روح کی روشنی - منزہ سحر

جب پہلی دفع لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو ایسا لگا تھا کہ کچھ ہی وقت کے لیے ہو رہا ہے زیادہ سے زیادہ ایک مہینے کے لیے ہی ہوگا۔ صورتحال کی خرابی کے ساتھ ساتھ یہ بڑھتا ہی گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے گھر میں تین مہینے گزر گۓ۔ شروع میں تو اتنا پتا نہیں چلا بہت اچھے سے دن گزرتے رہے لیکن اب یہ دن گزر نہیں رہے تھے، اب ان دنوں میں جیا نہیں جا رہا تھا۔ دل کے حالات کچھ یوں تھے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں چھپ جاۓ۔

ہر چیز کو کچھ وقت کے لیے روک دے۔ روز مرہ میں کیے جانے والے کام بھی قدرے متاثر ہونے لگے تھے۔ اور حال یہ ہوگیا تھا کہ سب کچھ چھوڑ دیا تھا، کسی سے کوئی بات نہیں کرنی۔ اس سے ہوا یہ کہ دل مزید اداس ہوتا گیا اور تنہائیوں کے سمندر میں غوطہ کھاتا گیا۔ ایک دفع غوطہ کھا لینے کا لطف آ جاۓ تو واپسی قدرے مشکل ہو جاتی ہے۔ جو چیزیں کرنا چھوڑ دی تھیں مثلاً سوشل میڈیا کا استعمال کچھ اون لائن کلاسز بھی جاری تھی أن کا بھی ناقہ۔ اور گھر کے کاموں میں بھی ڈنڈی ماری گئ تھی۔ ان چیزوں کو نا کرنے کے باعث سستی مزید بڑھ گئ تھی۔ شب و روز کا پتا ہی نہیں لگتا تھا کہ کب صبح اور رات۔

انسان کی فطرت میں ہے کہ بہت سارا کام کرنے کے بعد أسے ایک دماغی اور جسمانی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یا بہت عرصہ ایک ہی طرح سے رہنے کے بعد أسے کچھ تبدیلی چاہیے ہوتی ہے۔ اور ہر انسان کا اس تک پہنچنے کا طریقہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کوئی کتاب پڑھتا ہے، کوئی سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے، کوئی باہر سیر تفریح کو نکل جاتا ہے،(جبکہ اس وقت ہم سب سے زیادہ اس چیز کو یاد کر رہے ہیں، اس کی کمی واقعی محسوس ہو رہی ہے) کوئی کھیل لیتا ہے، کوئی فیملی کے ساتھ وقت گزار لیتا ہے، اور کوئی سو جاتا ہے، کوئی موسیقی سنتا ہے، یا تلاوت سنتا ہے اور بہت سے لوگ اپنے پسندیدہ شخصیات کو بھی سنتے ہیں۔ اور کچھ اپنے خیالی پلاؤ کے مزے اڑا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان سب کے بعد بھی ہم اتنا ڈاؤن کیوں فیل کرتے ہیں؟

اپنے پسند کے کام کرنے کے بعد بھی اتنی مایوسی اور بے چینی کیوں ہوتی ہے؟ ہمارے پوٹینشل میں فرق کیوں نہیں آتا؟ ہم وقفہ لینے کے بعد بھی أسے اپنے طریقے سے گزار لینے کے بعد بھی اچھا فیل یا تازہ دم کیوں نہیں ہوتے؟.ہمیں یہی لگ رہا ہوتا ہے کہ شاید ہمیں بریک چاہیے، شاید ہمیں باہر نکلنا ہے کیونکہ ہم بہت عادی تھے نکلنے کے، یا ہمیں کسی انٹرٹینمنٹ کی ضرورت ہے۔ دراصلہم ڈاؤن ڈاؤن سا تب محسوس کرتے ہیں جب ہماری سول (روح) کی بیٹری بالکل زیرو ہوتی ہے۔ اور ہم أسے چارج کرنے کی بھی پوری کوشش کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ چارج ہوتی ہے پر اچانک سے بیٹری کم ہو جاتی ہے۔ ایسے سمجھیں کہ آپکے پاس انفینکس کمپنی کا موبائل فون ہے اور آپ أسے چارج کر رہے ہیں نوکیا کے چارجر سے۔ موبائل چارج تو ہو رہا ہے ساٹھ فیصد ہو بھی گیا ہے لیکن جیسے ہی چارجر ہٹا کر آپ موبائل استعمال کرنے لگتے ہیں تو بیٹری بہت تھوڑی سی دیر کے بعد پانچ فیصد ہو جاتی ہے۔ اور موبائل گرم بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے موبائل کو اس کے چارجر سے ہی چارج کرتے تو آپکا موبائل کافی دیر تک آپکے لیے فائدہ مند ہوتا۔

اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے اندر ایک روشنی رکھی ہے۔ اور وہ روشنی ہماری روح ہے۔ اور یہ روح کہاں سے آئی ہے؟ آسمان سے. تو اس کی ضرورت بھی آسمان سے آئی روشنی پوری کرے گی۔جو چیز جس چیز سے بنی ہوتی ہے أس کی ضرورت بھی وہی چیز پوری کرتی جس سے وہ بنی ہے۔ جیسے انسان مٹی سے بنا ہے تو اس کی ضروریات جیسے پھل، سبزیاں وغیرہ جو ہمیں مٹی سے ہی ملتے ہیں۔ اسی سے بنے جسم کو توانائی بخش رہی ہیں۔ دل اگر جذبات سے بنا ہے تو اس کی ضرورت بھی جذبات پورے کر رہے ہیں جو لوگوں کے ذریعے سے پورے ہوتے ہیں۔ ہم بہت سست، مایوس، چڑچڑے، بیزار تب ہی ہوتے ہیں جب ہمارے اندر کی روشنی ٹمٹمانے لگتی ہے، روح کی بیٹری کم ہو رہی ہوتی ہے۔ ہماری روح اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے آئی ہے اسے چارج بھی وہی روشنی کرے گی جو آسمان سے نازل ہوئی۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں "فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ النُّوۡرِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلۡنَا۔ پس ایمان لاؤ اللّٰہ پر اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اور اس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے۔"

ہماری روح کی مدھم ہوتی روشنی کو صرف قرآن ذکر الہٰی ہی ریچارج کرسکتے ہیں۔ہم جب دنیا سے اکتاتے ہیں بیزار ہوتے ہیں تو خود کو (لغویات) یعنی وہ چیزیں جو نا دنیا میں فائدے کی ہیں نا آخرت میں۔ خود کو ان چیزوں میں مشغول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پر اس سے بیٹری لائف بدتر سے بدترین ہو جاتی ہے۔ اس مشکل سے نجات صرف اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر میں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے اندر ایک توازن قائم کیا ہے۔ یہ جو ہمارے ایموشنز(فجور) اچانک بڑھ جاتے ہیں اور اچانک کم ہو جاتے ہیں یعنی کبھی کسی پر بہت غصہ، بہت چڑچڑاہٹ، بہت نفرت کبھی بہت پیار، بہت خوشی، بہت رنج یہ سب فطرتاً ہمارے اندر ہیں اسے کنٹرول اور توازن میں رکھنے کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں تقوی عطا کیا ہے۔ ایموشنز تو فطرت میں ہیں لیکن انھیں سنبھالنے کے لیے تقوی بھی موجود ہے جو صرف اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر سے، أس کی روشن کتاب سے، أس کی پیاری سی عبادت سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ فجور اور تقویٰ یہ زندگی کی گاڑی میں بریک اور ایکسریلیٹر ہیں ان میں سے ایک کی بھی خرابی سفر میں دشواری پیدا کر سکتی ہے اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے ان میں توازن رکھا ہے یہ برابر ہیں۔ اور انھیں مستقل برابر رکھنے کے لیے ہمیں اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر سے، قرآن نماز سے جڑنا ہوگا کہ اصل دلی سکون و اطمینان تو صرف اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر میں ہے۔

قرآن جو آپکو ہمیشہ چارج کرے گا اسے مزید بوسٹ اپ نماز کر دے گی۔ دن میں ہمیں پانچ بار موقع ملتا ہے کہ اپنی بیٹری کو بوسٹ اپ کرلیں۔ ان مواقعوں کے درمیان جو چارجنگ استعمال ہوئی ہوتی ہے ہم أسے دوبارا بھر لیتے ہیں۔نماز قرآن پڑھتے ہوۓ یہ نیت بھی رکھیں کہ آپ کو اپنی سول (روح) کو چارج بھی کرنا ہے، آپکو پوٹینشل لینا ہے جو آپ نے اگلی نماز کے وقت تک استعمال کرنا ہے۔ پھر آپ دیکھیے گا کہ کیسے بوسٹ اپ ہوں گے۔ احساسات بالکل الگ ہی طرح کے ہوں گے۔ کیونکہ پوٹینشل اور ہمت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دی گئ ہوگی، اللّٰہ تعالیٰ کی چیز سے لی گئی ہوگی۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ آپ سے مخاطب ہیں اور نماز میں آپ أن سے۔نماز سرگوشی ہے آپکے اور آپکے رب کے درمیان اس ملاقات کو خوبصورت بنانے کی کوشش کریں، اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ یہی موقع ہے اپنی روح کو پوری طرح سے سنوارنے کا کہ جب وہ اپنے رب کے پاس پہنچے تو أس کی روشنی ہلکی نا ہو، بلکہ وہ ایک خوبصورت سفید موتی کی طرح چمک رہی ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com