ہمارا سید بھی چل بسا (4) - عارف الحق عارف

ہمارے سید کی پوری زندگی قابل رشک تھی۔ ان کا دورِ طالب علمی قابل رشک تھا۔ جمعیت میں آنا اور اس کی نظامت قابل رشک تھی۔ ان کا نماز میں خشوع و خضوع قابل رشک تھا۔ ان کی دعا کے دوران گریہ زاری قابل رشک تھی۔ ان کی شعلہ بیانی قابل رشک تھی۔ ان کی درویشی قابل رشک تھی۔ دنیاوی آلائشوں سے ان کی نفرت قابل رشک تھی۔ان کے تحریکی ساتھیوں سے تعلقات قابل رشک تھے۔ ان کی جمعیت سے محبت قابل رشک تھی۔ ان کا اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک قابل رشک تھاجمعیت ان کی منصب، عہدے، دولت سے بے رغبتی قابل رشک تھی۔ ان کی حق گوئی و بے باکی قابل رشک تھی۔ ان کی جرت رندانہ قابل رشک تھی۔ ان کی امانت اور دیانت قابل رشک تھی۔ ان کا تقوی قابل رشک تھا۔ ان کا اللہ پر بھروسہ اور یقین قابل رشک تھا۔ ان کا اللہ کے حضور عجز وانکساری قابل رشک تھی۔ ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق قابل رشک تھا۔ ان کا سفر آخرت قابل رشک تھااور اب ان کی سنہری یادیں بھی قابل رشک ہیں۔

ان کی زندگی کے ان روشن گوشوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور نہ جانے کب تک لکھا جاتا رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سید صاحب کی عمر کے 79 بر سوں میں سے 60 برس جمعیت اور جماعت اسلامی میں اسلام کے فروغ اور اس کے نفاذ کی جد جہد میں گزرے ہیں۔ اس دوران ان سے رابطہ رکھنے اور فیض پانے والوں کی تعدد لاکھوں میں ہے۔ ان میں بلا شبہ ہزاروں میں وہ لوگ ہوں گے جن سے ان کا ذاتی تعلق رہا اور جن سے ان کی سنہری یادیں وابستہ ہیں۔ وہ ان یادوں کو اپنے اپنے انداز میں قلم بند کررہے ہیں اور اخبارات، جرائد، فیس بک اور ویڈیو کلپس کی شکل میں شیئر کررہے ہیں۔ پوری دنیا میں webinar zoom links کے ذریعہ ان کی شخصیت، ان کی دینی اور تحریکی خدمات اور باہمی تعلقات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ الگ سے جاری ہے۔ ان کی ہر دوست اور تحریکی ساتھی کے ساتھ والہانہ محبت کا انداز الگ الگ تھا جس کو مشکل سے ہی کوئی فراموش کرسکتا ہے۔ کوئی چاہے بھی تو اسے بھول نہیں سکتا۔ ہر شخص اپنے ساتھ پیش آنے والے یاد گار واقعات کو اپنے اپنے طریقے سے احاطہ تحریر میں لارہا ہے۔ اور ہر روز ایک نئی بات سامنے آتی ہے جس سے منور بھائی کی زندگی کا ایک اور درخشاں پہلو سامنے آتا ہے۔

ان سے ہمارے تعلق کا عرصہ 56 برسوں پر محیط ہے اور بیان کرنے کے لیے واقعات کی طویل فہرست موجود ہے، لیکن ہم ان میں صرف ایک دو کا ہی ذکر کریں گے جس سے آپ خود اندازہ لگاسکیں گے کہ ہم جیسے ایک معمولی کارکن اور دوست کے ساتھ اس طویل عرصے میں ان کا کیسا دلی اور قلبی رشتہ رہا ہے۔

ہمارے بڑے بیٹے اعجاز عارف نے 1994ء میں این ای ڈی سے انجینئرنگ کی ڈگری لی اور جب کہیں ملازمت نہ ملی تو ہم نے اسے ایم ایس کے لیے امریکا بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ضروری امتحان GRE پاس کرلیا اور اس کی بنیاد پر اس کا داخلہ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں ہوگیا۔ I-20 آگئی۔ ویزے کے لیے امریکی قونصل خانہ لاہور جانا تھا۔ ہم نے منور بھائی کو آگاہ گیا۔ وہ اس وقت جماعت کے سیکریٹری جنرل تھے اور لاہور میں مقیم تھے۔ ہم نے انہیں صرف یہ کہا کہ اعجاز آپ سے ملنے منصورہ آئے گااور اپنا کام کرنے کے بعد رات کو واپس آجائے گا۔ انہوں نے باتوں باتوں میں فلائٹ نمبر بھی پوچھ لیا۔ اعجاز ویزہ ملنے کے بعد اسی رات واپس کراچی آگیا اور ہم سے پوچھنے لگا کہ آپ نے منور انکل جیسے مصروف شخص کو اتنی تکلیف کیوں دی؟ ہمارے پوچھنے پر اس نے جو تفصیل بتائی، اس نے ہمیں بڑا متاثر کیا کہ جماعت کا اتنا بڑا رہنما جس کا ایک ایک لمحہ تحریکی کاموں میں صرف ہوتا ہے، وہ ہمارے بیٹے کا سارے کام چھوڑ کر اس قدر خیال کرسکتا ہے؟

اعجاز نے بتایا کہ میں لاہور ائیر پورٹ سے باہر آیا اور ٹیکسی کی تلاش میں کھڑا تھا کہ منور انکل کی آواز آئی اعجاز ادھر آؤ۔ میں حیران رہ گیا۔ انہوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا۔ آپ کی خیریت دریافت کی اور منصورہ لے گئے، ناشتہ کرایا۔ کچھ دیر کے بعد وقت مقررہ پر قونصل خانہ پہنچایا اور اصرار کے ساتھ کہا کہ تین گھنٹے بعد آئیں گے، یہاں ہی انتظار کرنا۔ مجھے وہاں سے پک کیا۔ ایک ہوٹل میں کھانا کھلایا اور رات کو ایئر پورٹ بھی چھوڑا۔ وہ بیان کرہا تھا اور ہم ان کی اپنے ساتھ اس محبت بھرے سلوک پرمسرور بھی تھے اور ان کو تکلیف دینے پر شرمندہ بھی۔ آپ ذرا تصور کریں کہ ایسے رویئے اور سلوک کو کیا کوئی فراموش کرسکتا ہے ؟

منور بھائی کو علم ہو گیا تھا کہ اعجاز Los Angles جائے گا کہ اس کی یونیورسٹی وہیں تھی۔ ایک دن ہم منور بھائی سے ملنے ان کے گھر گئے۔ واپس روانہ ہونے لگے تو انہوں نے ہمیں ایک تھیلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو علم ہے، میں کچھ عرصہ پہلے امریکا گیا تھا تو کچھ سکے موجود تھے یہ اعجاز کو دے دیں، اس کے کام آئیں گے۔ ایک دن فون پر ہم سے پوچھا کہ اعجاز کی روانگی کب اور کس فلائٹ سے ہے؟ جو ہم نے بتادی۔ اعجاز پہلی بار اتنی دور پردیس میں جارہا تھا۔ اس لیے ہم نے جمعیت کے دور کے اپنے دو دوستوں کو اطلاع دی تھی کہ وہ ہمارے بیٹے کوایئر پورٹ سے لیں اور یونیورسٹی کے ہاسٹل تک پہنچا دیں۔ ہمارے بیٹے نے وہاں پہنچنے کے بعد ہمیں اطلاع دی کہ جب میں سب مسافروں کے جانے کے بعد ائیر پورٹ سے باہر نکلا تو ہمارے نام کے ایک کاغذی پوسٹر کے ساتھ ایک صاحب کھڑے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ہی اعجاز ہوں تو انہوں نے اپنا نام سلمان شفیق بتایا۔ یہ وہ نام نہیں تھا جن کا آپ نے بتایا تھا۔ میرے پوچھنے پر سلمان نے بتایا کہ مجھے منور چچا نے تمہیں لینے کے لیے بھیجا ہے اور سخت تاکید کی تھی کہ دفتر سے چھٹی لے کر تمہیں ائیر پورٹ سے یونیورسٹی کے ہاسٹل تک پہنچاؤں۔ جب تم نہیں آئے اور سارے مسافر چلے گئے تو میں سخت پریشان ہوا کہ منور چچا کو کیا جواب دوں گا۔ تم اس فلائٹ کے آخری مسافر ہو جو باہر آئے ہو اور مل گئے ہو تو اطمینان ہوا۔

منور بھائی کے اس قدر اہتمام کے ساتھ خیال رکھنے پر اعجاز کے ساتھ ہم بھی حیران تھے۔ ہم نے منور بھائی کو اظہار تشکر کے لیے فون کیا اور کہا کہ آپ نے اتنا تکلف کیوں کیا کہ سلمان کو دفتر سے چھٹی کرنا پڑی تو انہوں نے کہا اعجاز آپ ہی کا نہیں ہمارا بیٹا بھی تو ہے۔ وہ پہلی بار اتنے دور جارہا تھا، اس کی رہنمائی کے لیے کسی کو تو ائیرپورٹ پر موجود ہونا لازمی تھا۔ چونکہ سلمان وہیں موجود تھا، اس لیے اسی کو ہم نے فون پر تاکید کردی تھی۔ اگر وہ نہ ہوتا کسی دوسرے دوست کو کہتے۔ اتفاق سے ہم نے جن دو دوستوں کو ائیرپورٹ جانے کے لیے کہا تھا، ان میں سے ایک ائیرپورٹ تو پہنچا تھا لیکن وہ کافی دیرانتظار کرنے کے بعد واپس چلا گیا۔ دراصل اعجاز کو کسی معمولی بات پر امیگریشن والوں نے روک لیا تھا اور کافی دیر تک اسے بٹھائے رکھا تھا اور اطمینان کرنے کے بعد اس کو جانے کی اجازت دی تھی۔ سلمان شفیق نے اس کے بعد چھو ٹے بھائی کی طرح اس کا خیال رکھا۔ اس کے لیے کچن کے برتن اور پکے پکائے کھانوں کا اہتمام کیا اور وہ اسے پکنکس پر بھی اپنے خاندان کے ساتھ لے جاتا رہا۔ اس طرح کی محبت اور تعلق رکھنے کی کیا کوئی اور مثال ہے جو ہمارے سید نے پیش کی۔ اس سلوک کے بعد ہمارا بیٹا سید منور حسن کا ایسا گرویدہ ہوا کہ اسے ایک ایک بات آج تک یاد ہے۔

سلمان کے چھوٹے بھائی سابق ناظم جمعیت کراچی، ریحان حسن جو آج کل رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ ابلاغیات عامہ کے چیئرمین ہیں،ان دنوں ہمارے ساتھ جنگ ہی میں شعبہ لیزر کام کے سربراہ تھے۔ ان کو پتا چلا کہ ان کے بڑے بھائی سلمان شفیق نے دفتر سے چھٹی لے کر ہمارے بیٹے کو ایئر پورٹ سے لیا اور ہاسٹل چھوڑا تو ہم سے شکوے کے سے انداز میں کہا کہ ”میں بھی بھائی کے پاس Los Angles جا چکا ہوں لیکن وہ مجھے تو لینے ایئرپورٹ نہیں آئے تھے، لیکن آپ کے بیٹے کے لیے سلمان بھائی نے دفتر سے چھٹی کی اور خصوصی اہتمام کیا۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ کے بیٹے کے لیے انہوں نے کس وجہ سے یہ خاص اہتمام کیا؟“ جب ہم نے اسے بتایا کہ سلمان کو آپ کے چچا منور بھائی نے فون کر دیا تھا اور شا ید تاکید کردی ہوگی تو ساری بات ریحان کی سمجھ میں آگئی۔ منور بھائی 1998ء میں دورے پر امریکا گئے اور اس دوران وہ San Jose بھی پہنچے۔ ہمارا بیٹا بھی ان دنوں وہیں تھا۔ اسے معلوم ہوا تو ان سے ملا۔ انہوں نے اس سے بڑی شفقت کا مظاہرہ کیااور جب تک وہاں رہے، وہ ان کے ساتھ ہی رہا۔

منور بھائی جماعت کے مختلف مناصب پر رہے، اور ان سے ہمارا تنظیمی طور پر تعلق ہمیشہ امیر اور مامور کا رہا کہ ہم رکن جمعیت اور جماعت تھے لیکن ہم جب بھی ملتے تو وہ ہم سے اسی پرانے حوالوں سے ملتے اور اس دور کی باتیں کرتے ہوئے بڑے خوش ہوتے اور ان پر ایک عجیب خوشی کی کیفیت طاری ہوجاتی۔ ہمیں کوئی بھی مشکل پیش آتی تو ان ہی سے بے تکلفی کے ساتھ بیان کرتے اور وہ اس کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کر ہی لیتے۔ 2 مئی 1998ء کو ہماری بیٹی ڈاکٹر رابعہ کی شادی طے تھی، ہم نے انہیں دعوت نامہ لاہور بھیجا اور درخواست کی کہ نکاح آپ نے پڑھانا ہے۔ وہ اس وقت جماعت کے سیکریٹری جنرل تھے اور ان کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں لیکن انہوں نے وقت نکال ہی لیا، وہ کراچی آئے، شادی میں شرکت کی، نکاح پڑھایا اور اس موقع پر نکاح اور شادی کے بندھن پر موثر خطاب بھی کیا۔ بڑے بیٹے اعجاز عارف اور بیٹی ڈاکٹر حنا عارف کی شادیوں میں شریک نہ ہوسکے تو تفہیم القرآن کا ڈیلکس ایڈیشن، بطور ہدیہ بھیجوایا۔ جو ان کی ہم سے اور ہمارے بچوں کے ساتھ محبت کا اظہار تھا۔
*
ہم 2012ء میں بچوں کے پاس امریکا آگئے تو بھی ان سے فون پر اکثر رابطہ رہتا تھا۔ ان سے آخری ملاقات 2016ء میں ہوئی۔ ہم ایک ہفتے کے لیے کراچی میں تھے۔ اس وقت پارکنسن کی بیماری کی وجہ سے وہ کافی کمزور تھے، لیکن چند گھنٹوں کے لیے فیڈرل بی ایریا میں اکیڈیمی کے دفتر آتے تھے۔ جہاں وہ اپنی یادداشتیں ریکارڈ کرا رہے تھے۔ وہیں پر ہماری ان سے ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے اسلامک یو کے مشن کے بانی صدر تنظیم واسطی بھی وہیں موجود تھے۔ ان سے بھی کافی عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔ وہ ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے۔ سید تنظیم واسطی نے ہمیں 1963ء میں اردو کالج کا ناظم مقرر کیا تھا۔ اس موقع پر سعید عثمانی، عطا محمد تبسم اور یحییٰ بن ذکریا بھی موجود تھے جو منور بھائی کی یادداشتوں کو ریکارڈنگ کے لیے کم از کم ہفتے کے روز اکیڈیمی آیا کرتے تھے۔ سرفراز اور عامر اشرف اس وقت موجود نہیں تھے جو منور بھائی سے سوال کرنے اور ریکارڈ کرنے والی ٹیم کا باقاعدہ حصہ تھے۔

ہمارا دوسرا بیٹا ڈاکٹر جواد عارف 2018ء میں کراچی گیا اور اس نےمنور بھائی کو ان کے گھر اپنی آمد کی اطلاع کی۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ بیماری کی وجہ سے انہوں نے کہیں بھی آنا جانا بند کر رکھا تھا۔ لیکن ہمارے بیٹے سے کہا کہ کل ایک بجے اکیڈیمی پہنچ جاؤ۔ وہیں ملاقات ہوگی۔ دوسرے دن مقررہ وقت پر دونوں کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیا اور کسی کو بھی اندر آنے سے منع کردیا اور ایک گھنٹے تک اس سے بات چیت اور پرانی یادیں تازہ کرتے رہے، کھانے میں شامل کیا۔ اس نے ان کی اجازت سے بات چیت کو ریکارڈ بھی کیا۔ اس سے ہمارے اور ہمارے سب بچوں کے بارے میں پوچھتے رہے۔ منور بھائی نے اسے ایک ڈائری کے ورق پر اپنے ہاتھ سے ایک رقعہ لکھ کر دیا۔ جس کا متن یہ ہے۔
”بسم اللہ۔ عزیزی جواد عارف۔ خوش آمدید، تم سلامت رہو ہزار برس، ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار۔ اتنی اچھی رائٹنگ، کسی پارکنسن والے کی نہ ملے گی ماشا اللہ / الحمد للّٰہ۔ عارف بھائی کو سلام، بچوں کو پیار۔ منور حسن ۳۰ اگست ۱۸۔

ان کا ہم سے ہی نہیں، ہر ایک کے ساتھ تعلقات کا یہی عالم تھا۔ اسی لیے ان کی موت سے ان سےتعلق رکھنے والے لاکھوں گھرانوں میں صف ماتم بچھی ہے اور ہر ایک انہیں اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کررہا ہے۔ یہی حال ہمارے بچوں کا تھا جب ان کے انتقال کی خبر ملی تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوئے، جیسے ان کا کوئی بہت ہی پیارا عزیز اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہو۔ یہ بات بالکل سچ بھی تھی۔ واقعی ہم سب کا خیال رکھنے والا اس دنیا سے رخصت ہوا تھا۔ بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف جانے (رجوع کرنے) والے ہیں۔
(جاری ہے)

Comments

عارف الحق عارف

عارف الحق عارف

عارف الحق عارف پاکستان میں اردو صحافت کا ایک بڑا نام ہے۔ 1967ء میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا۔ جس سے 2002 تک وابستہ رہے۔ ایڈیٹر اسپیشل اسائنمنٹس کے منصب پر تھے کہ اسی سال جیو ٹی وی شروع ہوا تو اس میں شامل ہوگئے اور 18 سال بعد ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر کے مردم خیز شہر کھوئی رٹہ (وادی بناہ) ضلع کوٹلی سے ہے۔ ان کے کالم اور مضامین، جنگ کے علاوہ ملک کے دوسرے اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com