مسجد آیا صوفیہ کا احیاء - ناصر فاروق

تاریخ عجائب خانہ نہیں ہے۔یہ تہذیبوں کی زندگی ہے۔ یہ تہذیبوں کا عروج وزوال واحیاء ہے۔ یہ آٹھویں صدی کے مسلم اندلس میں اسلامی تہذیب کا عروج ہے۔ یہ پندرہویں صدی کے اسپین میں اسلامی تہذیب کا زوال ہے۔ یہ قسطنطنیہ میں بازنطینی عیسائیت کا عروج ہے۔ یہ سلطان محمد فاتح کے عہد میں مسلمانوں کا عروج ہے۔ یہ کمال کے دور میں ترک مسلمانوں کا زوال ہے۔ اورآج کے ترکی میں یہ اسلام کا احیاء ہے۔

ہرتہذیب کی چند مرکزی اوربہت ساری ذیلی علامتیں اورنشانیاں ہوتی ہیں۔ مساجد، مینارے، اور اذانیں اسلامی تہذیب کی علامتیں ہیں۔ یہ مکہ، مدینہ، بیت المقدس، دمشق، بغداد، قرطبہ، اور استنبول میں مرکزی اہمیت کی حامل ہیں۔ اسی طرح گرجا گھر اور کلیساویٹی کن سٹی، یروشلم، قسطنطنیہ، اورغرناطہ وغیرہ میں عیسائی تہذیب کی مرکزی علامتیں ہیں۔ دیگر تہذیبوں میں بھی مرکزی عبادت گاہیں اور مقدس مقامات اہم علامتیں سمجھی جاتی ہیں۔ ان مرکزی علامتوں کی حالتیں اور کیفیات ہی کسی بھی تہذیب کے عروج و زوال و احیاء کی وضاحت کرتی ہیں۔ ان کی مرکزیت، تقدس، اورتحفظ پر کوئی تہذیب سمجھوتہ نہیں کرتی، کیونکہ یہی اس کی زندگی اور شان و شوکت کا نشان ہوتی ہیں، یہی اس کی پہچان ہوتی ہیں۔کسی بھی علامت کی قدر وقیمت قدامت سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اُس کی تہذیبی زندگی سے متعین ہوتی ہے۔ جو تہذیبیں مٹ جاتی ہیں،قصہ پارینہ بن جاتی ہیں، اُن کی ساری علامتیں اور نشانیاں مٹ جاتی ہیں، اور جوکچھ بچ جاتی ہیں، وہ آثار قدیمہ کہلاتی ہیں، اور عجائب گھروں میں رکھ دی جاتی ہیں۔ زندہ تہذیبوں کی عجائب خانہ میں کوئی جگہ نہیں ہوتی، اور نہ ہی زندہ علامتیں آثار قدیمہ قرار دی جاسکتی ہیں۔

ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی تہذیب کی ایک تاریخ ساز علامت مسجد آیا صوفیہ ہے،یہی اس مضمون کا موضوع ہے۔ یہ عمارت عہد بازنطین میں گرجا گھر ہوا کرتی تھی، جسے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے خستہ حالی کے سبب مالی سرپرستی میں لے لیاتھا، اورتعمیرنوکے بعد مسجد کے لیے وقف کردیا تھا، گویا یہ قسطنطنیہ میں عیسائیت کے زوال اور اسلامی تہذیب کی فتح کی علامت بن گئی تھی۔ مغرب کے سیکولر غلام مصطفٰی کمال نے خلافت عثمانیہ پر شب خون مارنے کے بعد، جہاں ترکی کی عام مساجد پر تالے ڈال دیے تھے، علماء کوجگہ جگہ درختوں پرپھندے ڈال کرلٹکادیا تھا، اذانوں اور عربی رسم الخط پر پابندی لگادی تھی، وہیں مسجد آیا صوفیہ کوعجائب گھر کا درجہ دے دیا تھا۔ آج اس مسجد کا احیاء ہورہا ہے۔ اس احیاء پر مغرب اور مغرب زدگان دونوں ہی کافی مضطرب ہیں۔ یہ اضطراب تصویر کا سیکولر رُخ انتہائی انتہا پسندی کے ساتھ پیش کررہا ہے۔ مغرب زدہ ذرائع ابلاغ کی زہرناکی نمایاں ہے۔

چند سال قبل، میں آیا صوفیا کے درودیوار پربنتی اور مٹتی تہذیبوں کا مشاہدہ کررہا تھا، کہ قریب سے دوگورے سیاحوں کی گفتگو کے چند جملے کانوں میں پڑگئے، چونک کرپلٹا،اُن پر سرسری سی نظر ڈالی، وہ جذبات کے بہاؤ میں آگے بڑھ گئے تھے۔ الفاظ کی ترتیب یاد نہیں، تاہم مفہوم کچھ یوں تھا کہ ”مسلمانوں نے قسطنطنیہ پر فتح حاصل کی اور اس گرجا گھر کو مسجد بنالیا۔۔۔ لیکن ہمارے پاس اسپین میں مسلمانوں کی اس سے بھی بڑی اور زیادہ عالیشان مسجد قرطبہ موجود ہے، جسے ہم نے کیتھڈرل بنالیا ہے۔“ یہاں یہ وضاحت مفید ہوگی کہ مسلمانوں نے آیا صوفیہ پر قبضہ نہیں کیا تھا، اور نہ ہی جبرا اس عبادت گاہ کوہتھیایا گیاتھا، بلکہ سلطان محمد فاتح نے اس عمارت کو خستہ حالی کے سبب مالی سرپرستی میں لے لیاتھا، اورتعمیرنوکے بعد مسجد کے لیے وقف کردیا تھا، اور یہی اس کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔ جبکہ مسلم اندلس میں مساجد کیا! محلات کیا! مکانات کیا! اور لوگوں کی عزت و ناموس کیا! ایمان و عقائد تک چھین لیے گئے تھے، جبراعیسائی بنایا گیاتھا، اور جس نے انکار کیا تھا، اُسے ہمیشہ کے لیے اسپین سے نکال دیا گیاتھا! جبکہ عیسائی یہودی آج بھی ترکی میں سیکڑوں گرجاگھروں اور سینا گاگزکی عبادتوں میں پوری سہولت سے شریک ہوتے ہیں۔

جامع مسجد قرطبہ، جسے سقوط غرناطہ کے بعد، ایک کیتھیڈرل میں تبدیل کر دیا گیاتھا، اور اب اسے قرطبہ کی مسجد-کیتھیڈرل پکارا جاتا ہے۔دائرۃ المعارف کے مطابق، اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا عرصہ تقریباً سات سو برس پر محیط ہے۔ جو آٹھویں صدی عیسوی میں جامع قرطبہ کی تعمیر سے پندرھویں صدی عیسوی میں غرناطہ کے قصر الحمراء کی تکمیل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دوران سینکڑوں محلات، مساجد، درس گاہیں اور پل وغیرہ تعمیر ہوئے۔ علامہ محمد اقبال نے شہرہ آفاق نظم مسجد قرطبہ میں دل کو چھولینے والی تصویر کھینچی ہے:

اے حرم قرطبہ! عشق سے تیرا وجود

عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود

تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل

وہ بھی جلیل و جمیل، تو بھی جلیل و جمیل

اقبال وہ پہلی عظیم ہستی ہیں جنہوں نے کئی صدیوں بعد 1931ء میں اس مسجد میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کیا۔اس مسجد کی تعمیر کا خیال امیر عبدالرحمن اول المعروف الداخل (756-788) کو سب سے پہلے اس وقت دامن گیر ہوا جب اس نے ایک طرف اندرونی شورشوں پر قابو پا لیا اور دوسری طرف بیرونی خطرات کے سد باب کا بھی مناسب بندوبست کر لیا۔ امیر چاہتا تھا کہ مسجد کو اموی جامع مسجد دمشق کا ہم پلہ بنا کر اہل اندلس و مغرب کو ایک نیا مرکز عطا کرے۔ یہی وجہ تھی کی اس کی تعمیر کی نگرانی اس نے خود کی۔عبد الرحمن الداخل کے بعد امیر ہشام اول (788ء - 796ء)مسند امارت پر متمکن ہوا۔ اس نے بھی اس مسجد کی تعمیر و توسیع کا کام جاری رکھا۔ اس نے اپنے دور حکومت کے سات سالوں میں تمام مال غنیمت کا پانچواں حصہ مسجد کی تعمیر پر خرچ کیا۔ اس عظیم الشان مسجد کا وہ عظیم مینار جو چہار پہلو تھا اسی کے زمانے میں تعمیر ہوا۔ اس مینار کا شمار عجائبات عالم میں ہوتا تھا۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس یکتائے زمانہ مسجد کی تکمیل پر ماہ و سال نہیں صدیاں خرچ ہوئیں۔ ہر امیر نے اپنی بساط اور ذوق کے مطابق اس پر بے دریغ خرچ کیا۔

ہزاروں مزدوروں نے سینکڑوں معماروں کی معیت میں اس مسجد کی تعمیر و آرائش پر اپنا خون پسینہ ایک کیا تب جا کر اسے وہ مقام حاصل ہوا جو بہت کم عمارتوں کو حاصل ہے۔دسمبر 2006ء میں اسپین کے مسلمانوں نے پوپ بینیڈکٹ سے اپیل کی کہ انہیں مسجد قرطبہ میں عبادت کی اجازت دی جائے۔ اسپین کے اسلامک بورڈ نے پوپ کے نام خط میں لکھا کہ ا سپین کے کلیسا نے ان کی درخواست مستردکردی ہے۔ دسمبر 2006ء کے اوائل میں ہسپانوی کیتھولک چرچ نے مسلمانوں کو جامع قرطبہ میں نماز کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس عبادت گاہ میں مشترکہ عبادت کے لیے دیگر مذاہب سے بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ مسلم بورڈ کے جنرل سیکرٹری منصور ایکسڈیرو کے مطابق قبل ازیں سیکورٹی گارڈز نے اندرونی حصے میں پرانی مسجد میں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کے بعض عناصر اسپین میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ (ذریعہ معلومات: آزاد دائرۃ المعارف، وکی پیڈیا)۔

ترکی کے سرکاری ٹی وی ٹی آر ٹی نے آیا صوفیا کی تاریخ مختصرا یوں بیان کی ہے: آیا صوفیہ ایک ایسی پہاڑی پر قائم ہے، جہاں سے بحر مرمر اور آبنائے باسفورس دکھائی دیتی ہے۔ مسجد آیا صوفیا کئی تبدیلیوں سے گزری ہے۔ یہ عمارت قسطنسطنیہ میں چھٹی صدی میں پہلی بار تعمیر کی گئی، اور دنیا کی چند عظیم یادگاروں میں سے ایک قرار پائی۔ بازنطینی بادشاہ قسطانطیوس ثانی نے اس کی بطور گرجاگھر تعمیر شروع کی، 360میں آیا صوفیا کی عمارت لکڑیوں پر کھڑی ہوئی، اور بہت جلد فسادات میں نذر آتش کردی گئی۔ تھیو ڈوسیو س ثانی نے سن 415میں ماربل سے اسے پھر تعمیر کیا۔ جو سن 532میں، نیکا بغاوت کے دوران زمین بوس کردی گئی۔ اُس عمارت کی کچھ باقیات آج بھی موجود ہیں۔ آج کی موجودہ عمارت وہ ہے، جسے سن 537میں شہنشاہ جسٹینین نے تعمیر کروایا تھا، وہ اپنے عہد کا سب سے بڑا گرجاگھر بنانا چاہتا تھا، آیا صوفیا تب تقریبا ہزار برس تک دنیا سب بڑا چرچ رہا۔ سن 1453میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد، سلطان محمد دوم نے اسے مسجد بنالیا۔ سلطان محمد فاتح دوم نے اس کا نام آیا صوفیا برقرار رکھا، جس کا مطلب ”Holy Wisdom“ ہے۔

اس کی دیواروں پر منقش تصاویر پر پلسٹر کروایا گیا، سلطان نے اس پرمیناروں اور محرابوں کا اضافہ کیا، یہ سن 1616تک استنبول کی مرکزی مسجد تھی، پھرمسجد سلطان احمدکی تعمیر ہوئی، جسے نیلی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ سن 1931میں، بازنطین انسٹیٹیوٹ آف امریکہ کے بانی تھامس وائٹ مور نے استنبول کا سفر کیا، اور مصطفٰی کمال سے اجازت حاصل کی، کہ آیا صوفیا کی دیواروں سے پلسٹر اکھڑ وادیا جائے تاکہ گرجاگھر کی منقش دیواریں پھر سے نمایاں ہوجائیں، اور اسے ایک مسجد سے عجائب گھر بنادیا جائے۔ سن 1972میں، کتاب Hagia Sophia a history of Constantinople سامنے آئی، اس میں مصنف نے وائٹ مور کا یہ اقتباس نقل کیا کہ ”سانتا صوفیا اُس دن تک ایک مسجد تھی کہ جب میری مصطفٰی کمال سے بات ہوئی، مگر اگلی صبح جب میں مسجد پہنچا، اُس کے دروازے پرمصطفٰی کمال نے اپنے ہاتھوں سے لکھ رکھا تھا، کہ ’عجائب گھر مرمت کے لیے بند ہے“‘اور پھر یونیسکو نے جھٹ پٹ اسے ورلڈ ثقافتی میراث بنالیا۔

یقینا جو تہذیبیں مٹ جاتی ہیں، وہ عجائب گھرکی زینت بن جاتی ہیں، مگر جو تہذیبِ فطرت پورے عالم موجودات میں جاری و ساری ہو، ہرذرے میں گردش کررہی ہو، ہرلمحہ نئی آن نئی شان میں ہو، اُسے مٹانا کسی مخلوق کے بس کی بات نہیں، مصطفٰی کمال کی حقیقت ہی کیا ہے! مسلمان اکثریت کے ملک میں ایک مسجد کوعجائب گھر قرار دینا اپنی اصل میں ایک غیر قانونی، غیر اخلاقی، اور غیر جمہوری قدم کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟آج قریبا ایک صدی بعد اس مسجد کی حیثیت بحال ہوئی ہے۔ ترک صدر ایردوان نے اسٹیٹ کونسل کے فیصلے کے بعدآیا صوفیہ کی عجائب گھر کی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ سے مسجد کے طور پر استعمال کیے جانے کا حکم نامہ جاری کیا، اوراس معاملہ پر قوم سے خطاب کیا۔انھوں نے کہا کہ آیا صوفیا کے دروازے مقامی و غیر ملکی،اور غیر مسلم سب کے لیے کھلے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ بنی نوع انسانوں کا ورثہ آیا صوفیا اپنی نئی حیثیت میں پہلے سے کہیں زیادہ مخلصانہ ماحول میں وجودی اہمیت برقرار رکھے گا۔ ہر کسی کو ترکی کی عدالتی کارروائی اور فیصلے کا احترام کرنا ہوگا۔

جناب ایردوان نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف کوئی بھی مؤقف اور بیان ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ عیسائی مقدس شہر ویٹی کن کوعجائب گھر قرار دے کرعبادت کے لیے بند کرنا بھی منطقی طور پر اُسی طرح غیر قانونی اور ناجائز عمل ہوگا، کہ جس طرح مسجد آیا صوفیہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ٹھیک 567 سالہ قدیم ایک حق ہے۔ اگر کسی نے مذہبی استحقاق اور منافرت انگیزی پر ہی بحث کرنی ہے، تو اس کے لیے آیا صوفیا نہیں بلکہ اسلام دشمنی اور غیر ملکیوں سے نفرت کا معاملہ موضوع ہونا چاہیے۔ ترک قوم کی رواداری اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ آج تک ’الہی حکمت“ کا مفہوم رکھنے والی اس عبادت گاہ کا نام تک بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 24 جولائی 2020 بروز جمعہ نماز جمعہ کے ساتھ 86 سال بعد آیا صوفیا کو عبادت کے لیے کھولنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔آخر میں انھوں نے کہا کہ مسجد آیاصوفیا کا احیاء مسجد ِ اقصی کی آزادی کا پیغام دیتا ہے۔

آیا صوفیا کے عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے کہ: ”عدالت اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ اس عمارت کا سوائے مسجد کوئی بھی دوسرا استعمال قانونی طورپر ممکن نہیں ہے۔ سن 1934میں کابینہ نے جو فیصلہ کیا تھا، اور آیا صوفیہ کی بطور مسجد حیثیت منسوخ کردی تھی، اور اسے عجائب گھر کا درجہ دے دیا تھا، وہ قطعی طورپر غیر قانونی اقدام تھا۔“اس فیصلہ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے، کہ اعلان ہوتے ہی استنبول کے لوگ مسجد آیا صوفیہ کے باہر جمع ہوئے، اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے، اذان ہوئی اور نماز شکرانہ ادا کی گئی۔ وہ چھیاسی برس سے یہاں نماز کی ادائیگی کے لیے شدت سے انتظار کررہے تھے۔ اس فیصلہ پراعتراضات کا وزن کیا ہے؟ مغربی دنیا کا اعتراض قابل اعتناء ہی نہیں کیونکہ وہ مسجد قرطبہ سے مسجد اقصٰی تک، اور مقبوضہ کشمیر سے اراکان قتل عام تک، اور بغداد سے دمشق تک اسلامی تہذیب کی ہرہر علامت مٹانے میں پیش پیش رہی ہے۔ رہ گئے مغرب زدگان! وہ بے چارے سوائے کورس میں منفی پراپیگنڈہ دہرانے کے کچھ نہیں کرسکتے! اگر اُن سے پوچھا جائے کہ مسجد قرطبہ کی بطور مسجد بحالی پراُن کا کیا مؤقف ہے؟

تو کیا انھیں سانپ نہیں سونگھ جائے گا؟ یا اب تک انھوں نے مسجد اقصٰی کی آزادی کے لیے کتنی آواز بلند کی ہے؟ اور آج وہ ایک مسجدکے احیاء پر پرتلملارہے ہیں، اور اگر یہ ایک گرجا گھرہے؟ توپھر یہ چھیاسی سال سے اس کے عجائب گھر قرار دیے جانے پر کیوں خاموش رہے؟ کیسا منافقانہ تضاد ہے کہ، مغرب زدگان کوعجائب گھر کومسجد بنانے پر آج اعتراض ہے،لیکن کل تک ایک گرجا گھر کو عجائب گھر قرار دیے جانے پر کوئی اعتراض نہ تھا! کیوں؟ اس لیے کہ انھیں گرجاگھر سے کوئی دلچسپی نہیں، انھیں پریشانی صرف اس بات سے ہے کہ کہیں کوئی اسلامی علامت زندہ نہ ہوجائے!آج آیا صوفیہ کا احیاء ہوا ہے،کل مسجد اقصٰی کا احیاء بھی ہوسکتا ہے، اور پھرمسجد قرطبہ، اور پھراحیاء کا یہ سلسلہ اسلامی تہذیب کا احیاء بھی ہوسکتا ہے!

اور اسلامی تہذیب کا احیاء مغرب اور مغرب زدگان کیسے برداشت کرسکتے ہیں؟ تاہم یہ فطری ہے، کہ جب بھی تہذیبوں کی علامتوں میں تصادم ہوگا، فیصلہ اُسی تہذیب کے حق میں آئے گا، جس کا مستقبل روشن ہوگا۔یہ کائنات خدا کا گھرہے۔ یہ روئے زمین خدا کا گھر ہے۔ مسجد خدا کا گھر ہے! عجائب گھر نہیں ہے! یہی تاریخ کی ازلی حقیقت ہے۔ یہی تاریخ کا ابدی فیصلہ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com