نیکی کے ثمرات - سلمان رضا

نیکی کے ثمرات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔۔۔ یہ جاننے کے لئے ایک صاحب کا قصہ سنئے۔ بتاتے ہیں:"ہم نے اپنے والد محترم، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، کو ایک عمل کرتے دیکھا۔ خاندان میں سے جب کوئی حج عمرہ پر جانے لگتا تو والد محترم حسب استطاعت سو پچاس سعودی ریال جانے والے کو ہدیہ کر دیتے اور کہتے: یہ رقم وہاں خرچ کر لینا۔

والد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ہم نے اس عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں عام رجحان یہی ہے کہ حاجی کی واپسی پر اس کو تحفے تحائف دیئے جاتے ہیں، تو سوچا کیوں نہ حاجی کی روانگی کے وقت ایسا کر دیا جائے۔ سو ہم حسب استطاعت سو پچاس ریال حاجی حاجیانی کے ہاتھ پر رکھ دیتے کہ یہ رقم وہاں خرچ کر لینا۔

ایک بار خاندان کی ایک ایسی شخصیت کے عمرے پر جانے کا علم ہوا جن سے ہمیشہ اک خاص شفقت و محبت ملی۔ ان کا عمرہ پر جانے کا پہلا اتفاق تھا۔ روانگی سے ایک دو روز قبل ہم ان سے ملنے گئے تو دو سو ریال لفافہ میں ڈال کے ان کے ہاتھ پر رکھ دیئے، کہ یہ رقم وہاں خرچ کر لیجیے گا، دعاؤں کی درخواست کی اور واپس چلے آئے۔

بعد میں ان کے ہم سفروں میں سے ایک نے بھید کھولا کہ ان حاجی کے جملہ سفری اخراجات کی ادائیگی تو ہو گئی تھی لیکن۔۔۔ زاد راہ کے لیے کچھ پاس نہ تھا۔ چنانچہ بھنے ہوئے چنے ساتھ لے جائے جا رہے تھے کہ چنے کھا کے زم زم پی کے گزارا کر لیں گے۔

اللہ اللہ! رب کعبہ کے انتظامات دیکھئے۔ اپنے مہمانوں پر انعامات دیکھئے۔ ہمارے دیئے ہوئے دو سو ریال ان کے لیے پندرہ یوم کا مکمل زاد راہ ثابت ہوئے۔ سب تعریف اللہ رب العزت کے لئے ہے کہ جس نے اپنے بندے سے انجانے میں ایک ایسی نیکی کرا دی کہ جس کی وسعت کا کچھ اندازہ نہیں۔"

قارئین کرام!

نیکی کے ثمرات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔۔۔ اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک صاحب کی نیکی اپنی اولاد کے لئے ترغیب کا باعث بنی، جو آگے اللہ کے ایک مہمان کے لئے زاد راہ کا انتظام کرنے کا باعث بنی۔ اور اب اس تحریر کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ نجانے کتنے لوگوں کے لئے ترغیب کا باعث بن جائے۔ تعاونوا علی البر و التقوی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com