فاطمہ جناح‎ - ڈاکٹر محمد عمار رشید

فاطمہ جناح ۳۱ جولائی ۱۸۹۳ کو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ وہ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں ۔انہوںُ نے کلکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹسٹری میں گریجویشن کی ہوئی تھی ۔ ۱۹۰۱ میں والد پونجا جناح کی وفات ہوئی تو بڑے بھائی محمد علی نے باپ بن کر ہر ضرورت کا خیال رکھا اور بہن نے بھی اپنی ساری عمر بھائی کا ساتھ دینے میں بتا دی ۔ان کی اس قربانی پر قوم نے انہیں مادر ملت کے خطاب سے نوازا ۔

انہیں پاکستان بننے سے لے کر قائداعظم کی وفات تک ہر واقعے کی چشمُ دید گواہ ہونے کی حیثیت حاصل ہے ۔ ۹ جولائی ۱۹۶۷ کو ۷۳ سال کی عمر میں مادر ملت راہئ عدمُ روانہ ہوئیں قیام پاکستان کے بعد انکے ساتھ پیش آنے والے واقعات حیران کن بھی ہیں اور افسوسناک بھی ۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد انکی پہلی دو برسیاں آئی اور گزر گئیںُ لیکنُ اس موقع پر فاطمہ جناح کا خطاب براڈ کاسٹ نہ ہوا ۔ حکومت وقت کی شرط تھی مادر ملت کی تقریر کا متن پہلے دکھایا جائے اور جو حصے حکومت چاہے گی سنسر کر دیے جائیں گے ۔ مادر ملت اس بات پر تیار نہ ہوئیں قائد کی تیسری برسی پر مادر ملت کا خطاب براہ راست براڈکاسٹ ہوا ۔ لیکن خطاب کے دوران ٹرانسمیشن روک دی گئی ۔ بعد میں خبر ہوئی جہاں مادر ملت کی تقریر کا حکومت پر تنقید کا حصہ شروع ہوا ٹرانسمیشن روک دی گئی ۔ اخباروں میں خوب شور مچا ۔ ریڈیو پاکستان کا موقف تھا ٹرانسمیشن کی تعطلی اچانک بجلی فیل ہونے کے باعث ہوئی ۔

مادر ملت فاطمہ جناح نے قائد اعظم کی سوانح “my brother “ کے نام سے لکھی ۔ جو ۱۹۵۵ میں شائع ہوئی ۔ شائع ہونے کے فورأ بعد کتاب پر پابندی لگا دی گئی ۔ یہ کتاب دوبارہ قریبأ ۳۲ سال بعد ۱۹۸۷ کو دوبارہ شائع ہوئی ( الزام یہ ہے کہ بہت سے واقعات حذف کر دئیے گے ) ۲ جنوری ۱۹۶۵ کو پاکستان کے پہلے صدارتی انتخابات ہوئے ۔ ایوب کو کنونشن لیگ کی حمائیت حاصلُ تھی جبکہ فاطمہ جناح کو پانچ جماعتی اتحاد کبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کی حمایت حاصل تھی ۔ مادر ملت فاطمہ جناح کی حمائت کرنے والوں میں ولی خان ، اجملُ خٹک ، نوابذادہ نصراللہ خاں ، مولانا مودودی ، مولانا عبدالستار نیازی ، ممتاز دولتانہ ، حبیب جالب خواجہ ناظم الدین ، شورش ، خواجہ صفدر اور شیخ مجیب الرحمن شاملُ تھے جنوبی پنجاب سے خواجہ نظام الدین تونسوی ، پیر نو بہار شاہ ( برادر جاوید ہاشمی ) اور بہاولپور کے قسور گردیزی نے مادر ملت فاطمہ جناح کی بھرپور حمائیت کی ۔ احتشام الحق تھانوی ،مولانا شفیع اکاڑوی اور کوثر نیازی نے بھی کھل کر مادر ملت کی حمائیت کی ۔

ایوب خان کی حمائیت سیاسی ، سماجی اور مذہبی ہر طبقہ کی قابل ذکر شخصیات کر رہی تھیں ۔ پیر آف دیول شریف نے داتا دربار پر مراقبہ کیا ۔ اور اطلاع دی کہُ داتا صاحب نے حکم دیا ہے کہُ ایوب خان کی حمائیت کی جائے ورنہ خدا ناراض ہو جائے گا ۔ پیر موڑھہ شریف ، جہلم کے پیر فضل شاہ ،زکوڑی شریف کے پیر عبالطیف زکوڑی نے بھرپور حمائیت کی ۔ آلو مہار شریف کے فیض الحسن نے فاطمہ جناح سے مادر ملت کا خطاب واپس لینے کی مہم شروع کی ۔ حامد سعید کاظمی کے والد احمد سعید کاظمی ،شاہ جیونہ کے گدی نشین فیصل صالح حیات کے والد پیر سید غوث محمد شاہ ،جمال الدین والی کے مخدوم حسن محمود ( والد احمد محمود ) اور میانوالی قریشیاں کے مخدوم ( خسرو بختیار کے بزرگ ) نے ایوب خاں کی حمائیت کی ۔

دربار موسی پاک شھید کے حامد رضا گیلانی کنونشن لیگ کے پارلیمانی سیکرٹری تھے جلال پور پیر والہ کے غلام عباس بخاری ( والد عاشق بخاری )اور ملتان کے سجاد حسن قریشی والد شاہ محمود قریشی نے ایوب خاں کی بھرپور حمائیت کی ۔بابا شاہ جمال کے گدی نشین علی حسین شاہ نے کہا کہ ایوب خاں پاکستان بارے بابا شاہ جمال کی پیش گوئیاں درست ثابت کر سکتے ہیں ۔ مولانا جمال الدین فرنگی نے ایوب خاں کو ٹیپو سلطان قرار دیا ۔ مفتی محمود اور علامہ رشید ترابی نے بھی ایوب خاں کی حمائیت کی ۔سندھ کی نولکھی گدی ہالہ شریف کے طالب المولی ( والد مخدوم امین فہیم )اور پیر پگاڑو سکندر علی شاہ بھی ایوب خاں کے حامی تھے ۔

محترمہ فاطمہ جناح کی الیکشن کیمپین کی ایک اور خاص بات انقلابی حبیب جالب کی شاعری تھی انکی شاعری ہزاروں ، لاکھوں کے مجمع کا جوش و ولولہ بڑھا دیتی تھی۔ اس پاداش میں انکو جیل ڈال دیا گیا ، قتل کا جھوٹا مقدمہ بنا اور ۲۰۷ کے تحت انکو سات سالُ با مشقت قید کی سزا سنا دی گئی ۔ جب ایوب خان نے دھاندلی زدہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی تو حبیب جالب نے کہا دھاندلی ، دھونس ، دھن سے جیت گیا۔ ظلم پھر مکر و فن سے جیت گیا ! ذوالفقار علی بھٹو ہماری سیاست کا وہ نام ہے جن کے ذکر کے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ نامکمل رہے گی ۔ انکے بڑے کارناموں میں ۱۹۷۳ کا آئین اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا ہیں ۔ لیکن پاکستان کے پہلے صدارتی الیکشن میں مادر ملت فاطمہ جناح کی مخالفت انکے سیاسی کیرئیر کی بڑی غلطیوں میں سے ہے ۔

وہ ایوب خان کی بنائی پارٹی کنونشن لیگ کے جنرل سیکرٹری رہے اور ایوب خان کی صدارتی انتخابی مہم بھی بھرپور چلائی اور اس دوران کچھ سخت اور نامناسب باتیں بھی محترمہ فاطمہ جناح کے متعلق کیں ۔ جن کا دفاع کسی صورت ممکن نہیں ۔ انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران محترمہ فاطمہ جناح کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “ لوگ جس کو مادر ملت کہتے ہیں ، بتایا جائے کہ اس نے اب تک شادی کیوں نہیں کی ، اور شادی کے بغیر قوم کی ماں کیسے بنی ؟” ۔ یہ بھٹو صاحب کے سیاسی کیریر کی ہمیشہ بڑی غلطی تصور ہوتی رہے گی ۔ الیکشن مہمُ کے سلسلے میں جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح مشرقی پاکستان پہنچیں تو انکا فقید المثال استقبال ہوا ۔ پلٹنُ میدان میں ڈھائی لاکھ لوگ موجود تھے ۔ ڈھاکہ سے چٹاگانگ جانے والی ریلُ گاڑی ۲۲ گھنٹے تاخیر سے پہنچی ، لوگوں کا جم غفیر گاڑی کے بار بار رکنے کا باعث بنا ۔صدارتی الیکشن کے نتائج میں صدر ایوب بھاری اکثریت سے کامیاب رہے ۔

لیکن مشرقی پاکستان اور کراچی کے حلقوں سے مادر ملت نے واضح اکثریت حاصل کی ۔ شیخ مجیب الرحمن کے علاقے گوپال گنج میں سو فیصد ووٹ حاصلُ کئے ۔ مزید یہ کہ شیخ مجیب الرحمن انکے نومی نیشن فارم پر تصدیق کنندہ بھی تھے ۔۹ جولائی ۱۹۶۷ کو مادر ملت فاطمہ جناح کا انتقال ہوا ۔ ۹ جولائی کو اتوار کا دن تھا ۸ اور ۹ جولائی کی درمیانی رات محترمہ فاطمہ جناح نے میر لائق علی سابق وزیراعلی حیدر آباد دکن کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی اور ذاتی خدمت گار کے مطابق وہ انتہائی خوش تھیں وہ اپنے معمول کیمطابق رہائش کی پہلی منزل پر اپنے کمرے میں سونے کیلئے چلی گئیں ۔ صبح ۹ بجے اٹھ کر کمروں کی چابیاں ملازم کے حوالے کرنا اور دس بجے ناشتہ کرنا ان کا معمول تھا ۔ دس بجے دھوبی انکے کپڑے بھی لے کر آگیا ۔ سب کو تشویش ہوئی ، انکی ذاتی ملازمہ کو لے کر دروازہ کھولا گیا ۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنے بستر پر مردہ پائی گئیں ۔

انکی وفات کے متعلق بھی ایسی باتیں سامنے آئیں کہ کیا انکی موت غیر طبعی تھی ،کیا انکو قتل کیا گیا ؟ فاطمہ جناح کے قتل سے متعلقہ دو ایف آئی آر درج کی گئیں ۔ ایک ایف آئی آر نواب اختر کی مدعیت میں درج کی گئی جس میں قتل کی وجہ صدارتیُ الیکشن میں حصہ لینا بتایا گیا ( اس ایف آئی آر کا کوئی ریکارڈ نہیں ) ۔ دوسری ایف آئی آر حکومتی مدعیت میں درج کرائی گئی اس میں مادر ملت کے باورچی کو نامزد کیا گیا ۔ کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہ آ سکی ۔حکومت کیمطابق باورچی کو قاتل نامزد کیا گیا جو انکی وفات کے دن سے غائب تھا عدالتی ریکارڈ میں اسکو مفرور قرار دیکر کیس خارج کر دیا گیا۔فاطمہ جناح نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی انہیں مزار قائد کے احاطہ میں اپنے بھائی کے پہلو میں دفنایا جائے ۔ان کے جنازے میں تقریبأ چھ لاکھ لوگ شریک ہوئے ۔

کہا جاتا ہے کہ حکومت وقت انہیں میوہ شاہ قبرستان میں دفنانا چاہتی تھی عوامی ردعملُ کے پیش نظر راتوں رات فیصلہ تبدیل ہوا اور ان کی آخری آرامُگاہ مزار قائد کا احاطہ قرار پائی مادر ملت فاطمہ جناح سے جڑے یہ واقعات پڑھنے والے کو پریشان کر دیتے ہیںُ اور ناخداؤں کی اس ملک اور بانیان پاکستان کے ساتھ کی گئی قہرمانیوں کی یاد دلاتی ہیں حبیب جالب نے الیکشن مہم کے دوران مادر ملت کی شان میں جو کہا وہی سچ ہے

؀ اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے
سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے

دیکھنے کو تو ہزاروں ہیں ، مگر کتنے ہیں !!
ظلم کے آگے کبھی سر نہ جھکانے والے

مر کے بھی مرتے ہیں کب مادر ملت کی طرح
شمع تاریک فضاؤں میں جلانے والے !!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com