لاہور کا محسن، سر گنگا رام- خالد مسعود خان

گزرے ہوئے پرسوں یعنی مورخہ دس جولائی کو سر گنگا رام کی 93ویں برسی تھی۔ موجودہ ضلع ننکانہ صاحب کے گائوں مانگٹانوالہ میں 13 اپریل 1851 کو پیدا ہونے والا گنگا رام دس جولائی 1927 کو لندن میں اگلے جہان سدھار گیا۔ اس کی وصیت کے مطابق اس کی آدھی راکھ دریائے گنگا میں بہا دی گئی اور آدھی راکھ لاہور میں دریائے راوی کے قریب واقع اس کی موجودہ سمادھی میں دفن کر دی گئی۔
اپنے مذہبی معاملے سے قطع نظر گنگارام ایک بڑا آدمی تھا‘ بحیثیت انجینئر بھی اور بطور انسان بھی۔ بطور ایک انجینئر بلکہ بطور ایکسیئن آف دی سٹی اس نے موجودہ لاہور کو جو عمارتیں دیں وہ آج بھی لاہور کے ماتھے کا جھومر اور طرز تعمیر کی بنیاد پر اپنی نوعیت کی شاندار اور خوبصورت عمارتیں ہیں۔ لاہور کا جی پی او، عجائب گھر، ایچی سن کالج، میو سکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس)، کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، البرٹ وکٹرونگ میو ہسپتال، لاہور ہائی کورٹ بلڈنگ اور لاہور شہر کے اردگرد (فصیل کے ساتھ ساتھ) تعمیر ہونے والا نکاسی آب کا انتظام‘ جو واسا وغیرہ کے برعکس قریب ساٹھ ستر سال بخیروخوبی چلتا رہا۔ اس نکاسی آب والے نالے کو سینی ٹیشن انجینئرنگ کے جدید تعلیم یافتہ ماہرین اور اس پر قائم تجاوزات برباد نہ کرتیں تو کم از کم برسات میں اندرون لاہور اور اس کے چاروں طرف والی سرکلر روڈ پر ہر بارش کے بعد سیلابی اور تالابی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اس کا سبب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ نہ تو خادم اعلیٰ کو لانگ شوز پہن کر بارش کے پانی میں کھڑا ہونا پڑتا اور نہ ہی ہمارے پیارے عثمان بزدار صاحب کو سرکاری لینڈ کروزر میں تین چار خواتین کو Rescue کرکے اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی زحمت اٹھانا پڑتی۔

قارئین! کیا آج کا یہ کالم میں صرف اور صرف گنگا رام کی بطور سرکاری انجینئر اور پنجاب پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ لاہور شہر کے ایکسیئن کے طور پر بنائی گئی عمارتوں کے باعث لکھ رہا ہوں؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ گنگا رام کی وہ سرکاری ڈیوٹی تھی جو انہوں نے نہایت ہی احسن طریقے سے سرانجام دی۔ میں یہ کالم گنگا رام کے سرکاری فرائض سے ہٹ کر کئے گئے ان فلاحی کاموں کے حوالے سے لکھ رہا ہوں جن کا براہ راست فائدہ مخلوق خدا کو ہوا اور اب تک ہو رہا ہے ۔ گنگارام کی اسی سخاوت اور دریا دلی کے باعث اس وقت کے گورنر پنجاب سر میلکم ہیلے نے گنگارام کے بارے میں ایک جملہ کہا کہ "He won like a hero and gave like a saint" یعنی اس نے کسی ہیرو کی طرح کمایا اور کسی سوامی کی طرح خرچ کیا (میں نے خوفِ فسادِ خلق کے مارے Saint کا ترجمہ سوامی کیا ہے وگرنہ اس کیلئے اس سے کہیں زیادہ مناسب لفظ موجود تھا)۔
گنگا رام نے تب کے تھامسن کالج آف سول انجینئرنگ روڑکی (اترکھنڈ) سے سول انجینئر کی ڈگری حاصل کی۔ 1847ء میں قائم ہونے والا یہ فنی تعلیم کا ایشیا کا دوسرا قدیم ادارہ تھا۔ گزشتہ دنوں مجھے بی بی سی والے رضا علی عابدی کی کتاب ''مجھے سب یاد ہے‘‘ پڑھتے ہوئے اس ادارے کے نام سے آشنائی ہوئی۔ رضا علی عابدی کے والد اسی ادارے سے فارغ التحصیل تھے۔ انتظار حسین کا تعلق بھی اسی قصبے روڑکی سے تھا اور یہ بھی علم ہوا کہ علامہ اقبال کے بڑے بھائی، امراؤ جان ادا والے مرزا ہادی رسوا اور اسماعیل میرٹھی بھی اسی سول انجینئرنگ کالج سے تعلیم یافتہ تھے۔ گنگارام حکومت ہند اور مہاراجہ پٹیالہ کے ہاں ملازمت کرتا رہا لیکن اس کی اصل شخصیت تب سامنے آئی جب وہ قبل از وقت نوکری سے مستعفی ہو کر فلاحی کاموں میں جت گیا۔ اس نے فلاحی کاموں کیلئے سارا پیسہ اپنی جیب سے خرچ کیا۔ یہ پیسہ اس نے سرکاری یا مہاراجہ کی نوکری سے نہیں بلکہ ابتدا میں کاشتکاری سے حاصل کیا۔

گنگا رام نے 1903ء میں سرکاری نوکری چھوڑی اور منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کے قریب پچاس ہزار ایکڑ بے آباد زمین لیز پر لی‘ اس کی آبادکاری شروع کی اورتین سال کے مختصر عرصے میں یہ بیابان ایک سرسبز قطعہ اراضی میں تبدیل کر دیا۔ اس کیلئے اس نے لوئر باری دوآب کینال سے آبپاشی کا نظام قائم کیا اور رینالہ خورد میں اس نہر پر ایک میگاواٹ کاپن بجلی گھر تعمیر کیا۔ اس بجلی سے اپنی ساری زمینوں پر آبپاشی کی غرض سے ٹیوب ویل چلائے۔ یہاں چار عدد ٹربائنیں 1921ء میں نصب کی گئی تھیں اور آج انہیں ایک کم سو سال ہو چکے ہیں۔ چار میں سے تین ٹربانیں اصلی حالت میں چل رہی ہیں اور سال بھر میں قریب دس گیارہ ماہ چلتی رہتی ہیں۔ نہر کے پانی سے چلنے والے چار عدد پنکھا نما Propeller ان ٹربائنوں کو چلاتے تھے۔ کئی سال ہوئے‘ میں وہاں گیا تو ایک پنکھے کے خراب ہونے کے باعث تین ٹربانیں چل رہی تھیں۔ پتا چلا کہ یہ پنکھا کئی برسوں سے مرمت کا منتظر ہے۔ خدا جانے ابھی یہ پنکھا مرمت ہوا ہے یا نہیں؛ تاہم دیگر تین ٹربائنیں آج بھی بجلی فراہم کررہی ہیں۔ اسی طرح گنگارام نے پٹھانکوٹ اور امرتسر کے درمیان ایک پن بجلی گھر لگا کر ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنایا۔ جڑانوالہ میں بچیانہ ریلوے سٹیشن کے قریب گنگا پور نامی گائوں آباد کیا اور وہاں بھی سینکڑوں ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بنائی۔ آبپاشی کیلئے برطانیہ سے بہت بڑی اور وزنی موٹر منگوائی جسے بچیانہ سے گنگاپور لانے کی غرض سے گنگا رام نے ریلوے لائن بچھائی اور اس موٹر کو گھوڑا ٹرین کے ذریعے گنگا پور لایا۔ یہ ٹرین اپنی نوعیت کا ایک عجوبہ تھا جو اسی سال تک چلنے کے بعد بند ہو گئی۔ سنا ہے‘ اب دوبارہ چالو ہو گئی ہے۔ گنگا رام نے منٹگمری، لائلپور اور پٹھانکوٹ میں واقع وسیع اراضی سے اس زمانے میں کروڑوں کمائے اور زیادہ تر فلاحی اور رفاہی کاموں پر خرچ کر دئیے۔

پنجاب کے گورنر میلکم ہیلے کے نام پر اس نے 1927ء میں ہیلے کالج آف کامرس بنایا۔ یہ کامرس کی تعلیم کا ایشیا بھر میں پہلا ادارہ تھا۔ اس کے علاوہ گنگا رام نے لاہور میں گنگا رام گرلز ہائی سکول (موجودہ لاہور کالج فار ویمن) راوی روڈ‘ ادارہ برائے معذوراں، لیڈی میکلیگن ہائی سکول، ہندو بیوگان کا آشرم، لیڈی منیارڈ انڈسٹریل سکول اور سب سے بڑھ کر سر گنگا رام ہسپتال تعمیر کرائے۔ ان سب خیراتی اور رفاہی اداروں کو چلانے کیلئے مال روڈ پر گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ اور گنگا پور گائوں کی اراضی کو وقف کیا۔ اپنے نام سے زیادہ دوسرے ناموں پر اپنے پیسے سے ادارے بنائے۔ ادھر یہ عالم ہے کہ لوگوں کو یہاں سرکاری پیسوں سے بنائے گئے اداروں کے نام خود اپنے بزرگوں اور سیاسی لیڈروں کے نام پر رکھتے ہوئے نہ کوئی شرم محسوس ہوتی ہے‘ نہ کوئی خیال آتا ہے۔ یاد آیا ماڈل ٹائون کا منصوبہ اور ڈیزائن بھی گنگا رام کے زرخیز ذہن کا کمال تھا۔
اپنی ذاتی کمائی سے فلاحی ادارے بنانے والا گنگا رام سرکاری خزانے سے اپنے نام پر ادارے بنوانے والے میاں صاحبان، بھٹو فیملی اور چودھری صاحبان کے ساتھ ساتھ عثمان بزدار صاحب سے لاکھ گنا بڑا آدمی تھا (یاد رہے کہ تحریک انصاف حکومتی وسائل سے حکمرانوں کے ذاتی ناموں پر پروجیکٹس بنانے کی سخت ناقد تھی‘ اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے چار ارب روپے کے پروجیکٹ کا نام اپنے والد سردار فتح محمد بزدار کے نام پر رکھ دیا ہے) آج ہم نے گنگا رام کو بھلا دیا ہے۔ کم از کم ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ راوی روڈ کے علاقے میں گلیوں کے اندر واقع اس کی سمادھی کی مرمت ہی کروا دیں۔ یہ کسی ہندو کی نہیں، لاہور کے محسن کی سمادھی ہے۔ اللہ مجھے کفر کے فتوے سے محفوظ فرمائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com