اسلام کا تڑکا - عمران سبحانی

تین مختصر واقعات اور پھر اگلی بات

مشرف دور میں ڈاکٹر شاہد مسعود "اینڈ آف ٹائم" نامی پروگرام سے کافی مقبول ہورہا تھا۔ تجسس میں تھوڑی سی تحقیق کی پتہ چلا موصوف تو نہ صرف لال لال والے ہیں بلکہ زمانہ طالب علمی پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پی ایس ایف کی گود میں گزار چکے ہیں۔ ان کے پروگرام دیکھیں تو ان سے بڑا "اسلام پسند" کوئی بھی نظر نہیں آتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اینڈ آف ٹائم ترکی سے تعلق رکھنے والے ہارون یحیی کے پروگراموں کا گھٹیا چربہ تھا۔ مگر پھر بھی ۔۔۔ بندہ ہو لال لال اور باتیں وہ کرے جو اسلام پسندوں کے دل کی ہوں ۔۔۔ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی ناں ۔

شادی کے بعد گھر خواتین ڈائجسٹ آنا شروع ہوا تو عادتا میں نے بھی اس کا مطالعہ شروع کردیا۔ بہت سی ہٹ کہانیاں جن پر بعد میں ڈرامے بھی ٹیلی کاسٹ ہوئے، ٹھیک ٹھاک اسلامی رنگ اور تعلیمات لیے ہوتے۔ بعض پر تو گمان گزرتا کہ فرحت اشتیاق نہیں بلکہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی رائیٹر ہیں۔ایک دن ایک دوست سے پوچھا کہ یار یہ چکر کیا ہے۔ کیا جماعت اسلامی اور مذہبی جماعتوں کا اتنا نفوذ ہوگیا ہے کہ لال لال والے بھی اسلام "چھاپ" رہے ہیں۔وہ ہنسنے لگ پڑا۔ اس نے کہا نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ بات کچھ اور ہے۔۔۔ کیا تم مسجد کے سامنے فلموں اور گانوں کی سی ڈیاں بیچ سکتے ہو؟

اسکے سوال پر غصہ آگیا میں نے کہا یار یہ کیا تمثیل دے رہے ہو؟اس کی بات کے معنی سمجھ کر میں نے کہا کہ یار ویسے پاکستان کے لوگ اتنے بھی اسلامی نہیں۔
وہ کہنے لگا ٹھیک کہتے ہو پیارے مگر ہم لوگ دال کو بھی تڑکا لگا کر کھانے والے لوگ ہیں۔ اور تڑکا لگا کر ہمیں جو الم غلم کھلا دو ہم خوش ہوکر کھا لیں گے۔ بس یہی بات ہے۔ یہ پاکستان ہے یہاں اسلام کا تڑکا بکتا ہے۔ کسی کی جیب مٹن کڑاہی کی اجازت نہیں دیتی مگر تڑکا لگا کر اپنا ٹھرک پورا کرلیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ہم سب اسلام پر پورا عملدرامد کرنے سے کوسوں دور ہیں مگر پھر بھی دل میں اسلام کی محبت ہے اور جو اسلام کا تڑکا لگا دے ہم اس کے پیچھے زندہ باد زندہ باد کہتے ہولیتے ہیں۔ یوں سمجھ لو یہاں اسلام اچھے داموں میں بکتا ہے۔

۱۔ نواز لیگ کے آن اینڈ آف اور مستقل اتحادیجماعت اسلامی، مولانا فضل الرحمان، جمیعت اہلحدیث ساجد میر

۲۔ پیپلز پارٹی کے آن اینڈ آف اتحادی مولانا فضل الرحمان اور علامہ ساجد نقوی (جی ہاں۔۔۔ دونوں بیک وقت)

۳۔ پاکستان تحریک انصاف کے آن اینڈ آف اتحادیجماعت اسلامی اور مولانا سمیع الحق عوامی مفاد حتی کہ کرونا ایپی ڈیمک سے لڑنے پرمنقسم جماعتیں
گزشہ روز مندر کی حمایت میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں پر برستی نظر آئیں یہ جماعتیں الیکشنوں میں اپنے لبرل اور بدمزہ ایجنڈے کو چھپانے کے لیے اسلام کا تڑکا لگاتی ہیں ایک آدھ ریاست مدینہ جیسا نعرہ دے کر ۔۔۔ کسی مذہبی جماعت کو ساتھ ملا کر ۔۔۔ کسی مبلغ سے دعا کرواکر

آخری بات

اب یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ انہیں بدمزہ دال ہی تڑکے لگا لگا کر کھانی ہے یا پھر کبھی اصلی اور خالص مٹن کڑاہی کا پروگرام بھی بنانا ہے۔ فیصلہ عوام کا ۔۔۔ یعنی کہ آپ کا

انت_نگر_کی_انت_سیاست

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com