اللہ کریم کی حکمت - فائزہ حقی

آیا صوفیہ لبنانی زبان کا لفظ ہے ،جس کے معنی ہیں "الٰہی حکمت"۔ یہ عمارت قسطنطین العظیم کے زمانے میں بنی تھی جو 360؏ میں قسطنطینوس دوئم کے دور میں مکمل ہوئ۔اس عمارت کا ماضی کی دو عظیم سلطنتوں عثمانی اور بزنطینی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس عمارت کو عیسائیوں ہی کی ایک بغاوتی تحریک کے دوران آگ لگا کر تباہ کردیا گیا ۔جسے 415؏ میں تھیوڈوروس دوئم نے دوبارہ تعمیر کرکے عیسائیوں کی عبادت کیلۓ ایک بار پھر کھول دیا گیا ۔

تاہم بدقسمتی سے 532؏میں دوبارہ ایک بغاوتی تحریک اٹھی اور مشتعل عیسائیوں ہی نے ایک نار پھر اپنے اس دلکش عبادت خانے کو آگ لگا کر نذر آتش کردیا ۔لہٰذا بزنطینی حکمران جسٹنین نے 532؏میں اسے تیسری مرتبہ تعمیر کیا یہ کام 537؏ میں مکمل ہوا۔ اسلامی اور عیسائ طرز تعمیر کے حسین امتزاج کے طور پر آیا صوفیہ 916 برس تک آرتھوڈکس گرجا گھر کی حیثیت سے قائم رہا۔29 مئ 1453؏کو عثمانی سلطان محمد الثانی المعروف سلطان فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا۔استنبول فتح کرنے کے بعد سلطان فاتح کو آیا صوفیہ کی خوبصورتی نے بہت متاثر کیا لیکن انہوں نے غیر مسلموں کی طرح فاتح ہونے کی وجہ سے اس حسین وجمیل عمارت پر قبضہ بالجبر نہیں کیا بلکہ اسے اقلیتوں سے خریدنے کا فیصلہ کیا ۔کیونکہ عیسائیت میں مذہبی عبادت خانوں کی خریدوفروخت کہ مکمل آزادی ہے چنانچہ آرتھوڈکس کے ذمہداروں کو اچھی قیمت کی پیشکش کی گئ جسے انہوں نے قبول کرلیا اور یوں سلطان فاتح اس تاریخی عمارت کے مالک ہوگۓ۔

سلطان نے یہ عمارت اپنے ذاتی پیسوں سے خریدی جبکہ اس عظیم الشان فاتح نے اپنے آپ کو ایک عام خریدار کے طور پر متعارف کرایا ۔عمارت خریدنے کے بعد ایک وقف ٹرسٹ قائم کرکے اس کے حوالے کردیا اور پھر اس شاندار عمارت کا جو رتبہ بنتا تھا۔وہ اسے دیا یعنی اس حسن تعمیر کے شاہکار کومسجد میں تبدیل کردیا۔اس کے حسن میں مزید چار میناروں کا اضافہ کرکے باقی عمارت کو اپنی اصلی حالت میں چھوڑ دیا اور یوں یہ پرکشش عمارت 481 برس تک مسجد کے طور پر اپنی زیب وزینت بڑھاتی رہی۔1934؏ میں مصطفےٰکمال اتاترک نے اپنی شیطانی عیاری کا ثبوت باہم پہنچاتے ہوۓ اپنی وزرا کونسل کی قرارداد کے ذریعےاس مسجد کو نام نہاد انسانیت کے نام پر وقف کرنے کا اعلان کرکے سلطان فاتح کی اللہ کے نام کی گئ ایک عظیم الشان قربانی کو میوزیم میں تبدیل کردیا ۔چالاکی یہ دکھائ کہ مسجد کا احترام برقرار رکھنے کا دکھاوا کرتے ہوۓ اس عمارت کو اپنی عیاری سے میوزیم کا نام دے کر محفوظ کرنے کی کوشش کی مگر ۔۔۔۔اللہ صاحب اپنی چلنے پر جب آتے ہیں تو طاغوت اپنی ساری چوکڑیاں بھول جاتا ہے ۔

اپنے کچھ خاص لوگوں کو مزید اپنے سے قریب کرنے کیلۓ اللہ رب العزت انکو اپنے کام کیلۓ استعمال کرتے ہیں سو عثمان یوکسل ترکی کا وہ مرد جری بہادر شاعر تھا جس نے سب سے پہلے آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کا مطالبہ کیا جس کی پاداش میں اسے پھانسی کا پھندا چوم لینا پڑا ۔آیا صوفیہ مسجد پر قربان ہونے والا یہ پہلاشخص تھا جسے صرف اس مطالبے پر 1983؏میں سزاۓ موت دےدی گئ۔پھانسی سے قبل اس عظیم شخصیت نےآیا صوفیہ مسجد کو مخاطب کرکےاپنے پردرد اشعار میں اس عظیم عمارت کو تسلی دی کہ "اے عظیم عبادت گاہ! تو پریشان نہ ہو،ایک نہ ایک دن سلطان فاتح کے بیٹے تجھے دوبارہ مسجد بنائیں گے اور تیرے فرش کو سجدوں سےاوربتیرے درودیوار کو تکبیر کی صداؤں سے آباد کریں گے"27 برس بعد عثمان کا یہ خواب پورا ہوا اور 10 جولائ 2020؏…کو آیا صوفیہ کو ماجد بنانے کی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد اپنی تقریر میں صدر اردوان نے یہی اشعار دہراۓ۔

انکا کہنا ہے کہ آیا صوفیہ کے دروازے مقامی وغیر ملکی ،مسلم اور غیر مسلم کیلۓ کھلے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ"انسانوں کا ورثہ آیا صوفیہ اپنی نئ حیثیت کے ساتھ ہر کسی سے بغلگیر ہونے،کہیںزیادہ مخلصانہ ماحول کیساتھ اپنے وجود کو جاری رکھے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ24 جولائ 2020؏بروز جمعہ،نماز جمعہ کے ساتھ86 سال بعد انشاءاللہ العزیزآیا صوفیہ کا عبادت کیلۓکھولنے کی منصوبہ بندی کی گئ ہے۔ سب سے درخواست ہے کہ اس نیک مقصد میں دعاؤں کی شکل میں اپنا حصہ ڈالۓ ۔کہ اللہ رب العزت اس مقصد کو پوری دنیا میں کامیابی عطا فرماۓ اور ہمیں بھی اسلام کی ترویج میں سب کا معاون بنادے۔آمین ثمہ آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com