پیری مریدی نہیں گھروں میں اسلام چاہیئے - سلمان ا سلم

یہ آج سے دس یا بارہ سال پہلے کی بات ہے مرے والد صاحب پرائمری سکول ٹیچر تھے۔ ان کا تبادلہ ہمارے گاوں سے قریبا 30 کلو میٹر دور پہاڑوں میں واقع ایس ایس جی ہیڈکوارٹر چراٹ کےاک پرائمری سکول میں ہوا۔ کچھ عرصہ کے بعد والد صاحب ہمیں بھی ساتھ لے کرادھر شفٹ ہوگئے۔

فوجی چھاونی کی یہ اک خاص بات میں نے دیکھی جو مجھے بہت پسند آئی کہ دن کا ہر کام وہ اپنے مخصوص کیے ہوئے وقت پر ہی کرتے ہیں۔ یعنی طلوع صبح سے لے کر غروب آفتاب تک ان کا ہر کام گھڑی کا پابند ہوتا ہے۔ عصر کو نماز عصر کے بعد ہیڈ کوارٹر کے سامنے موجود گراونڈ میں عام کمانڈو سے لے کر جنرل کمانڈگ آفیسر تک سب اس میں کھیل کے لیے جمع ہوجاتے تھے۔ اور ہم سویلین کو اس دوران وہاں قریب موجود لائیبریری میں جانے کی اجازت مل جاتی تھی۔

میں بھی اکثر دوستوں کے ساتھ مل کر لائیبریری چلا جاتا تھا۔ یہ مری زندگی کا وہ دور تھا جس کو میں نے سوائےاک مثبت کام کے باقی سارا ضائع کیا تھا۔ آٹھویں کے بعد والد صاحب اور گھر والوں کی منشاء اور اپنے ہلکے پلکے لڑکپن کے جذبے کی بابت سکول چھوڑ کر مدرسے میں قرآ ن حفظ کرنے کے لیے بیٹھ گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے خوش شکل، امیر اور ذہین نہ ہونے کی وجہ سے مجھے وہ توجہ مسجد استاد کی طرف سے نہ مل سکی جو اک خوش شکل، خوشحال اور ذہین لڑکوں کو مل جاتی تھی۔ اور مقصد حفظ کے ادھورے رہ جانے میں باقی رہی سہی کسر اپنی کم عمری اور کج فہمی سے میں نے پوری کردی تھی۔ ہمارے معاشرے کا یہ بھی اک بہت بڑا المیہ ہے کہ دینی مدارس میں بھی دنیاوی کمین کاری کوٹ کوٹ کے بھری ہوتی ہے۔

یعنی اگرآپ خوشحال ہیں، خوش شکل بھی ہیں اور ذہین بھی تو آ پ مدرسے کے اکثریتی مدرسین کے ہردلعزیز طالب علم ہونگے (مستثنیات اپنی جگہ موجود ہیں) لیکن اگرآپ قسمت کے مارے ان چیزوں سے محروم ہو تو پھر آپ مدرسے یا مسجد میں اپنی زندگی کے قیمتی ساعتیں خرچ کر تو لوگے مگراکبر کے لٹو اور مسجد کے پھپو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں بن پاوگے۔ اور میں بھی اس وقت اسی ڈگر طرف چلنے لگاتھا۔ خیر میں اپنی فیملی کے ساتھ ایس ایس جی ہیڈکوارٹر میں تھوڑے سے دورانیے کے لیے مقیم پذیر تھا۔ میں اک دن دوستوں کے ساتھ لائیبریری گیا وہاں میں نے اپنی زندگی کی پہلی غیرنصابی کتاب (جو شاعری کی کتاب تھی) "لوبان" پڑی تھی۔ اور پھر وہاں سے ہلکا پلکا غیرنصابی کتب کے مطالعے کا ذوق لا شعور میں پلتا گیا۔ اک دن لائیبریری میں بیٹھے بیٹھے ہمارے درمیان دینی امور پہ بات شروع ہوئی اور اس بحث کا کل وسعت مضمون عقیدہ یعنی فرقہ تھا۔

دوست نے پوچھا آپ کونسے عقیدے (فرقے) کے ہو؟ میں بولا تنظیم اہل سنت والجماعت۔ مگر دوست نے کہا وہ تو سب ہیں آپ اس کے اندر دیوبندی ہو یا بریلوی؟ یہ مرا پہلا سطحی تعارف تھا فرقوں یعنی دیوبندیت و بریلویت سے اسکے علاوہ میں دینی امور میں کورا کاغذ تھا ہاں مگرپیری و مریدی میں میں بلا کا مقرر اور اندھا مقلد تھا۔ اور اسی کی توسط سے دوست نے مجھے بریلویت سے منسلک کرکے اس سے آشنا کردیا تھا۔ ورنہ گھر سے تو اک ہی بات سننے اور دیکھنے کو ملی تھی کہ اصل عقیدہ تنظیم اہل سنت والجماعت کا ہے اللہ شاہد ہے کہ عرصہ دراز تک اس چند لفظی جملے کا املا تک نہیں آتا تھا مطلب و فہم تو دور کی بات تھی۔ حدیث پاک میں آتا ہے،" مامن مولود الا یولد علی الفطرتہ۔۔۔۔۔۔۔"ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ (بخاری شریف۔۔ 1358)

لاکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ ہر انسان اپنے بچے کو اپنے اپنے دین پہ لے کے آتا ہے۔ یعنی عیسائی اپنے بچے کوعیسائیت سکھاتا ہے، سکھ سکھ ازم سکھاتا ہے، یہودی یہودیت سکھاتا ہے، ہندو ہندومت اور بدھا بدھ مت سکھاتا ہے جبکہ مسلمان اس کو اسلام سے زیادہ اور مقدم فرقہ پرستی اور پیری و مریدی سکھاتا ہے۔ اسکو عقیدے کے نام پہ فرقے کی آ گاہی دی جاتی ہے اور عقیدت کے نام پہ پیری و مریدی سکھائی جاتی ہے۔ اسلام تو ہم پھر بہت بعد میں بالغ عمری میں اپنے تئیں سیکھنے لگتے ہیں۔ زندگی کے جس عمر کے دورانیے میں باقی دنیا کے نوجوان سائنس اور علم کی دنیا میں میدان مار رہے ہوتے ہیں وہاں پہ ہم مسلمان نوجوان اسلام اور فرقوں کی راست بازی کا میدان فتح کرنے کی دوڑ میں لگے ہوتے ہیں۔

لیکن اس فرقہ پرستی کی وباء سے بھی کہیں زیادہ ہماری مت، بلکہ مت ہی کیا سب کچھ پیری مریدی کا چکر ہی مار لیتا ہے۔ یاد رکھیں اولیاء کرام کا وجود برحق ہے ان کا احترم، عقیدت اور رہنمائی بھی برحق ہے۔ لیکن پیری و مریدی کے دھاگے میں بندھ کر سماجی، معاشرتی اور اقتصادی امور سے بلکل کٹ کر رہ جانا بھی حقیقی ولایت کے برعکس ہے۔ اور عہد حاضر کی مانند پیروں و مریدوں کے درباروں سے اپنے ضروریات کی تکمیل اور (مشکل حالات میں) یا مدد کی توقع اور عقیدت رکھنا عین اسلام کے تعلیمات کے منافی ہے۔ ادب، تعظیم کے سارے دائرے اللہ کے بعد محبوب پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے ذات اقدس کے گرد ہی موجود ہیں کا عقیدہ برحق ہونا چاہیے۔ وہ پشتو کے عظیم صوفی شاعر نے کیا خوب لفظ کشائی کی ہے۔

"خدائے مہ گنڑہ بے شکہ چی بندہ دے

نور ئی کل واڑہ صفاٹ دی پہ رختیا"

ترجمعہ۔۔۔ اللہ نہ مانو رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیونکہ بے شک مرے حبیب پاک بھی اللہ کے بندے ہیں مگر باقی کل صفات اس کے برحق ہیں۔
لیکن پیری مریدی کے چکر میں ہم غلو کی حدیں اس حدتک پار کرچکے ہیں کہ مذکورہ بالا کل صفات کو اپنے پیروں مریدوں سے دانستہ یا نادانستہ طور پر وابستہ کرچکے ہیں جس سے مسلم معاشرہ دینی اخلاقیات کی رو سے زوال پذیر ہورہا ہے۔ پیری مرید کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ آ پ کو کسی بھی مسلے میں دینی و شرعی و فقہی اعتبار سے ازخود تحقیق و رہنمائی کی اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ ادب و تادیب کے دھاگے میں لوگوں کو پرو کر اپنی پیری مریدی کو زندہ رکھنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں بھی اسلام کے ظاہری لیبل کے ساتھ پیری مریدی کے اصول فقہ سمجھائے اور سکھائے جاتے ہیں۔ دوسرے فرقوں / عقیدوں کے کتب کے مطالعے پہ ایسی قدغن لگائی رکھی ہوتی ہے کہ جیسے وہ کسی کفریہ مذہب کے معاذ اللہ ثم معاذ اللہ کتب ہوں۔

عقیدے کے معیار (بدعقیدہ / راست عقیدہ) کا اندازہ پیر صاحب کے غیر موجودگی میں بھی اس کا نام لینے کے ساتھ ادب بھرا لہجہ اور آواز میں شگفتگی کا احساس محسوس ہونے پہ ہی کیا جاتا ہے۔ یعنی اس سے اندازہ لگائیں کہ عیدین کے علاوہ ہم باقی کوئی بھی اسلامی تہوار مناتے ہیں (شب براءت، بارہ ربیع الاول، گیارہویں وغیرہ وغیرہ) تو اسکی دلیل ہمارے پاس پیرصاحب کے اقوال ہوتے ہیں جو کہ اسکے درست ہونے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ پیری مریدی کا یہ غلو پن ہمارے معاشرے میں اتنا گھل مل چکا ہے کہ ہم اپنے کاموں کی شروعات پیر صاحب سے پوچھنے کے بعد ہی کرتے ہیں۔ بچوں کے رشتے کراتے وقت بھی لڑکی کے خاندان کے بارے میں کہ ان کا دینی تعلق پیر صاحب سے ملتا ہے کہ نہیں کے جاننے کی کوشش بھی غیر شعوری طور پر کرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اولیاء کرام کے پاس جایا نہ جائے ان کی صحبت اختیار نہ کی جائے ان کی رہنمائی نہ لی جائے۔

یہ سب ہونے چاہیے اور ہمیں بصد احترام کرنے چاہیے مگر غلو کی حدتک نہیں جانا چاہیے اور پھر بالخصوص نقالوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے۔ ہم پاکستانی قوم فطرت اسلام کے بعد سفلی نقل بازی کو بھی لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ باقی دنیا تو ٹیکنالوجی میں دوسروں کی نقل مارتے ہیں ہم پاکستانی تو انسانوں اور اسکی اعمال کی بھی نقل مارتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس پیری مریدی کے چکر میں کتنے لوگ اپنی عزتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پیروں پہ بنائے ہوئے مزاروں پہ جو کساد بازاری ہوتی ہے اور اندر ہی اندر پیار بازیاں جو چلتی رہتی ہیں وہ شائد ہی اب کسی طوائف بازاروں میں میسر آتے ہوں۔ پیری مریدی یا اسکے مترادف سجادہ نشینی پاکستان کی وہ واحد پروفیشن بن چکی ہے جس میں ڈگری اور تعلیم نہیں بس بہروپ دھارنے کا ہنر کام آ تا ہے۔ پھر عوام کی بھی ریل پیل ہوتی ہے اور مال و دولت کی بھی۔

یقین مانیے ہمارے معاشرے میں چاہے سماجی بگاڑ ہو، معاشی یا پھر مذہبی، سب کی وجہ یہی ہے کہ ہم گھروں میں اسلام کی بجائے پیری و مریدی اور فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہیں۔ ہم گھروں میں بچوں اور عورتوں اور خود بھی پیری مریدی اور فرقوں کی گرداب میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ دین اسلام کا نزول اللہ جل شانہ نے عرب کے امی و بدوی قبائل میں کیا تھا لیکن وہ سب اسی عظیم الشان دین اسلام کی بدولت دنیا پوری میں سب سے زیادہ معزز اور علم دوست مانے و جانے گئے۔ مگر اب عہد حاضر میں ایسے لگ رہا ہے کہ دین اسلام واپس ان پڑھ، امی اور خانہ بدوشوں کے ہاتھوں میں رہ چکا ہے اورآج ہم سب دنیا پوری میں سب سے زیادہ جاہل، بے عزت اور علم دشمن جانے و مانے جاتے ہیں۔

خدارا دین اسلام کے اصل روح کو زندہ کرنے اور آگے پھیلانے کی ضرورت ہے پیری و مریدی کو نہیں۔ گھروں میں اگر ہم سکون کے واقعی متمنی ہیں تو وہ اسلام کو رائج کرنے سے آئے گا پیری مریدی کے پھپو بننے سے نہیں۔ ہمیں اسلام کو ہی گھروں میں سب کو سکھانا اور سمجھانا ہوگا نہ کہ پیری مریدی کو، ورنہ دنیا میں بھی سکون سے محروم رہیں گے اور آخرت میں بھی اسی پیری مریدی کے پاداش میں اذیت میں متبلاء ہونگے۔اور قرآ ن بھی ہمیں یہی تعلیم دے رہا ہے۔اللہ کرے یہ باتیں ہماری سمجھ و عمل میں آجائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com