کا نپور سے سوپور تک - ش م احمد

گزشتہ دنوں بدنام زماں دہشت گرد وکاس دُوبے کا منصوبہ بندانکاؤنٹر کر کے بالآخر اُس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔ چھ دن تک سارا فسانہ پُر اسراریت کے پردے میں چھپا تھا۔ بتایا جاتاہے کہ دُوبے کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ اُس نے مدھیہ پردیش کے شہراُجین میں مہاکالی مندر جاکر خود سپردگی کی تھی ۔

شاید خیال وگمان تھا کہ اُس کے خلاف ا یک ڈی ایس پی سمیت آٹھ پولیس اہل کاروں کے قتل کا جرم عدالتی کارروائی کے بستے میں اُسی طرح ٹھنڈا پڑ جائے گا جیسے اُن نامی گرامی مجرموں کے ساتھ لازماً کیاجاتا ہے جن کے سر پر نیتاؤں کا ہاتھ ہو یا جن کے سنگین جرائم سیاست کے خُم خانوں کے رہین ِ منت ہوں۔ مبصرین کے نقطہ ٔ نظر سے دُوبے کا فلمی سٹائل مسالہ دار خاتمہ اس لئے ناگزیر تھا کیونکہ اس کا زندہ رہنا اُن بہت سارے نیتاؤں اور پولیس عہدیداروں کو بے نقاب کر سکتا تھا جن کی سرپرستی میں اور جن کے سہارے اُس نے اپنی زندگی کو جرموں اور گناہوں کا مجموعہ بناڈالا تھا۔ بہر حال کانپور میں دُوبے انکاؤنٹر پر میڈیا اور سیاست کی گلیاروں میں سب لوگ متفق الرائے ہیں کہ یہ تحقیق طلب معاملہ ہے، فرضی مڈبھیڑ ہے، پولیس تھیوری میں اتنے جھول ہیں کہ کوئی عقل کا اندھا بھی اسے جنیون ماننے سے گریزاں ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

اس کے برعکس سوپور کشمیر میں بھی ایک تحقیق طلب خون ہوا ، ایک المیہ نے جنم لیا جس کے مرکزی کردار بشیر احمد خان شہادت کی خونی قبا پہن گئے، مگر نہ جانے میڈیا کی نیند اس جانکاہ سانحہ پر کیوں نہ اُڑ ی ؟ سیاست کے ایوانوں میں اس پرکوئی ہلچل کیوں نہ مچی؟ سوپور میں ۳۰ جون کی صبح کو کیا ہوا؟ صبح اپنے وقت پر طلوع ہوئی ، ابھی سانجھ سویرا تھا، زیادہ تر لوگ گھروں کی حصار میں تھے ، کاروبار ِ زندگی بھی مدہم تھا، یکایک شمالی کشمیر کے اس ہنگامہ خیز قصبہ کے ماڈل ٹاؤن میںایک بڑے ارتعاش سے پوراعلاقہ لرز اُٹھا۔ پلک جھپکتے ہی سکوتِ صبح کا سماںغارت ہوا۔ چاروں طرف فائرنگ کا سماعت شکن شور سنا گیا ، قدرتی طور لوگ سہم گئے، گھبراہٹ نے دھڑکنیں بڑھا دیں، تشویش کی لہریں ،فکر مندی کی موجیں ہر شخص کو نیم جان کر گئیں۔ گرچہ فورسز اور بندوق برداروں کی اچانک مڈبھیڑ ہونا کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا، عام کشمیری ایسی خون ریزیوں سے تین دہائیوں سے مانوسیت رکھتے ہیں مگر کسی بستی میں مسلح جھڑپ ہونا وہاں رہ بس رہے لوگوں کے واسطے ہمیشہ ایک ہی پیغام لاتی ہے کہ اب کسی کی خیر نہیں۔

وادیٔ کشمیر کی کسی بستی ،بازار ، شہر یا دیہات میں فو رسز اور ملی ٹینٹوں کے بیچ ہر جھڑپ اپنے پیچھے ہلاکتوں اور تباہ کاریوں کی ایک بھیانک کہانی ضرور چھوڑ تی ہے ۔ ویسے بھی دو طرفہ گولی باری چاہے سرحد پر ہو یا کسی گاؤں محلے میں ، یہ ہر حال میں عوام الناس کے لئے شامتیں اور قیامتیں ہی لاتی ہے ۔
وکاس دُوبے کو جس طرح اپنے انجام کا ودر دور تک کوئی سان گمان نہ تھا ، اسی طرح ماڈل ٹاؤن سوپور کے شہری زیادہ سے زیادہ یہ قیاس کر سکتے تھے کہ دو مدمقابل بندوقوں والوں کا جانی نقصان ہوگا مگر یہ پیش بینی ان کے حد ِگمان سے ماوراء تھی کہ مسلح جھڑپ میں اُن کے گھر آنگن میں ایک ایسا المیہ وقوع پذیر ہوگا جس سے انسانیت کا کلیجہ پھٹ جائے، آدمیت کی چیخیں نکلیں ، آنسوؤں کا سیل ِرواں اُمڈ آئے ، غم والم اور سوگواریت کی سیاہی چھا جائے ، مگر چشم ِ فلک نے یہاں صبح قریب سات بجے ایک درد انگیز کہانی،ایک الم ناک منظر ، ایک ناقابل ِیقین المیہ اشک باری کے عالم میں رقم ہوتے دیکھا ۔

میڈیائی تفصیلات کے مطابق بستی میں عسکریت پسندوں نے ایک مقامی مسجد کے اندرسے فورسز کی گشتی پارٹی پر گھات لگاکر حملہ کیا ۔ حملے میں سنٹرل ریزو پولیس کا ایک اہل کار موقع ٔ وارادت پر ہلاک ہوا ، جب کہ تین اہل کار زخمی ہوئے ۔ جھڑپ جاری تھی کہ بسُوئے اتفاق جائے وقوعہ سے مصطفیٰ آباد ایچ ایم ٹی سری نگر کے بشیر احمد خان نامی ایک ۶۵ سالہ ٹھیکیدار کا گزر ہو ا ، وہ اپنے کسی نجی کام سے کہیں جارہے تھے ‘ خود گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے مگر الل ٹپ اُن کے سفرِ حیات کا رُخ شہر ِ خموشاں کی طرف ہمیشہ کے لئے مڑگیا ۔ اُن کے ہمراہ فرنٹ سیٹ پر اُن کا تین سالہ پوتا بھی تھا۔ بشیر احمد کے بارے میں سرکاری طور دعویٰ کیا گیا کہ مو صوف کراس فائرنگ کی نذر ہو کر بر سر موقع ابدی نیند سو گئے ۔ یہ خون ریزجھڑپ شاید ابھی جاری تھی کہ اس سے جڑیں خبریں اور تصویریں میڈیا اور سوشل میڈیا کے کاندھوںپر برقی سفر طے کر کے پورے عالم میں پہنچ گئیں،اہل ِ عالم کو پلک جھپکتے ہی پتہ چلاکہ سوپور میں کیا نئی قیامت بپا ہوئی ۔

شہیدبشیر احمد خان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ ہوتا کہ ماڈل ٹاؤن سوپور اُن کی حیاتِ مستعار کا آخری پڑاؤ ہوگا ۔ انہیں متعدد گولیاں لگیں اور شہادت پاکر دنیا چھوڑ گئے۔ سر کاری طور یہ کہا گیا کہ ماڈل ٹاؤن سوپور میں سی آرپی ایف کی گشتی پارٹی پر جنگجوؤں نے اچانک دھاوا بولا، حملے میں سی آر پی ایف کاایک اہل کار کام آیا ، تین وردی پوش مضروب ہوئے۔ گشتی پارٹی نے جوابی کارروائی کے لئے پوزیشن سنبھالی ، دوطرفہ فائرنگ شروع ہوئی، اس کی زد میں آکر ایک سوئیلین بھی جان بحق ہوا ۔ ٹی وی چنلوں پر جھڑپ کے تعلق سے یہ بات نمایاں طور اُجاگر کی گئی کہ زبردست فائرنگ کے باوجود نیم فوجی جوانوں نے جان کی پرواہ نہ کرکے تین برس کے معصوم بچے کو بچا لیا ، جو انسانیت کی ایک اعلیٰ مثال ہے مگر مارے گئے شہری کے اہل ِخانہ نے سانحہ کے بارے میں سرکاری موقف کومسترد کر تے ہوئے فورسز پر الزام عائد کیا کہ بشیر احمد خان صاحب کو گاڑی سے اُتار گیا اور پھر اُن کے سینے میں گولیاں پیوست کی گئیں۔

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس الزام کی سختی سے تردید کر کے نیم فوجی سی آر پی ایف کو سوئیلین ہلاکت سے بری الذمہ قراردیا۔ اپنے ردعمل میں نیشنل کانفرنس اور اپنی پارٹی وغیرہ سیاسی جماعتوں نے سوپور سانحہ کی بابت گھسی پٹی روایت کی گردان کر تے ہوئے ایک جی انتظامیہ سے اس واقعے کی تحقیقات کر نے کا مطالبہ کیا جس کا کوئی نتیجہ تادم ِ تحریر برآمد نہ ہوا۔ آج تک کشمیر میں ایسے درجنوں سانحات کی سرکاری انکوائریاں بٹھائی گئیں مگر نہ کبھی اُن کی رپورٹیں منظر عام پر لائی گئیں اور نہ کسی مجرم کی نشاندہی کر کے اسے عدالت کے کٹہرے سے کوئی سزاسنائی گئی ؎

اذیت مصیبت ملامت بلائیں

ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

بظاہر سوپورالمیے کا نفس ِمضمون اتنا ہی کچھ ہے، لیکن اسے جو چیز حساس دل انسانوں کے زاویہ ٔ نگاہ سے انسانیت کے منہ پر کرارہ طمانچہ بناتی ہے ، وہ شہید بشیر احمد کے معصوم پوتے کی وہ دلخراش تصویریں ہیں جنہیں کسی نامعلوم شخص نے کھینچ کرسوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ ان تصاویر نے کشمیری عوام کو اُسی طرح خون کے آنسو رُلا دیا جیسے کئی سال قبل شام کے اُس معصوم مہاجر بچے کی ساحل ِسمندر پراوندھے منہ پڑی لاش سے عالم ِعرب اشک بار ہوا تھا، یہ تصویر شامی مہاجرین کی اَن کہی بپتا کا دائمی استعارہ بن گئی ہے ۔ بہر حال سوپور جھڑپ میں بچنے و الے تین سالہ کشمیر ی بچے کی منہ بولتی تصویریں دکھاتی ہیں کہ اِدھر گولیوں سے چھلنی ا س کے دادا کی بے گوروکفن لاش سڑک پر دراز ہے ، اُدھر یہ پھول چہرہ پوتا اپنے مرے ہوئے دادا کی چھاتی پر بیٹھاہے، شاید اس کو گہری نیند سے جگانے کے جتن کررہاہے ۔ رنج وغم اس بچے کے رواںرواںسے جھلک رہاہے۔

یہ نہیںجانتا کہ اس کی معصوم دنیا لمحاتی کھیل میں لٹ گئی ہے۔ کم سن بچہ اپنے دادا کی ابدی جدائی کی حقیقت سے بھی ناآشنا ہے، موت کیا ہے ، زندگی کیاہے، یہ باریکیاں بھی پلے اس کے نہیں پڑ سکتیں ۔ بس یہ سرزمین ِکشمیر کی طرح صرف ایک سہماہوابچہ ہے جو خوف کے عالم میں لہو لہو منظر دیکھ کر بھی خون آشامی کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہے ، تھر تھر کانپ رہاہے ، بھیڑ میں تنہا ہے، بے دست وپا ہے۔ ایسے عالم میںجو اس کو سینے سے لگاکر سہلاتا ، اس کا درد وکرب کم کر تا، وہ زمین پر بے حس وحرکت پڑا ہے۔ اس ناقابل ِ یقین خونی منظر سے نڈھال بچے کی ہچکیاں اور سسکیاں بند کر نے کے لئے پولیس اُسے چاکلیٹ اور ٹافیوں سے بہلاتی ہے مگر بچہ دادا کے غم میں خشک آنسو بہاتا جارہا ہے۔

وادی ٔ کشمیر کے بارے میں بھولے سے کبھی بھی یہ دل خوش کن خبر نہیں آتی کہ آج یہاں کوئی ناخوش گوار واقعہ رونما نہ ہوا ۔ ارباب ِ سیاست اور اہل ِسلطنت جو چاہیں دعوے کریں مگر عملی دنیا کی ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ کشمیر اور امن مسلسل اجتماعِ ضدین بنے ہیں۔ یہاں روز مسلح جھڑپیں اورآتش وآہن کی برساتیں نئی زخم زخم کہانیوں کو جنم دیتی ہیں ، یہاں لاشیں گرتی ہیں ، یہاں جنازے اُٹھتے ہیں ، یہاںماتم اور مرثیے ہوتے ہیں، یہاںنالہ وفغان ،آہ وبکا ، چیخ وپکار ایک عام چیز بنی ہوئی ہے ۔دنیا میں تمام خطہ ہائے مخاصمت کی حقیقت ہوبہو یہی ہوتی ہے جو کبھی سوپور جیسے المیوں کا روپ دھارن کرجاتی ہے اور کبھی کھٹوعہ کے آصفہ کی دلدوز کہانی کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

تصویر کا ایک رُخ یہ بتاتا ہے کہ گزشتہ تیس سال سے وادی ٔ گلپوش خون تشنہ حالات سے بتمام وکمال گزر رہی ہے۔ عام کشمیری روز ان المیوں کاسامناکر تے ہیں اور یہ ناقابل ِتصور قیامتیں ان کی معمولاتِ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ لوگوں میں ناگفتہ بہ حالات دیکھنے ، سننے اور سہنے کی عادت سی پڑگئی ہے ۔ تین دہائیوں سے کشمیری عوام انہی کے درمیان ایک غیر یقینی زندگی جیتے ہوئے شادی غمی سمیت تعلیمی ، معاشی اورسماجی مشاغل سر انجام دیتے رہے ہیں ۔ تصویر کا دوسرا رُخ یہ بتاتا ہے کہ یہاں کی بالا دست سیاسی اور اقتداری قوتیں ماہ وسال سے جنت بے نظیر میں لامتناہی خوں بار سلسلہ روکنے اور وادی میںامن کی بہاریں لوٹانے کے بلند بانگ دعوے کرتی ر ہیں ، مثلاً افسپا کو واپس لینے کے قول وقرار ہوئے، تعمیر وترقی اور خوش حالی کے وعدے کئے گئے ، نت نئے فارمولے اور تجر بات کے دفاتر کھولے گئے اوران سب بہلاؤں کے درمیان تاریخ نے کئی کروٹیں بدلیں اور بہت ساری چیزوں کو بنتے بگڑ تے دیکھا مگر جو چیز اسے دیکھنے کی حسرت رہی ، وہ مکمل اور پائیدار امن ہے ۔

یہ آج تک یہاںکبھی قائم نہ ہوا، بلکہ قیام ِ امن ایک خواب وسراب بنا ہوا ہے۔۔۔ تاریخ کی ان کروٹوں کے بیچ اہل کشمیر نے کیا کیا نہ دیکھا، سنا اور پایا۔۔۔ گریٹر آٹونومی کا وعدہ ، واجپائی کی لاہور بس یاترا ، انسانیت،کشمیریت اورجمہوریت کا پُرفریب نعرہ ، نوازشریف کا امن اعلامیہ، مشرف کا چار نکاتی فارمولہ، نصر اللہ خان جمالی کی جنگ بندی ، سہ رُکنی مصالحتی کمیٹی کاقیام، منموہن سنگھ کی گول میز کانفرنسیں، آٹھ ورکنگ گروپوں کی تشکیل، عسکریت کی کمرتوڑنے کے لئے نوٹ بندی ،’’ گولی سے نہ گالی سے کشمیر مسئلے کاحل کشمیری گلے لگانے میں‘‘ جیسا جاذب ِ نظر نعرہ، دفعہ ۳۷۰ کی تنسیخ، غیر ریاستی باشندوں میں ڈومسائل اسناد کی تقسیم وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تاریخ کی کانوںنے ہربار سر بر آوردہ لوگوں سے یہ دعوے دل کے کانوں سے سنے کہ اب بس کشمیر میں امن واَمان کی ہریالیاں ہوں گی ‘ تعمیرو ترقی کی پھلواڑیاں مہکیں گی مگر وائے ناکامی نہ نامساعدحالات کا محور آج تک بدلا، نہ امن وآشتی اور نارملسی کاسورج کبھی طلوع ہوا۔اس کے برعکس سلسلہ ٔ روز وشب کی گردش میں لگاتار خون ریزیاں کشمیر یوںکا مقدر بنی ہوئی ہیں۔

آج تک ِلیل ونہار کی اس آتشیں گردش میں کشمیر کی تین دہائیاں بھسم ہو گئیں ، لاتعداد پیروجوان، خواتین ، بچے ، فورسز اہل کار، پولیس والے ابدی نیند سوگئے ، تباہیاں نوشتہ ٔ دیوار بن گئیں ، آتش زنیاں اور آبرو ریزیاں اتنی کہ جیسے یہ انسانیت کے خلاف جرائم ہی نہیں، عقوبت خانے اور زندان آباد ہوئے ، تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں ، معاشی سرگرمیاں مفقود ہوئیں ، بے روزگاری کے نئے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔امر واقع یہ ہے کہ بے انتہا خون خرابہ اور بربادیوں کے باوجود آج کی تاریخ میں کشمیر میں امن جاگتی آنکھ کا سپنا کہلائے گا اور کوئی کشمیری یقین اور وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اگلا لمحہ اُس کی زندگی میں کس عنوان سے نیا بھونچال ثابت ہو گا اور کون سی نئی بربادیاں ا س کی تختی ٔ تقدیر میںرقم ہوںگی ۔

یہ سلسلہ بلا ناغہ وادی کے یمین ویسارمیں یکساں طور اپنے خونی پنجہ گاڑے ہوئے ہے۔ چناںچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاںشمالی کشمیر میں پیش آمدہ زیر بحث المیہ ایک ۶۵برس کے معزز شہری کو نگل گیا، وہیں جنوبی کشمیر کے قصبہ بجبہاڑہ میں پیش آئے جگر سوز سانحہ میں ایک آٹھ سالہ بچہ مبینہ طورکراس فائرنگ میں آکر شہادت کا جام پی گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر میں امن اور انصاف کا سورج طلوع ہونا آخری کشمیری کے زندہ درگور ہونے تک موخر ر ہے گا یا کوئی ایسا کوئی ٹھوس لائحہ عمل اب ترتیب پائے گا جو امن اورانصاف کا پرچم بن کربہشت ِارضی میں چہار جانب لہرائے ؟ کسی کے پاس اس کاجواب ہے ؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com