نسل پرستی اور اسلام - ردا بشیر

وہ حبشی تھا۔ غلام تھا۔ معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔ آقا جو حکم دیتا، بجالاتا۔ ذرا سی کوتاہی ہوتی، تو جسم پر کوڑے برسائے جاتے۔ مارا جاتا، پیٹا جاتا۔ لیکن پھر دامنِ اسلام میں پناہ لی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی لوگوں میں شمار ہونے لگا۔ اذان کے ذریعے لوگوں کو مسجد بلانے کا آغاز ہوا، تو یہ اہم ذمہ داری اسی شخص کے سپرد کی گئی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی انہیں ”میرے سردار“ پکارتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنا داماد بنادیا۔ عرب کے بہت اچھے خاندانوں میں دیگر شادیاں کیں۔

یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے میری مراد کون ہیں؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔ آج بھی جن کا نام لیتے ہوئے ہمارے سر احترام سے جھک جاتے ہیں۔ ایک وہ سیاہ فام تھے، جبکہ دوسری طرف آج کی 21ویں صدی کا ایک واقعہ آپ کو یاد دلاتی ہوں۔ 25 مئی 2020 ایک سیاہ فام جارج فلوئیڈ جس کی عمر 46 کے لگ بھگ تھی۔ ایک سفید فام پولیس والے کے ہاتھوں بے دردی سے مارا گیا۔ جس نے تقریباً 9منٹ تک جارج کی گردن کو گھٹنے سے دبائے رکھا اور وہ معصوم دہائیاں دیتا رہا کہ ”میں سانس نہیں لے پا رہا“ اس پر مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بے بنیاد الزامات بھی عائد کیے گئے۔ پولیس کی بربریت اور متحدہ ریاست امریکا میں اس پر احتجاج ہوا۔

یہ سیاہ وسفید کی انسانی تجارت امریکی سرپرستی میں سترہویں صدی میں پھلنے پھولنے لگی۔ امریکا میں سب سے پہلے آباد ہونے والے ”ریڈ انڈینز“ تھے جو بڑے پرامن طریقے سے زندگیاں بسر کر رہے تھے۔ 1492ء کو کولمبس کا جہاز امریکا کے ساحلوں پر اترا اور بہت سی اقوام کے چوروں، لٹیروں، ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کو امریکا کی شکل میں پناہ گاہ میسر آئی۔ پہلی بار سیاہ فام کی نسل پرستی ”ٹیکا اوک“ کے علاقے میں ہوئی جہاں پر پورا ”اوٹومی“ قبیلہ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یوں علاقوں پر علاقے فتح ہوئے اور قبیلے صفحہ ہستی سے مٹتے رہے۔ آج بھی پورے امریکا میں ”ریڈ انڈینز“ کی 500 سے زیادہ آبادیاں ہیں، جنہیں reservations کہا جاتا ہے۔

سولہویں صدی کا امریکا ”ریڈ انڈینز“ کے قتل عام اور نسل کشی کا امریکا تھا۔ جس کولمبس کو امریکا کا ہیرو بناکر پیش کیا جاتا ہے، اسی کی سر پرستی میں 5لاکھ ریڈ انڈینز کو قتل کیا گیا۔ مقامی آبادی کا قتل اور انسانی تجارت 4 سو سال تک چلتی رہی۔

1661میں پہلا قانون بناجس میں کوئی گورا کالے سے اور کالا گورے سے شادی نہیں کرسکتا اور جو کوئی اس حرکت کا مرتکب ہوا سزا کا حقدار ٹھہرایا جائے گا۔ یہ قانون 21 ریاستوں میں فوراً لاگو ہوا۔ ان بے چارے امریکی سیاہ فام غلاموں کا قتل اور امریکا کے ساحلوں تک کا سفر دردناک اور المناک کہانیوں سے عبارت ہے۔ انہیں بحری جہازوں کے ایسے کیبنوں میں رکھا جاتا جن کی چھت صرف ڈھائی فٹ اونچی ہوتی۔ خوف، بیماری اور گھٹن سے جو مرجاتا، اسے سمندر برد کردیتے۔ 1973ء میں ایک آئین fugitive slave act پاس کیا گیا، جس میں غلام کو بھگانا یا فرار کرنا جرم قرار پایا۔ یہ قانون اس لیے منظور کیا گیا کیونکہ سیاہ فاموں میں بغاوت کی چنگاریاں سلگنے لگی تھیں۔ اس بغاوت کا پہلا علمبردار Nat Turner تھا۔ جس کی ماں ایک افریقی غلام تھی جسے گوروں نے زیادتی کا نشانہ بناڈالا تھا۔

ڈیڑھ سو سال سے سیاہ فام افراد سے نفرت کی آگ امریکی معاشرت، تہذیب اور زندگی کے دیگر معاملات میں مسلسل سلگ رہی ہے۔ چند سال بعد کسی سیاہ فام کی موت کی صورت میں رونما ہوتی رہتی ہے۔ ٹھیک 140سال بعد 75٪ گوری اکثریت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دے کر ایک بار پھر امریکا کو اسی طرح فتح کرلیا جیسے 1492 میں کولمبس کی سربراہی میں فتح کیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس وقت بندوق استعمال ہوئی اور اس دفعہ ووٹ۔

لیکن وقت ایک سا نہیں رہتا۔ ہلکی ہلکی ہوا سلگتی چنگاری کو آگ بناتی ہے اور سب خاکستر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جارج بھی وہی سلگتی چنگاری ثابت ہو رہا ہے۔ خود تو مارا گیا لیکن ایک راستہ دکھا گیا۔ نسل پرستی کو ختم کرنے کا اور سب کو ایک ہونےکا۔ کینیڈا میں بھی نسل پرستی کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ جس میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اچانک شرکت کرکے لوگوں کے دل جیت لیے۔ انہوں نے اس موقع پر گھٹنے زمین پر ٹیکے اور ریلی کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

ایران کے سپریم لیڈر" ٓیت اللہ خمینی کا کہنا ہے کہ سیاہ فام جارج کا قتل دراصل امریکا کا ہولناک اور مکروہ چہرہ ہے۔ خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں جاری مظاہروں میں ”میں سانس نہیں لے پا رہا“ سب لوگوں کا نعرہ بن گیا۔ آج ہم امریکا میں جو کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ ان حقائق کی عکاسی کرتا ہے جو ہمیشہ سے چھپے ہوئے تھے۔ ان گوروں نے افغانستان، عراق، شام، ویتنام اور دوسرے بہت سے ممالک کے ساتھ یہی کیا۔ ان ریلیوں میں موجود مظاہرین کے خلاف حکومتی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن مظاہرین کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ معروف کھلاڑی ”ڈیرن سیمی“ بھی اس قتل پر سخت رنجیدہ دکھائی دیئے اور کہا کہ اب خاموش رہنے کا وقت گزر چکا۔ سیاہ فام عرصے سے ان سب حالات کو برداشت کررہے ہیں۔ اب اور نہیں جارج کے اس غیر انسانی قتل کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔“

تو جناب! یہ انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جنہوں نے بس مرضی کے لوگوں کو تحفظ دینے کا علم اٹھایا ہے۔ فلسطین، کشمیر، شام، برما اور بہت سے ایسے مظلوم جو ان سب کی سفاکیت کا روز نشانہ بن رہے ہیں۔ ارے اس دور جدید کے ٹیکنالوجی یافتہ اور نام کا درد دل رکھنے والو! آؤ تم لوگوں کو 1400 سال پیچھے لے کر چلوں! جب اسلام مکمل ہونے پر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔“

اللہ کی نظروں میں سب برابر ہیں۔ کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں۔ ہمارے ہاں ذات پات کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمارے ہاں کسی کو نیچا یا اعلیٰ و ارفع تصور نہیں کیا جاتا۔ اسلام نے تمام قوموں اور لوگوں کو برابر کہا ہے۔ ہمارا دین تاکید کرتا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو حقیر جان کر اسے تضحیک کا نشانہ نہ بنائے۔ کیا عجب وہ ان سے بہتر ہو۔ ہمارا دین ایک خدائے واحد، خالق کون و مکاں پروردگار عالم پر یقین رکھتا ہے۔ اعلیٰ وہی ہے جو متقی ہو۔ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ انسانوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو۔

آو میں سکھاؤں حقوق جو مجھے میرے رب نے سکھائے۔ میرے عزت اور تکریم والے مذہب نے سکھائے۔ آقائے نامدار نے فرمایا کہ مجھ سے بھی پہلے اور سب سے پہلے کوئی ہے جو جنت میں داخل ہوگا تو محفل رسول اللہ صلی اللہ علیہ میں ہلچل مچی کہ کون ہے وہ خوش قسمت ترین انسان۔ آقائے دو جہاں گویا ہوئے کہ وہ بلال حبشی ہوگا جو میرے اونٹ کی لگاموں کو پکڑے جنت میں پہلا قدم رکھے گا۔

یہ بات پارہ پارہ اور ریزہ ریزہ کرتی ہے تم سب کے بنائے گئے پیمانوں اور ستونوں کو۔ اسے کہتے ہیں برابری۔ انسانی حقوق کے نام لیواو! آئو مذہب اسلام کو اپنا قبلہ بناؤ۔ کیا پتا روز قیامت تم لوگوں کی دادرسی کی جاسکے یا شاید مظلوم جارج اور بہت سے نہتے مارے گئے لوگ تمہارا گریباں نہ پکڑیں۔ شاید یا عین ممکن ہے کہ دوزخ کی آگ تم پر حرام ہوجائے۔ شاید کہ جنت کی ہوائیں تمہیں سکون بخشے، لیکن یہ صرف مہلت تب تک ہے جب تک سانسوں کی ڈور قائم ہے۔ جونہی یہ ٹوٹی، پھر تم جانو اور تمہارے اعمال۔ پھر کوئی شاید نہیں ہوگا۔ پھر عملی کاروائیوں کو عمل میں لایا جائے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com