ماؤں بہنوں کی سودا بازو شرم کرو - سجاداحمدشاہ کاظمی

میرا معاشرہ، سب سے گندا معاشرہ، ایک ایسا معاشرہ جہاں غیرت کے نام پر انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ تو کیا جاتا ہے، مگر کسی میں غیرت نام کی کوئی شے پائی تک نہیں جاتی۔ کمزور، بے بس، مجبور کو ڈرایا جاتا ہے، دھمکایا جاتا ہے، دبایا جاتا ہے اور کمزور کا حق کھا لیا جاتا ہے۔ طاقتور کے سامنے لوگ بھیگی بلی بن جاتے ہیں، آنکھ اٹھانے کی ہمت کر سکتے ہیں نا ہی اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے کا ہنر رکھتے ہیں۔

میں کسی خاندان یا شخص کے بارے یہ نہیں کہہ رہا، اوور آل معاشرے کی حالت کی بات کر رہا ہوں، اور اسلئے کر رہا ہوں کہ میں نے اس معاشرے میں کئی نوجوانوں کی زندگیاں گندگی کی نذر ہوتے دیکھی ہوئی ہیں۔ اچھے بھلے، عقلمند و باشعور نوجوانوں کو میرا معاشرہ ایک تو ٹھکراتا ہے دوسرا اپنی غلطیوں اور بیغیرتیوں کو چھپانے کے لئے بدنام بھی کرتا ہے۔

ایک بار پھر واضع کر دوں کے کسی کے ساتھ بیتے واقعہ کے ساتھ موافقت محض اتفاق سمجھا جائے، کیوں کے قلم کی نوک جدھر گھوم چکی ہے وہ معاملا انتہائی حساس ہے اور میرے ناانصاف معاشرے جیسے کسی معاشرے میں ایسے معاملات اور بھی زیادہ حساس ہوا کرتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ کہ ایک تو لوگ چوری کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور اوپر سینہ زوری ان جاہل لوگوں کا شعار، اللّٰہ معاف کرے۔

اب آئیں اصل المیہ کی طرف۔
ہمارے ہاں روایتی خاندانی نظام اگرچہ رفتہ رفتہ بکھرتا جا رہا ہے مگر فلحال کسی حد تک مضبوط بھی ہے۔ اس نظام کی جہاں بہت ساری خوبیاں قابل ذکر ہیں وہیں اس خاندانی نظام کی خامیوں کو بھی نذرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہی خامیوں میں سے ایک خامی جو زمانہ حال میں بام عروج پر ہے، وہ بھیانک نتائج رکھتی ہے۔ زمانہ حال میں وہ بھیانک خامی عروج کی بلندیوں کو محض اسلئے چھو رہی ہے کہ گھروں میں زنانہ راج نے اپنے تسلط کو مضبوط تر بنا لیا ہے۔

زنانان زمانہ کا اب یہ وطیرہ ہے کہ پہلے سر جوڑتی ہیں، پھر میل ملاپ کا تجزیہ کرتی ہیں اور خاندان میں کسی لڑکی کا رشتہ کسی رشتہ دار لڑکے کے ساتھ طے کروانے کی ٹھان لیتی ہیں۔ معاملات طے ہونے کے بعد کچھ عرصہ خوب دعوتیں کھائی ، کھلائی جاتی ہیں اسکے بعد ان زنانان زمانہ کی آپس میں کچھ معمولی معمولی خلشیں بڑھنے لگتی ہیں، معاملا بڑھتا ہے تو یہ راج کمہاریاں پھر رشتے توڑنے اور پھر سے جوڑنے کے لئے اپنے غلاموں (خاوندوں) کی خدمات حاصل کرتی ہیں ۔

یہ جاننے کے باوجود کہ خاندانی نظام کے ہوتے ہوئے معاشرہ اس عمل (پہلے جوڑ ، پھر توڑ ) کے سنگین خلاف روایات کا عامل ہے۔ رشتہ طے ہو جانے کے بعد لڑکے اور اسکے خاندان والوں کے لئے لڑکی عزت ، غیرت اور حمیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اور یہی معاشرہ اس لڑکی کو کسی دوسری جگہ بیانے کو قطعاً قبول نہیں کرتا، کسی صورت بہتر عمل نہیں کہتا یا اس معاشرے میں ایسا کرنا بھی بیغیرتی اور اس عمل پر راضی رہ جانا بھی بیغیرتی تصور کیا جاتا ہے۔

ایک طرف خاندانی نظام ، روایات اور زمانے کا رواج اسے قبول نہیں کرتا تو دوسری طرف مذہبی روایات اور شریعت اسلامیہ بھی ایجاب و قبول کو مکمل نکاح کا درجہ دیکر طے شدہ رشتے سے منسلک (لڑکی اور لڑکے) کو قانونی و شرعی ’’میاں بیوی‘‘ ڈکلیئر کرتی ہے۔ لیکن لوگ سوچتے تک نہیں جب جی چاہتا ہے ہاں کر کے کھاتے پیتے ہیں اور جب دانہ پانی بند ہو جائے تو نا کر کے معاشرے کو آلودہ کرنے کے لئے مضر ہو جاتے ہیں۔

اسطرح کے معاملات اب چونکہ عام ہو چکے ہیں۔ اسلئے اس مسلاء کی نشاندھی اور اس حوالے سے معاشرے کی اصلاح ضروری ہے۔ جاننا چاہئے ان لوگوں کو کہ رشتے طے کرتے وقت خوب سوچ وچار کے بعد ہاں یا ناں کا فیصلا کیا جاتا ہے۔ اور اگر ہاں کر دی جائے تو گویا نکاح مکمل ہو جاتا ہے اور پھر باقائدہ ایجاب و قبول مکمل نکاح ہے اور نکاح کے اوپر نکاح کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔

وہ مرد جو گھریلو خواتین کی غلامی میں گرفتار ہیں وہ بھی ایسے معاملات میں اپنی عقل کا استعمال نہیں کرتے اور یوں معاشرے کے اندر فسادات اور قتل غارت کی جڑیں مضبوط ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہی لوگ جو ایک طرف غیر شرعی عمل کر کے بیغیرتی پر مضر رہتے ہیں، غیرت کے نام پہ قتل ہو بھی جاتے ہیں اور قتل کر بھی دیتے ہیں۔ البتہ ضرورت ہے اس امر کی کہ ان ماؤں بہنوں کے سوداگروں کے ضمیر پہ دستک دیکر انہیں سمجھایا جائے کہ ماؤں بہنوں کو بھیڑ بکریاں سمجھنے سے گریز کریں اور ان بیغیرتیوں سے باز رہ کر معاشرے کو پرسکون رہنے دیں ۔۔۔۔۔۔ سارے لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com