نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم سود کے فروغ کا سرکاری منصوبہ ،خدارا رک جائیں - محمد عاصم حفیظ

وزیراعظم عمران خان نے سودی قرضوں کے تحت نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کا اعلان کر دیا ہے ۔ مختلف سائز کے مکانوں کے لئے کتنا سود لیا جائے گا خود وزیراعظم نے ریٹ بتائے ہیں ۔ ویسے تو پاکستان میں اب تک روایت رہی ہے کہ بنک بھی لفظ سود استعمال نہیں کرتے " انٹرسٹ " کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن عمران خان نے واضح طور پر سود کا لفظ بھی استعمال کیا ۔

پانچ سات اور دس فیصد عالمی مارکیٹ کے حساب سے انتہائی زیادہ ریٹ ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سکیم کے تحت عالمی ساہو کاروں کا پیسہ بطور قرض دیکر انہیں عوام سے پانچ سات اور دس فیصد جبکہ حکومت سے بھی بڑی شرح منافع دی جائے گی ۔ اس سے ملکی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچے گا ۔ سود کی مد میں کھربوں روپے عالمی بینکاروں کو منتقل ہو جائیں گے ۔۔پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ شرح سود والے ٹاپ ممالک میں شامل ہے ۔دوسری جانب سوال تو یہ بھی ہے کہکیا حکومت بلا سود قرضے نہیں دے سکتی ؟۔ عمران خان فخر سے بتاتے ہیں کہ 1200 ارب روپے کا پیکج کرونا ریلیف کا دیا گیا ۔ لیکن عوامی ضرورت کے اس منصوبے کے لیے صرف سود سے چھٹکارے کا ریلیف تک نہیں دیا جا سکتا ۔؟ احساس پروگرام کے تحت ماہانہ تین ہزار پروگرام کے تحت اربوں روپے دئیے جا رہے ہیں لیکن گھر تعمیر کرنے کے لئے سود کی شرط رکھی گئی ہے ۔

مولانا طارق جمیل علامہ طاہر محمود اشرفی اوریا مقبول جان سمیت کئی علماء وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ وزیراعظم کو قائل کریں کہ سود کے فروغ کےلئے سرکاری وسائل استعمال نہ ہوں ۔ ملکی سطح پر یہ کوئی بہت بڑی رقم بھی نہیں ہے ۔ سود کی حرمت اور احتیاط کے تحت دینی طبقہ اس سکیم سے یکسر آؤٹ ہو جائے گا ۔ یعنی اسے یہ حق مل ہی نہیں سکے گا ۔ یہ وزیراعظم کے ریاست مدینہ کے نعرے کی بھی واضح مخالفت ہے ۔ وہ حرمت رسول اور اسلام فوبیا کی بات کرتے ہیں لیکن " اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ جنگ " کو فروغ دینا مناسب نہیں ۔ احتیاط ضروری ہے ۔ مانا کہ ملکی معیشت سودی بنکاری کے زیر اثر ہے اسے یکدم ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ اس مجبوری کی تو تاویل کی جاتی ہے لیکن نئے منصوبے شروع کرنا ہرگز مناسب نہیں ۔

گزشتہ حکومتوں نے بھی ایسے کئی سودی منصوبے شروع کئے تو انہیں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ۔ بے نظیر نواز شریف سمیت سب کی قرضہ سکیمیں ناکام ہوئیں ۔گھریلو قرضوں کے لئے ہاؤس بلڈنگ فنانسنگ کارپوریشن کا ناکام پراجیکٹ موجود ہے۔ کوئی اس سے سودی قرضہ نہیں لیتا ۔ قانون الہی کہ واضح مخالفت اور فروغ کی کاوش کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔وزیراعظم کو چاہیے کہ سودی نظام کی تبدیلی کے لئے کاوشیں کریں ۔ اس شکنجے سے نکلنے کی کوشش کریں ۔ اگر فوری نکلنا ممکن نہیں تو بھی اس کے فروغ اور نظام سود کے مزید پھیلاؤ کا باعث تو نہ بنیں ۔ دینی ۔ سنجیدہ حلقوں کو چاہیے کہ اس بارے حکومت کو اگاہ کریں تاکہ ہمارا ملک اس لعنت سے پاک ہو سکے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com