کروناوائرس حیاتیاتی ہتھیار ہوسکتاہے - ایم سرورصدیقی

کچھ لوگوںکا خیال ہے کہ 2020ء کی آمد بنی نوع انسانیت کے لئے منحوس ثابت ہوئی یہ ڈبل ٹو شاید دنیا کا اختتامی سال ہے کئی سیانے اس وائرس کو’’دجال‘‘ سے منسوب کررہے ہیں اور اس کے تانے بانے یہودیوں سے جوڑ رہے ہیں لیکن بیشترکو یقین ہے کہ یہ ہماری شامت ِ اعمال کا نتیجہ ہے درحقیقت کرونا وائرس اتناخوفناک ہے کہ اس نے پوری دنیا پر اپنا خوف طاری کر دیا ہے ۔

شایدکرہ ٔ ارض پر اس سے زیادہ بھیانک وباء نہ آئی ہو یہی وجہ ہے کہ کئی ماہ گذرنے کے باوجود سینکڑوں ممالک میں لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے باعث غریب اور ترقی پذیرممالک کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے وہاں کی حکومتوں کواس بیماری کے ساتھ ساتھ غربت سے بھی مقابلہ کرناپڑرہاہے عوام میں بیروزگاری، مہنگائی اور بے چینی میں اضافہ ہوگیاہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اقتصادی طورطاقتور ممالک کی معاشی حالت بھی خراب ہوتی جارہی ہیں اب بہت سے ذہنوںمیں یہ سوال اٹھنا یقینی ہے کہ نوول کرونا وائرس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اور یہ کیسے پھیلتاچلاگیا؟ کیاکروناوائرس واقعی حیاتیاتی ہتھیارہے؟ فروری کے اختتام تک محدود معلومات، تحقیق کی کمی اور مغربی میڈیا کی تعصبات سے بھری خبروں کی موجودگی میں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ، حتیٰ کہ طبی ماہرین کی توجہ بھی ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ پر مرکوز رہی۔

وقت گزرنے کے ساتھ مختلف تجزیاتی رپورٹس، سائنسی مطالعات اور حقائق نے ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ میں اس وائرس کی پیدائش کے مفروضے کو پھیکا کردیا۔ امریکا کی ٹولین یونیورسٹی میں وائرسیات (وائرولوجی) یعنی علم الوائرس کے ماہر پروفیسر رابرٹ گیری نے حال ہی میں نشریاتی ادارے اے بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجزیے کے مطابق چین کے شہر ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ نوول کرونا کرونا وائرس کا ماخذ نہیں۔ تاہم ووہان میں سب سے پہلے اس وائرس کی تشخیص نے دنیا بھر کی توجہ اس جانب مبذول کروا دی تھی۔رابرٹ گیری کہتے ہیں کہ یہ وائرس فطری طور پر پیدا ہوا ہے۔ اس سے قبل 17 مارچ کو اعلیٰ درجے کے بین الاقوامی علمی جریدے ’’نیچر میڈیسن‘‘ نے امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پانچ سائنس دانوں کا مشترکہ تصنیف کردہ ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا۔ اس مقالے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نوول کرونا وائرس لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا، نہ ہی یہ کسی خاص مقصد کے تحت بنایا گیا ہے؛ اور اس کی ساخت یہ بتاتی ہے کہ اسے قابو میں نہیں رکھا جاسکتا یعنی یہ حیاتیاتی ہتھیارنہیں ہے ۔

18مارچ کو امریکا کی مذکورہ یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ نے اس مقالے کے مصنّفین اور معروف وائرولوجسٹ رابرٹ گیری کا انٹرویو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔ اپنے انٹرویو میں گیری نے کہا ’’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ حیاتیاتی ہتھیار نہیں۔ کسی نے بھی اس وائرس کو لیبارٹری میں نہیں بنایا۔ یہ قدرت کی پیداوار ہے۔ اب تک ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ وائرس انسانوں میں کب سے موجود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ صرف چند مہینوں، شاید برسوں یا عشروں سے بھی زیادہ عرصے سے یہ انسانی جسم میں موجود ہو، اور پھر اچانک اس کی ساخت میں کوئی تغیر آیا جس نے اسے تیزی سے پھیلادیا۔‘‘ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر 27 مارچ تاریخ کو اے بی سی نے گیری کے ساتھ ایک انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو میں معروف وائرولوجسٹ رابرٹ گیری نے اس خیال کی واشگاف انداز میں تردید کردی کہ کرونا وائرس کی ابتدا چین کے شہر ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ میں ہوئی ہے ان کا کہنا تھا جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ غلط ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’’ہمارے تجزیئے کے ساتھ کچھ سائنس دان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ وائرس ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے کہیں پہلے کا معاملہ ہے۔‘‘ گیری نے کہا ’’ووہان سی فوڈ مارکیٹ سے متعلقہ کچھ لوگ اس کا شکار ضرور ہوئے ہیں، لیکن یہ وائرس وہاں پیدا ہوا، اس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘‘ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اس وائرس کی ابتداء کہاں سے ہوئی؟ اب تک ایک بڑی تعداد میں محققین یہ ثابت کرچکے ہیں کہ یہ وائرس بہت سی دوسری جگہوں پر پیدا ہوسکتا ہے۔ 24 جنوری کو ’’دی لینسٹ‘‘ کے آن لائن ورڑن نے ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا، جس میں ووہان جین یانٹن اسپتال کے سات معالجین کے تجربات شامل ہیں۔ ان کے مطابق ناول کورونا وائرس کے ابتدائی 41 کیسز میں سے 13 افراد ایسے تھے جن کا ووہان سی فوڈ مارکیٹ سے کسی قسم کا کوئی تعلق یا رابطہ نہیں تھا۔ حتیٰ کہ وہ یا ان کے قریبی افراد میں سے کوئی بھی وہاں نہیں گیا تھا۔ 26 جنوری کو دنیا میں صفِ اوّل کے تحقیقی جریدے ’’سائنس‘‘ کی ویب سائٹ پر کورونا وائرس کی ابتداء سے متعلق ایک خبر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا میں متعدی بیماریوں کے ماہر ڈینیئل لیوسی کے تاثرات میں واضح کردیا کہ جنوبی چین کے شہر ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ نوول کرونا وائرس کی جائے پیدائش نہیں۔

اس حوالے سے مستند شواہد تو کیا، تھوڑے سے شواہد بھی موجود نہیں۔‘‘ ان کا خیال ہے کہ اگر اس وائرس کو ایسی ہی کسی جگہ سے جنم لینا تھا تو اس سے زیادہ موافق مقامات کئی اور جگہوں پر موجود ہیں۔ چین کے ممتاز سائنسدان ڑونگ نانشن نے بھی حال ہی میں نشاندہی کی تھی کہ یہ وبا ء پہلے چین میں ظاہر ضرور ہوئی تھی، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کی ابتدا چین میں ہوئی ہو۔ کچھ دن پہلے کینیڈا کے تھنک ٹینک ’’گلوبل ریسرچ‘‘ کی ویب سائٹ پر لیری رومانوف کا ایک مضمون شائع ہوا۔ مضمون کے مطابق چین، اٹلی اور ایران کے متاثر افراد میں پائے جانے والے وائرس کی ساخت مختلف ہے۔ مضمون میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مغربی میڈیا کی طرف سے چین پر زیادہ توجہ دینے کے باعث بہت سارے لوگوں کا ابتدائی خیال یہ تھا کہ ناول کورونا وائرس چین سے دوسرے ممالک میں منتقل ہوا تھا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ مفروضہ غلط ثابت ہورہا ہے۔

26 تاریخ کو دنیا کے ایک اور موقر علمی جریدے ’’سیل‘‘ نے شنگھائی، فوڈن یونیورسٹی سے وابستہ پبلک ہیلتھ کلینیکل سینٹر کے پروفیسر ڑانگ یونگ زن اور سڈنی یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیکل سائنسز کے پروفیسر ایڈورڈ ہومز کا مشترکہ تصنیف کردہ ایک مضمون شائع کیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دسمبر 2019 ء میں آبادی میں ’’کرپٹک ٹرانسمیشن‘‘ کے مرحلے سے پہلے ناول وائرس میں کچھ اہم تغیرات ہوئے جنہوں نے اسے اتنا طاقتور بنادیا۔ اس وقت سائنسدان تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر حقائق کی تلاش میں سرگرم عمل ہیں۔ وائرس کے خلاف بہتر تحقیق کے لئے اب ان کیسز پر زیاہ سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے جن کا براہ راست چین سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً کیلیفورنیا میں سامنے آنے والے کیسز میں مریضوں نے ایک طویل عرصے سے کبھی بھی اپنے علاقے سے باہر سفر اختیار نہیں کیا تھا۔ اسی طرح ایران میں تشخیص ہونے والے دو مریض ایسے ہیں جو نہ تو کبھی چین گئے اور نہ ہی انہوں نے ایسے لوگوں کے ساتھ ملاقات کی جو چین گئے تھے۔ جاپان کا ایک متاثرہ شخص ایسا ہے جو نہ چین گیا اور نہ ہی اس نے ماضی قریب میں کوئی سفر اختیار کیا۔

یہ بھی کہاجارہاہے اس وائرس کی ابتدا اٹلی کے ایک غیر معروف علاقہ کرونا سے ہوئی جس کی مناسبت سے اس کو کرونا وائرس کا نام دیدیا گیا بہرحال بی بی سی اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ برطانیہ میں ناول کورونا وائرس کا پہلا کیس 31 جنوری کو سامنے آیا، لیکن وسط جنوری میں برطانیہ کی سسیکس کاؤنٹی میں ایک ایسا کنبہ موجود تھا جو ناول کورونا وائرس کا شکار ہوا۔ اس خاندان کے افراد کبھی کسی چینی سے رابطے میں نہیں آئے، دسمبر 2019 میں ان کی ملاقات چند امریکیوں سے ہوئی تھی۔پھربھی اس کا جواب کون دے گا کہ کرونا وائرس کہاں سے آیا؟ اس حوالے سے سائنسی انداز سے سوچنے اور سائنسی طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے قطع نظر کہ وائرس کی ابتداء کہاں سے ہوئی؟ اسے کسی نسل، رنگ یا علاقے سے منسوب نہ کریں۔ یہی عالمی اتفاق رائے اور انسانی ضمیر کی متفقہ آواز ہے۔ WHO نے کو ایک عالمی وبا قرار دیدیا اب تو دنیا کے مختلف ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آشوب چشم کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے فوراً دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

امریکن اکیڈمی آف اوفتھلمولوجی کا کہنا ہے کہ کسی شخص میں آشوب چشم ہونا کرونا وائرس کا اشارہ ہوسکتا ہے، اس سے قبل بھی چند پورٹس میں کہا گیا تھا کہ آشوب چشم کا عارضہ کووڈ 19 کی علامت ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں واشنگٹن کی ایک نے بتایا تھا کہ اس نے کرونا وائرس کے بزرگ مریضوں میں آشوب چشم یاآنکھوں کی سرخی دیکھی۔ کیونکہکرونا وائرس آنکھوں کے راستے جسم میں داخل ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے اس سے بچنے کے لیے ناک، منہ اور آنکھوں کو نہ چھونے کی احتیاطی تجویز دی ہے۔ بظاہرکرونا کا زور ٹوٹ رہاہے لیکن عیدالاضحی میں پھر سماجی میل جول بڑھنے سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں لیکن اس کے خاتمہ بارے کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی ۔

برٹش ایسوسی ایشن آف اوٹرہینولرینگولوجی نے کہا ہے کہ اگرآپ کی ذائقے اور سونگھنے کی حس کم یا ختم ہو گئی ہے تو غالب امکان ہے کہ آپ کے جسم میں کرونا وائرس پہنچ چکا ہے۔ اس لئے ٹیسٹ کروانے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ ماہرین نے خبردارکیاہے کہ سونگھنے کی صلاحیت یا زبان سے ذائقہ ختم ہونے کے بعد کسی بھی وقت متاثرہ شخص کو بخار اور کھانسی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں یہ کرونا بھی ہوسکتاہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com