ســـفر(قسط 7) - عظمی ظفر

چاندنی بوا تمکین کو ڈراٸنگ روم میں جن خاتون سے ملوانے لے گئیں، انہیں دیکھ کر تمکین کو بہت حیرت ہوئی۔ وہ باوقار خاتون اس کے کالج کی پرنسپل میم دردانہ تھیں۔ نانا میاں کے ساتھ ثروت بھی موجود تھی، چونکہ اس نے بھی اسی کالج سے پڑھا تھا اس لیے وہ بھی انھیں بہت اچھی طرح جانتی تھی۔میز پر چائے اور ناشتے کے لوازمات موجود تھے۔

تمکین نے انھیں سلام کیا۔ پرنسپل صاحبہ نے چاۓ کی پیالی میز پر رکھی اور بہت گرم جوشی سے اس سے ملیں۔ تمکین نانا میاں کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گٸی۔"احتشام صاحب! میں کوئی تمہید نہیں باندھوں گی، آپ سے ایک قیمتی چیز مانگنے آئی ہوں۔"میڈم دردانہ یہ کہہ کر چند لمحے خاموش رہیں، پھر تمکین کو دیکھ کر کہنے لگیں۔“دراصل تمکین مجھے بہت پسند ہے اور مجھے اپنے چھوٹے بھائی کے لیے تمکین کا رشتہ چاہیئے۔ ماشاءاللہ اس سال وہ انجينئر بن گیا ہے۔"تمکین نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا، چاندنی بوا بھی حیران و خوشی کی درمیانی کیفیت میں تھیں۔ البتہ ثروت کو یہ بات کچھ خاص پسند نہیں آئی۔

ویسے بھی اسے تمکین سے بلاوجہ ہی چڑ تھی ، کہاں اتنا اچھا رشتہ آگیا۔نانا میاں نے یہ بات سن کر گہری سانس لی اور میڈم دردانہ کی طرف متوجہ ہوۓ،“میرے گھر آپ کا آنا قابلِ عزت ہے۔ یقیناً یہ آپ کی محبت ہے جو آپ نے میری بیٹی کو اس قابل سمجھا، مگر میں معذرت چاہتا ہوں کیونکہ تمکین بیٹی کا رشتہ میں نے ایک عزیز کے بیٹے سے طے کیا ہے اور ثروت بیٹی کا رشتہ بھی طے کرچکا ہوں اور بہت جلد دونوں کو رخصت کر رہا ہوں۔ اس لیے میں آپ سے بہت معذرت چاہتا ہوں۔"نانا میاں نے بہت استحقاق کے ساتھ یہ بات کی، ثروت تو ثروت تمکین بھی حیران تھی۔

دردانہ بیگم نے ان کی بات سن کر پھیکی سی مسکراہٹ بھری اور جانے کے لیےاٹھ کھڑی ہوئیں۔" چلیں یہ تو بہت خوشی کی بات ہے، اللہ بچیوں کو ہمیشہ کی خوشیاں دکھائے، مجھے اجازت دیجیے۔"چاندنی بوا دروازے تک ان کے ساتھ گئیں۔ ثروت جو یہ بات سن کر غصے سے ابل رہی تھی ان کے جاتے ہی پھٹ پڑی،"آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی، کتنے ڈراموں کی بکنگ کی ہے میں نے اور ویسے بھی مجھے طلال صاحب پسند ہیں میں ان سے ہی شادی کروں گی۔"

ثروت نے ایک بجلی گرائی تھی ،،، جو نانا میاں کے دل پر گری۔"ثروت،،،! "نانا میاں طلال کا نام سن کر اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔ اس لڑکی کی دیدہ دلیری اور بے شرمی پر کھول اٹھے۔" تم اپنے باپ کی عمر کے آدمی سے شادی کرو گی؟ شرم نہیں آئی میرے سامنے اس طرح کی بات کرتے ہوۓ ،،،،" ان کی چھڑی لڑکھڑا گئی، اگر اس کا سہارا نہ ہوتا تو شاید وہ گر جاتے، تمکین نے جلدی سے انھیں پکڑ لیا۔"اچھا،،، مجھے بھی تو پتہ چلے آخر آپ نے کس شہزادے کو چنا ہے میرے لیے، مجھ سے پوچھے بغیر، میری مرضی جانے بغیر میری زندگی کا فیصلہ کرچکے ہیں آپ ؟؟؟ " ثروت نے غصے سے کہا۔" تم سے مجھے کسی بھلائی کی امید نہیں ثروت، کیا تم سمجھ رہی تھی کہ تمہاری فضول حرکتوں کی خبر مجھے نہیں ملے گی؟ پاسپورٹ بنوانے کے لیے زیور بیچ دیا، رقص جیسی گھٹیا چیزیں سیکھ رہی ہو، سب ،،، سب کچھ جانتا ہوں میں۔" نانا میاں نے چاندنی بوا اور تمکین کو گھورتے ہوئے کہا۔

" اب بس بہت ہوگیا ! وہ طلال بیچ محفل میں مجھے میری بچیوں کی عزت سمیت دو کوڑی کا کر گیا ہے۔ کان کھول کرسن لو جو میں کہہ رہا ہوں اس ہی پر عمل ہوگا۔
محسن کے ساتھ طے کیا ہے تمہارا رشتہ نیک شریف ماں باپ کا بچہ ہے اور تمکین کے لیے زبیر کی بات کی ہے گلبہار سے۔"نانا میاں کی سانس پھول رہی تھی،" اگلا جمعہ طے کیا ہے دونوں کے نکاح و رخصتی کے لیے، چاندنی بوا جو انتظام کروانا ہے مجھےبتا دیں۔"نانا میاں کا دل دبتا جارہا تھا، وہ بہ مشکل بات کر رہے تھے۔ثروت اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور تمکین کے پاس آکر کہنے لگی۔" اوہ ،، بہت خوب !!یعنی تمکین کے لیے وہ کیپیٹن زبیر اور میرے لیے آپ کو ایک بےکار سا شاعر ہی ملا۔آپ اسے تو کچھ نہیں کہتے۔۔۔ میڈم دردانہ انجینٸر بھائی کا رشتہ لا رہی ہیں، گلبہار خالہ کے بیٹے زبیر بھائی کو الگ پھسایا ہے ،،، آپ کی بھولی معصوم سی تمکین نے کیا بات ہے!! " ثروت نے بدتمیزی کی انتہا کردی تھی۔

" باجی!!! " تمکین ششدر رہ گئی۔" آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ مجھے تو کچھ خبر بھی نہیں۔" تمکین کے سر پہ جیسے دیوار آ گری ہو۔چاندنی بوا نے ثروت کی بات سن کر اپنا سر پیٹ لیا۔" ہاں ۔۔۔ ہاں تم تو بہت ہی بھولی ہو، سارے گناہ میں نے کیے ہیں۔ مجھے اس مہینے کے آخر میں بمبٸی جانا ہے اور آپ مجھے روک نہیں سکتے۔"
ثروت نے زور سے کہا۔" اس کی شادی کردیں جس سے مرضی نانا میاں اور اگر مجھ پر زبردستی کی تو میں یہ گھر چھوڑ دوں گی۔"ثروت تو جیسے اس بات کے لیے تیار تھی۔نانا میاں نے اپنا دل پکڑ لیا،" تمکین مجھے کمرے تک لے چلو ورنہ میرا دل بند ہو جائے گا۔

" انھوں نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔تمکین ان کی شکل دیکھ کر پہلے ہی پریشان ہو رہی تھی، آنسوؤں سے رو پڑی،،،" نانا میاں آپ ہمت کریں!!" چاندنی بوا اور تمکین ان کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آئیں۔تنہا صرف ثروت رہ گئی تھی۔" دادی!"قندیل نے ان کا پاندان ترتیب سے رکھتے ہوئے آواز دی۔ گلبہار بیگم اس کے بالوں میں مالش کر رہی تھیں۔"ہاں میری بچی! بولو، مگر دیکھ تو تیری ماں لوٹی نہیں ابھی تک راحیلہ کے گھر سے، مجھے ضروری بات بتانی تھی اسے۔"

"کوئی خاص بات ہے تو مجھے بتا دیں دادی۔"اس نے دادی کے ہاتھوں کو روکتے ہوۓ کہا۔"ہاں تجھے بتادوں تاکہ تو زبیر کو بتادے ساری کہانی، بچپن سے عادت ہے تیری، اِدھر باپ گھر لوٹا اُدھر تیری کہانی شروع،،،"

" بلاوجہ پھر وہ غصہ کرتا ہے کہ آپ سے چپ نہیں رہا جاتا۔لو بھلا یہ بھی کوئی چھپانے والی بات ہے، اب خلیل میاں فرنگی لڑکی سے بیاہ کریں گے تو کیا خاندان والوں کو پتہ نہیں چلے گا؟ "دادی اپنی روانی میں سب کہہ گئیں۔قندیل نے سامنے سے آتے باپ کو دیکھا تو مسکراہٹ روک نہیں سکی۔" سچ ہی تو کہتا ہوں اماں! آپ چپ نہیں رہ سکتیں، ویسے مجھے بھی بہت اہم بات کرنی ہے تمکین اور آپ سے۔" زبیر صاحب بولتے ہوئے قریب کرسی پر بیٹھ گئے۔" اۓ تو ہمیں کیا پتہ تم ابھی آن ٹپکو گے۔ سب انتظام ہوگئے شادی کے مہمانوں کو کوئی پریشانی تو نہیں ہوگی؟ اب تو تم ہی اس کے باپ کی طرح ہو، اللہ نعیم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ " انھوں نے دعا مانگی۔" نہیں اماں! اللہ نے چاہا تو کوئی پریشانی نہیں ہوگی، مکرم نے بہت ساتھ دیا ہے سارے کاموں میں، بھاگ دوڑ کرنے میں، اس کے ہی گھر میں سارے مرد حضرات ٹھہریں گے، نکاح بھی چھت پر ہی ہوگا۔

ویسے آپ سے کس نے کہا کہ خلیل آرہا ہے؟"زبیر صاحب نے پوچھا۔"اۓ لو اور کون کہے گا ؟ ثروت کا فون آیا تھا، فاطمہ کی شادی میں آئے گی، خود ہی بتا رہی تھی۔"

" کتنے عرصے بعد دیکھوں گی میں ان کو۔" قندیل نے کہا،" ویسے وہ مجھے لگتی بہت گریس فل ہیں۔ بس غصے میں زیادہ رہتی ہیں، ہیں نا دادی ؟"

" چھوڑو بٹیا!! وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش" دادی نے پاندان اپنی طرف کرتے ہوۓ کتھہ نکالا۔کاش کہ ثروت نے ایسا ہی کیا ہوتا دوسروں کو ان کے گھروں میں خوش رہنے دیتی تو آج انہیں بھی اولاد کی خوشی ملتی ، زبیر صاحب کو ایک خلش نے سر جھکانے پر مجبور کردیا جس کا ازالہ وہ کرنا چاہتے تھے، مگر اتنی آسانی سے ممکن نہیں تھا، وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے ۔ ثروت کا غصے پہ بس نہیں چل رہا تھا، دماغ میں بغاوت کی آندھیاں ہی آندھیاں تھیں۔ اداکاری کا خواب، کلاسیکل رقص، ڈرامے، فلمیں۔سب کے سب ختم ہوجاتے اگر وہ نانا میاں کے فیصلے کو قبول کرتی ۔اور وہ معمولی سا محسن کلیم،،،اور کوئی نہیں ملا انھیں، میرے لیے۔تمکین کے لیے زبیر۔۔۔۔ کیپٹین زبیر،، یہ سب تمکین کی ہی سازش ہوگی اسی نے بہکایا ہے سب کو میرے خلاف۔

ثروت نفرت کی آگ میں جل رہی تھی۔ میری زندگی کا سفر کامیابی ہے نانا میاں،، گمنامی نہیں! وہ کچھ سوچ کر وہاں سے اٹھی۔ مگر اگلا قدم تمکین کے چیخنے پر بے اختیار باہر کی طرف اٹھایا۔نانا میاں کو دل کا شدید دورہ پڑا تھا، وہ سب کچھ بھول بھال کر ان کے سرہانے کھڑی تھی۔"چاندنی بوا جلدی سے محسن کو فون ملائیں اسپتال لے کر جانا ہے ،،،"اس کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے، لاکھ خودسر سہی، مگر نانا میاں ہی تو سہارا تھے، بچپن سے اب تک ان کی ہی محبت تو دل میں موجزن تھی۔زندگی کا سفر ابھی باقی تھا اس لیے نانا میاں موت کے منہ سے زندہ سلامت نکل آئے۔ اس لمحے ثروت کو لگا کہ اگر اس کی وجہ سےنانا میاں کو کچھ ہوجاتا تو کیا وہ خود کو معاف کرسکتی؟کیا ان سب کی ذمہ دار وہ خود ہوتی؟

یوں اس کی انا اور شوق جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔اس نے حالات سے تو سمجھوتہ کر لیا مگر تمکین سے جو بغض تھا وہ ختم نہیں کر پائی۔ کیونکہ بہرحال کپٹن زبیر، محسن کلیم کے مقابلے میں بہتر تھا۔چاندنی بوا پورے گھر میں بوکھلائی پھر رہی تھیں۔ کام کے لیے ملازمہ کو ہدایت الگ دیئے جارہی تھیں اور غصہ الگ کر رہی تھیں۔"شادی کا گھر ہے ارے کوئی تیز ہاتھ کیوں نہیں چلاتا۔"

"اۓ تمکین بٹیا! چھوڑ دے کتاب اور یہ ابٹن ملوا لے میری بچی۔"وہ کٹوروں میں چنبیلی کا تیل اور ابٹن لے آئیں۔"خالص گھر پہ بنایا ہے میں نے۔" انھوں نے پیار سے کہا۔"بوا ،،،!!! کل میرا پیپر ہے آپ بھی میرا ساتھ نہیں دیں گی؟ باجی کی شادی کردیتے نانا میاں مجھے تو ابھی پڑھنے دیتے۔" اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
اسے دیکھ کر بوا بھی چہکوں پہکوں رونے لگیں۔"بٹیا ہمیں کیا خبر تھی کہ اچانک یہ گھر خالی ہو جائے گا، ویسے بھی ہماری کون سنتا ہے، ثروت بٹیا تو الگ زمانے سے ناراض بیٹھی ہیں، خدا خیر کرے شادی عزت سے ہوجائے تم دونوں کی۔" تمکین باجی! آپ کو نانا میاں بلا رہے ہیں۔" ملازمہ نے آکر بتایا۔ جاری ہے.........

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com