ختم نبوت کی قرار داد پیش کرنے پراعزازی تقریب - محمد ریاض علیمی

سندھ اسمبلی میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ خاتم النبیین لکھنے اور پڑھنے کی قرار داد پیش کرنے والے والے ممبر صوبائی اسمبلی محمد حسین کے اعزاز میں زاویۂ فکرو نظر اور فدائیانِ ختم نبوت پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام الشجرہ اسلامک اکیڈمی نارتھ کراچی میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں علامہ نسیم احمد صدیقی، علامہ قاضی احمد نورانی،علامہ شیخ عمران الحق، ڈاکٹر حامد علی علیمی ، علامہ غلام محی الدین، علامہ قاضی عبدالقادر صدیقی ، حافظ عبدالغفار حافظؔ اور ممبر رابطہ کمیٹی عبدالوسیم سمیت کثیر علمائے کرام، خطبائے عظام ، ائمہ مساجداور مختلف سماجی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

زاویۂ فکر ونظر اور فدائیانِ ختم نبوت پاکستان کی جانب سے اس اعزازی تقریب کا انعقاد خوش آئند اور قابلِ ستائش ہے۔ اگرچہ ممبر صوبائی کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے لیکن انہوں نے جو بل پیش کیا وہ نہ صرف ان کے دل کی آرزو تھی بلکہ ہر مسلمان کی دلی تمنا تھی۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں قادیانی مسلسل فتنے پھیلارہے ہوں، حکومت کی جانب سے انہیں نوازا جارہا ہو، وہ کلیدی عہدوں پر پہنچنے میں کامیاب ہورہے ہوں، ملک میں ان کا اثرو نفوذ بڑھ رہاہو، ایسے پُرفتن دور میں قادیانیوں کے تابوت میں اس کیل کو ٹھوکنا بھی ضروری تھا۔مساجد کے محراب ومنبر سے عقیدہ ختم نبوت کے دفاع کے لیے آوازیں تو اٹھتی رہتی ہیں لیکن اسمبلی ہال سے متفقہ طور پر اس قسم کی آواز اٹھانا وقت کا تقاضا تھا۔ ختم نبوت کے معاملے میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کا ایک پیج پر آنا انتہائی ضروری تھااور اب بھی ہے ۔ رکن صوبائی اسمبلی محمد حسین کے اس اقدام سے بڑے عرصہ سے جاری سیاسی و مذہبی جماعتوں کی دوریاں ختم ہوئیں۔

اس کا مطلب کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مذہبی جماعتوں نے مکمل طور پر سیاسی جماعت کی حمایت کردی اور اب سیاسی جماعت کے ہر فیصلہ پر رضا مندی ہوگی۔ بلکہ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر وہ معاملہ جو اسلام کی بقاء ، پاکستان کی حفاظت اور معاشرے کی بہتری کے لیے ہوگا، اس پر مذہبی جماعتوں کی تائید و حمایت ہوگی لیکن جو فیصلہ یا اقدام اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف ہوگا، وہاں راہیں جدا تھیں،جدا ہیں اور جدا رہیں گی۔ لہٰذا قابلِ تحسین اقدامات کی تحسین کی جائے گی ، اور قابلِ تنقید امور پر کوئی سمجھوتا نہیں کیاجائے گا۔ہر اچھے کام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اگرچہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔ حوصلہ افزائی کے چند الفاظ انسان کو پُر اعتماد بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ حوصلہ افزائی ایک ایسا عمل ہے جو کسی کی زندگی کی کایہ پلٹ دیتا ہے۔ حوصلہ افزائی کے فقدان سے باصلاحیت افراد میں زنگ لگ سکتا ہے۔اس سے نیک جذبات ، نیک عزائم اور کچھ اچھا کر گزرنے کا جذبہ ماند پڑجاتا ہے۔

لہٰذا جو بھی شخص عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار اداکرے تو مذہبی جماعتوں کی جانب سے ضرور بالضرور اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تاکہ وہ جان سکے کہ اس راستہ پر چلنے کے بعد رسوائی نہیں ہوتی۔ اخلاص کے ساتھ کام کرنے پر آخرت میں تو صلہ ملے گا ہی لیکن دنیا میں بھی اس کی عزت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس تقریب میں قرارداد پیش کرنے کی روئیداد بتاتے ہوئے موصوف نے بتایا کہ وہ گذشتہ پینتیس چھتیس سال سے صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں لیکن کبھی کسی بل یا قرارداد پر ایسی پذیرائی نہیں ملی جو اس قرارداد کو پیش کرنے کے بعد ملی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا، بل پیش کرنے سے قبل کسی پارٹی ممبر سے کوئی مشاورت نہیں کی، بس اچانک صبح اٹھنے کے بعد ذہن میں آیا کہ خاتم النبیین پر قرارداد پیش کی جائے اور فوراً ہی بیٹھے بیٹھے اس قرارداد کی ڈرافٹنگ شروع کردی۔ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے سے پہلے کے مراحل بخیرو عافیت انجام پا گئے اور جب اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کی گئی توکسی نے بھی اس قرارداد کی مخالفت کرنے کی جرأت نہیں کی۔

سندھ اسمبلی کی اس کارروائی کے بعد دیگر صوبائی اسمبلیوں میں جرأتِ ایمانی کا مظاہرہ کیا گیا اور خاتم النبیین قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔تحریک لبیک کے رکن مفتی قاسم فخری نے بھی اس قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی حضور علیہ السلام نام آئے خاتم النبیین لکھا اور پڑھا جائے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی میں بھی تمام نصابی کتابوں میں جہاں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آتا ہے اس کے ساتھ لفظ خاتم النبیین لکھنے کو لازم قرار دینے کی متفقہ قرارداد منظور کرلی گئی جس کی تمام پارلیمانی جماعتوں نے حمایت کی۔ بہرحال رکن صوبائی اسمبلی محمد حسین کے اس عظیم کارنامے پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے تقریب سے اظہاِ خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب میرا مقصد اس بل کو قانونی طور پر منظور کرانا ہے تاکہ اس پر عملدرآمد یقینی ہوسکے۔

یوں تو آئے روز بل پیش ہوکر منظور ہوتے ہیں لیکن وہ چند مہینوں بعد فائلوں میں دب جاتے ہیںاور ان کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے ۔لہٰذا اس قرارداد کو قانونی حیثیت دلوانا وقت کا تقاضا ہے تاکہ اس بل پر عملدرآمد یقینی اور ضروری ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جاسکے۔ تقریب میں دیگر علمائے کرام نے کلماتِ تحسین کے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ چند مفید تجاویز بھی پیش کیں جن میں ایک تجویز یہ بھی دی گئی کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کے ساتھ ’’ آخری نبی ‘‘ کے الفاظ بھی بڑھائے جائیں کیونکہ قادیانی خاتم النبیین کے معنی میں ہیر پھیر کرتے ہیں اور اس کے دوسرے معنی بیان کرکے بھولے بھالے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com