علینہ کی موت کا ذمہ دار کون ہوتا؟ - ثناء ہاشمی

پاکستان میں رہتے ہوئے اس ملک کے قوانین کو ماننا اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب میں یہ سنتی ہوں کہ اس پر کیا سزا ہوگی؟ آج بھی اسی طرح کی تکلیف میں ہوں۔ پچھلے دنوں ایک گروپ پر ایک ٹک ٹاک ویڈیو کسی نے شیئر کی۔ میں نے کلک کرکے دیکھی، تو ایک لڑکی کے اسٹائل پر ایک گانا بیک گراونڈ میں چل رہا تھا، لیکن جس تناظر میں وہ تھا وہ کم از کم میں نہیں لکھ سکتی، نا میں ایسا لکھنا چاہتی ہوں۔

ہم نے تو ہمیشہ اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ اگر کوئی نابینا ہے، کوئی اپائج ہے، یا کوئی کسی بھی ظاہری کمی کا شکار ہے، اسے کبھی اس کی کمی کے ساتھ نا پکارا جائے نا اس کی تضحیک کی جائے، لیکن یہاں تو علینہ کو کیا کیا نہیں کہا گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ علینا نے خودکشی کرنے کا ارادہ کرلیا۔وہ مر جاتی تو کون ذمہ دار ہوتا؟

کوئی نہیں، ایک چھوٹی سی خبر لگتی، چند گھنٹے چلتی اور بس۔ لیکن حقیقت تک پہنچنے کی کوئی کوشش نا کرتا۔ معاشرے کے اس رویے کو کوئی نہیں سوچتا جو نا جانے کتنی علینائیں روز سہتی ہیں۔ ”تم موٹی ہو، تم کالی ہو، تم چھوٹی ہو، تم لمبی ہو، تم ایسی کیوں ہو اور تم ویسی کیوں نہیں“۔ ہر قدم، ہر بار ہر کسی کو جج کرنا زندگی کا اہم مشغلہ بن چکا ہے۔

ابھی چند روز پہلے کی بات ہے۔ ایک خاتون ایک نوعمر لڑکے سے کہہ رہی تھی تم چائے نہیں پیتے پھر بھی کالے ہو۔ مطلب ہم جو کہتے ہیں کیا کبھی سوچتے بھی ہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اس کا اثر کیا ہوگا؟ یا بس جو منہ میں آئے گا، کہہ دیں گے، کیونکہ نا زبان پر نا بیان پر کسی چیز پر قابو نہیں۔

میں بہت کچھ لکھ سکتی ہوں کہہ سکتی ہوں، لیکن مجھے افسوس یہ کہ آئین پاکستان میں جو حد بندیاں ہیں، اس سب کے باوجود ہم ہر چیز سے بے خوف ہوکر، ہر غلط عمل اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ قانون تو ہے لیکن عملداری نہیں۔ دو شادیوں کو روکنے کا قانون، عورتوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کو روکنے کا قانون، ورک پلیس ہراسمنٹ کا قانون۔۔۔ یہ سب بہت اچھے قوانین ہیں اور ہمیں ان کی ضرورت ہے، لیکن میں ان کے عملدرآمد کی خواہشمند ہوں۔ انسانی حقوق کی وزیر محترمہ شیریں مزاری صاحبہ سے میری درخواست کہ برائے مہربانی اس پر قانونی سازی کریں، کیونکہ جب خواجہ آصف نے آپ کو تضحیک آمیز الفاظ سے پکارا تھا، تو اس پر انہوں نے معافی مانگی تھی۔ مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی۔

میری محترمہ شیری رحمن سے درخواست ہے جب پہلی بار خواتین کا بل آپ اسمبلی میں لائی تھیں، میں نے آپ کو اپنے شو پر بلواکر بہت شکریہ ادا کیا تھا اور آپ نے اس بات کا ارادہ کیا تھا کہ ہم بہتر اور سخت قوانین بنائیں گے، تو آج بھی اس کی ضرورت ہے۔

براہ مہربانی لوگوں پر جملے کسنے، ان کی ظاہر پر نکتہ چینی کو قانون کی گرفت میں لائیں۔ اگر علینہ خودکشی کرلیتی تو کیا ہوتا؟ کون شرمندہ ہوتا، کون پوچھتا۔ باڈی شیمنگ، یعنی معاشرہ گورے کالے، لمبے چھوٹے اور موٹے دبلے ہونے کے ترازو میں انسانوں کو تولے، یہ کونسا معاشرہ ہے اور کون لوگ ہیں یہ؟ کہاں سے آئے ہیں؟ امریکا میں مظاہرے ہوں تو دیکھو کیا بہترین معاشرہ ہے، کیسے آواز بلند کی اور اگر آج پاکستانی معاشرے میں کوئی اس پر احتجاج کرے تو کہہ دیں گے فارن فنڈنگ ہے۔

یہ لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اللہ کا خوف کریں۔ ہر عورت یا مرد اپنی مرضی کے مطابق اپنے خدوخال نہیں بناتا، یہ پرودرگار کی عطا ہے۔ آپ اپنی زبان کی خطاؤں سے، کسی کے دل کو چھلنی نا کریں اور ایوان میں اگر اس بار قانون سازی ہوجائے تو بہت اچھا، بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل اس پر سزا تجویز کردے، اور اس قانون کی عملداری کو یقینی بنائے۔ ورنہ یہاں روز علینہ گھٹ گھٹ کر ایسی جیتی رہے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com