٹھ جائے۔ ان نوجوانوں نے چھری ماری جنہیں بچوں کی طرح سمجھ کر ساتھ رکھا اور خیال رکھا۔ لیکن پھر رانا اشرف، زاہد بلوچ، عمران مگھرانہ جیسے نوجوان کی محبت نے میرا ایمان خراب نہیں ہونے دیا؛ تاہم یقین کریں اپنے علاقے کے نوجوانوں کا یہ خوفناک روپ دیکھ کر دل کھٹا ضرور ہوا ہے۔
اب زاہد بلوچ کا میسج تھاکہ ان کی بہاولپور یونیورسٹی کی سینئر پی ٹی آئی کی راہنما سمیرا ملک اپنے خاوند مقبول ملک کے ساتھ اسلام آباد آئی ہوئی ہیں‘ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی پنجاب حکومت کی ترجمان بھی ہیں۔ بہاولپور کے نام پر میں بلیک میل ہوجاتا ہوں۔ اپنی تمام تر سستی کے باوجود میں ناں نہ کرسکا۔ خیر سمیرا صاحبہ سے ملاقات ہوئی۔ بہاولپور کا پوچھا۔ ان کی پی ٹی آئی سے وابستگی ہے‘ لیکن پی ٹی آئی والے آج کل مجھ سے زیادہ خوش نہیں کیونکہ ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے کہ صحافی کو بھی پارٹی ورکر کی طرح ہونا چاہیے۔ لیڈر کچھ بھی کرتا رہے وہ وفادار ملازم کی طرح اس کا دفاع کرتا رہے‘ ورنہ وہ لفافہ ہے۔ اپنے ستائیس سالہ صحافتی کیریئر میں کئی ایسے سیاسی رومانس دریا برد ہوتے دیکھے ہیں۔

خیر سمیرا صاحبہ نوجوان ہیں اور پرجوش۔ کچھ کرنے کو بے تاب۔ میں سمجھا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کی مخصوص سیٹوں پر ایم پی اے ہوں گی۔ پتہ چلا بہاولپور ڈویژن سے ایک بھی خاتون کو ایم پی اے یا ایم این اے کی سیٹ نہیں دی گئی۔ میرے لیے یہ حیرانی کی بات نہیں تھی کیونکہ میں اور عامر متین خود ہی ٹی وی شوز کرتے رہے تھے کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے لاہور کی بیگمات کو ہی خصوصی سیٹوں پر ایڈجسٹ کیا تھا۔ ووٹ سرائیکی علاقوں سے لیے لیکن لاہور کی خواتین کو اسمبلیوں میں بھیجا گیا۔ لاہور کے ایک ہی حلقے یا یوں کہہ لیں گلبرگ، کینٹ اور ڈیفنس سے پی ٹی آئی کی پندرہ خواتین کو ایم پی اے اور ایم این اے بنایا گیا۔ نواز لیگ نے بھی دل کھول کر لاہور پر محبت کی بارش کی اور لاہور سے ہی خصوصی سیٹیں خواتین کو دیں۔ تقریباً 35 کے قریب خواتین لاہور شہر سے ہیں جو اس وقت ایم پی اے یا ایم این اے ہیں۔ سرائیکی خود نواز شریف دور میں سرائیکی کے بڑے شاعر عاشق بزدار کی نظم پڑھتے رہے 'اساں قیدی تخت لاہور دے‘۔ پتہ چلا‘ جس پارٹی کو انہوں نے جنوبی پنجاب کی آواز سمجھا کہ وہ صوبہ بنائیں گے، سیاسی قید سے آزادی دلوائیں گے اس نے بھی اپنی ساری سیٹیں لاہور میں ہی بانٹ دیں۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین نے اپنے علاقے کی خواتین کا حق مارنے دیا اور سب لاہور میں ہی بندر بانٹ کر دی گئی۔ شاہ محمود قریشی صاحب نے تو لندن تک سے خواتین بلوا کر انہیں مخصوص سیٹوں پر ایم این اے بنوا دیا۔ اپنے علاقے پر نظر نہ پڑی کہ ہماری خواتین کو بھی اسمبلیوں میں جانے کی ضرورت ہے۔

سمیرا صاحبہ نے بتایا کہ جب انہوں نے ایک دفعہ مقامی الیکشن لڑا تھا تو ان کی کردار کشی کی گئی جو ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے؛ تاہم ان کی والدہ نے کہا کہ ان کی بیٹی کا کردار بہت مضبوط ہے۔ ماں کی کہی ہوئی اس بات نے انہیں اتنا حوصلہ دیا اور اس کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ماں کے ایک لفظ نے ان کی زندگی بدل دی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے انہیں عزت دی اور ترجمان کے عہدے پر فائز کیا۔ کہنے لگیں: کچھ بھی ہو بزدار صاحب کی وجہ سے کچھ سرائیکی علاقوں میں اب بیوروکریسی بات سنتی ہے یا کچھ کام ہوجاتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک اہم عہدے پر فائز ملتانی نے بھی یہی بات کی کہ پہلے تو بیوروکریسی بات نہیں سنتی تھی جیسے وائسراے حکومت کرنے جاتے ہیں۔ اب بزدار صاحب کی وجہ سے ان کی بات کچھ سنی جاتی ہے۔ مجھے سمیرا ملک اور ان کے شوہر ملک مقبول کی باتیں سن کر لگا‘ بہاولپور کی آواز کہیں دب گئی ہے۔

ایک ریاست جو کبھی امیرترین تھی لیکن اب اس کے لوگ مزدوری کیلئے شہروں میں بھٹک رہے ہیں اور اب تو ان کے سیاسی لیڈران کی آواز بھی گم ہوگئی ہے۔ بہرحال عثمان بزدار صاحب کا شکریہ‘ چلیں بہاولپور سے سمیرا ملک کی شکل میں ایک پڑھی لکھی اور مضبوط آواز تو وہ سامنے لائے۔
وہ بہاولپور جو کبھی ہندوستان کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک تھا، جس کے نواب کی شان میں علامہ اقبال تک نے نظمیں تک لکھیں، وہ نواب جس نے قائداعظم کے کہنے پر کھل کر نئے ملک پاکستان کو سپورٹ دی، اپنے مالی وسائل دیے، آج اس ریاست کے لوگ اپنی آواز، شناخت کیلئے لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کے محتاج ہو گئے ہیں۔ اس بہاولپور کی قسمت میں لاہور یا اسلام آباد کی اسمبلیوں میں ایک خاتون اسمبلی کی سیٹ بھی نہیں تھی جبکہ صرف لاہور شہر سے متعدد خواتین ایم پی اے اور ایم این اے ہیں۔ یہ حشر ہوا ہے اس بہاولپور کا جس کی کبھی اپنی پارلیمنٹ تھی، اپنا وزیراعظم اور اپنا نواب تھا جس کا ظرف اور دل بھی بہت بڑا تھا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */