آیا صوفیا، ترکی، راقم کا نقطہ نظر - حبیب الرحمن

آیا صوفیا کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ استنبول میں قائم یہ عمارت تقریباً ڈیڑھ ہزار برس پہلے بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً 1000 سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھی۔

1453 میں استنبول جس کا پرانا نام قسطنطنیہ تھا، کی فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ نے اسے مسجد میں تبدیل کردیا تھا اور پھر اس کے بعد یہ تقریباً پونے 500 سال تک مسجد رہی تاہم 1934 میں جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور حکومت میں اسے ایک میوزیم بنا دیا گیا تھا۔ گزشتہ روز تقریباً 86 سال بعد، ترکی کی اعلیٰ عدلیہ کونسل آف اسٹیٹ نے یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل 1500 سال پرانی عمارت کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے آیا صوفیا کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد آیا صوفیا کی میوزیم کی حیثیت ختم ہوگئی اور اس کا کنٹرول ترکی کے محکمہ مذہبی امور نے سنبھال لیا۔

ورلڈ کونسل آف چرچز نے ترکی میں 'آیا صوفیا' کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ 1934 میں مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل ہونے کے بعد سے آیا صوفیا تمام مذاہب اور قوموں کیلئے رواداری کی علامت رہی ہے لیکن اب اِس فیصلے سے تقسیم اور فاصلے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ترکی کے صدر طیب اروان کا یہ فیصلہ باقی دنیا کیلئے کتنا درست اور کتنا غلط ہے، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن ترکی سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان ہیں، ان میں خوشی و مسرت کی ایک لہر ضرور ابھری ہے۔

یہاں ایک بات یہ بھی غور طلب ہے کہ ترک صدر تقریباً 10 سال استنبول کے میئر بھی رہے، اس میئر شپ کے دوران ان کی جانب سے کبھی کوئی ایسی بات سامنے کیوں نہیں آئی کہ آیا صوفیا کو مسجد بننا چاہیے۔ پچھلے بیس برس سے ان کی جماعت ترکی پر بلا وقفہ مسلسل حکمرانی کر رہی ہے۔ اس دوران بھی وہ چاہتے تو یہ کام کر سکتے تھے۔ بظاہر اس نیک کام میں پہلے تاخیر اور پھر اچانک عجلت کے متعلق ان کے مخالفین استنبول میں ان کی مقبولیت میں بتدریج کمی قرار دیتے ہیں جس کے ثبوت میں بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت کی شکست کو پیش کیا جاتا ہے۔

ان کے سیاسی مخالفین ان کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں یا دنیا ایک تاریخی چرچ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کئے جانے کے عمل کو کس نظر سے دیکھتی ہے، یہ لوگ یا دنیا جانے لیکن دنیا بھر میں یہی دیکھا گیا ہے کہ یورپ اور امریکہ ہوں یا ایسے سارے ممالک جو سیکولر یا لبرل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ سب کے سب اپنے دعوؤں میں سخت جھوٹے اور اندر سے اپنے اپنے مذہب و عقیدے میں کمینگی کی حد تک شدید ہوتے ہیں۔ ایسے سارے ممالک مسلمانوں کے ساتھ اسی وقت تک میانہ روی رکھتے ہیں جب تک وہ ان کے چرنوں کو چھوتے رہیں اور سجدہ تسبیح سے آگے کی کوئی بات زبان پر نہ لائیں۔ آیا صوفیا کو مسجد میں کیا تبدیل کردیا گیا، پوری دنیا میں جیسے ایک زلزلہ سا آگیا لیکن جب اسرائیل مسجد اقصیٰ کو آگ لگا رہا تھا یا بھارت بابری مسجد ڈھا رہا تھا تو پوری دنیا ہونٹوں پر تالے ڈالے بیٹھی تھی۔

ان سب منظر و مظاہر، دنیا کی ساری غیر مسلم قوموں، ملحدانہ نظریات کی حامل ریاستوں اور اہل کفر کے امتیازانہ رویوں کے باوجود میں ایک مسلمان ہونے کے ناتے (دوست احباب اختلاف کر سکتے ہیں) کسی مذہبی عبادت گاہ کو کسی دوسری مذہبی عبادت گاہ میں تبدیل کرنے یا اسے کسی اور تصرف میں لانے کا سخت مخالف ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مذہب والے کی اپنے مذہب سے سخت وابستگی ہوا کرتی ہے اور ہر اس رہبر کی طرز فکر وہاں کی اکثرت کو بھلی لگتی ہے جو اس کے مذہب اور عقیدے سے مطابقت رکھتی ہو۔ گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنا ترک مسلمانوں کیلئے اگر خوش کن ہے تو بابری مسجد کی مسماری بھارت کے ہندوؤں کیلئے یقیناً خوشگوار عمل رہا ہوگا۔ جہاں جس کی اکثریت ہوتی ہے وہ اپنی سی ضرور کر گزرتا ہے اور غور کیا جائے تو فی زمانہ اس عمل میں مذہبی نقطہ نظر سے کہیں زیادہ سیاسی مفاد کا حصول پوشیدہ ہوتا ہے۔

بات اکثریت کی بنیاد پر کوئی کام کر گزرنے کی نہیں ہوا کرتی، وسعت نظر رکھنے والے اس کے دورس اثرات پر پہلے سے غور کر لیا کرتے ہیں۔ ہر قسم کے مذہب اور عقیدہ رکھنے والے دنیا کے ہر ملک میں یکساں اکثریت نہیں رکھا کرتے۔ کہیں اتنے ہوتے ہیں جیسے 'آٹا' اور کہیں 'نمک' سے بھی کم۔ حکومتوں کے ہر قسم کے فیصلے پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جس طرح ہندوستان اور پاکستان میں ہونے والے واقعات دونوں ممالک میں رہنے والی اقلیتوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اسی طرح پوری دنیا میں جنم لینے والے 'اکثریتوں' کے واقعات کا اثر دیگر ممالک میں اسی اکثریت کی 'اقلیت' پر ضرور پڑتا ہے لہٰذا ممالک کی سیاسی جماعتوں کو سیاسی مقبولیت یا غیر مقبولیت سے بالا تر ہوکر اپنے ان بھائیوں کے متعلق ضرور سوچ لینا چاہیے جو دنیا کے دیگر ممالک میں نہایت اقلیت میں موجود ہوتے ہیں۔ یہی وہ ساری باتیں ہیں جن کا دینِ اسلام کے علاوہ کسی مذہب میں کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔

اسلام جہالت، کفر اور اللہ سے سرکشی ختم کرنے کیلئے برپا کیا گیا ہے جاہلوں، کافروں اور اللہ سے سرکشوں کی گردنیں مارنے کیلئے نہیں آیا جس کی سب سے اعلیٰ مثال فتح مکہ ہے جس کی فتح میں نہ تو لہو کی ایک بوند زمین پر گری نہ بولہب و بو جہل کے گھر اور ڈیرے مسمار کئے اور نہ ہی ان پر قبضہ کیا گیا۔ لہٰذا وقتی اور ذاتی مفاد کی بجائے اجتمائی مفادات کو پیشِ نظر رکھا جائے، سستی اور وقتی شہرت سے بہر صورت گزیرز کیا جائے تاکہ دنیا میں اسلامی رواداری کا ایک اعلیٰ پیغام پہنچے اور دین کی میانہ روی پوری دنیا کے انسانوں کے سامنے مثال بنائی جا سکے۔ دنیا ہمارے ساتھ کیا کرتی ہے، اس پر نظر نہ رکھی جائے، دین ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے، اس پر عمل کیا جائے تو اس کے بہت دورس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com