غزل - نسیمہ ابوبکر

غذچشمۂ حق سے تشنہ جگر کو تر کر دے

میرے خدا میری منزل قریب تر کردے

کوئی ہے جو اندھیرے لے کر آن پہنچا ہے

ذرا کوئی میرے سورج کو باخبر کردے

دھڑکتے دل کی تمنائیں کیسی بت گر ہیں

جبینِ شوق کو اپنا ہی سنگِ در کر دے

رگ و پے میں تھکن سی اترتی جاتی ہے

جھلستے بھاگتے اس دن کو مختصر کر دے

چہرے پہ ہے ہنسی مگر سینہ ہے داغدار

بدن میں رہ کے سلگنا بھی اب ہنر کر دے

میرے خیال کا رقصِ شرر سلامت رہے

ہر اک مقام کو اب حق کی رہ گزر کر دے

میرے گفتار سے مہکیں ہزارں صدیاں

میری دعاؤں کو؀شرمندۂ اثر کر دے

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com