توبہ،روشنی کی کرن - کرن وسیم

"اللہ پر توبہ قبول کرنے کا حق انہی لوگوں کے لیے ہے جو جہالت کی وجہ سے برا کام کرتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں ان لوگوں کو اللہ معاف کر دیتا ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔"النساء- آیت ۱۷

گناہ سرزد ہوجانےکےبعدبندے کااللہ سے توبہ کرنا اس بات کااظہار ہے کہ وہ اپنے کیئے پر پشیمان ہے..اطاعت و فرمانبرداری کی طرف پلٹنا چاہتا ہے..نادانی یا شیطان و نفس کے وقتی غلبے کے زیر اثر کوئ گناہ ہوا بھی تو جہالت کا پردہ ذہن سے ہٹتے ہی بندہ دوبارہ اپنے رب کی طرف پلٹ آیا..شرمندگی اور خوف کے ملے جلے اثرات کے تحت جو توبہ کی جاتی ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے..بےشک ہمارا رب بہت جلد راضی ہوتا ہے توبہ کرنیوالے سے..مگر رحمت و مغفرت کا یہ معاملہ کسی ایسے بندے کےساتھ نہیں ہوتا جو گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھے بلکہ اللہ کی صفت رحمان و رحیم کی من چاہی تاویل اخذ کرکے گناہ پر اصرار کرتا رہے کہ اللہ رحمان و رحیم سب معاف کردےگا..جب ضمیر مردہ ہوجاتے ہیں تو گناہوں پر دلیری ہی پیدا ہوتی ہے , ایسا شخص بدعملی کی سو توجیہات ڈھونڈ لیتا ہے.

سوچنے کی بات ہے کہ توبہ واستغفار کے کلمات زبان سے کہنے کے باوجود اگر اعمال کی درستگی پر توجہ نہ ہو تو رب کی رحمت کا در کیسے کھلے.جس معاشرے میں گناہ اور اسراف رواج پاجائیں, اچھے برے کا شعور ہی ختم ہوجائے وہاں دو , چار افراد کی انفرادی توبہ کیا معنی رکھتی ہے..جب تک کہ وہ پوری قوم یکسو ہوکر توبہ کی طرف مائل نہ ہو.بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کابھی آج یہی حال ہے..یہاں ہر شخص دوسرے کو گناہگار اور خود کو معصوم سمجھتا ہے..میڈیا پر دکھایا جانیوالا ہر پروگرام برائ اور بد اخلاقی کی ترویج کا باقاعدہ اہتمام کررہا ہوتا ہے مگر مجال ہے کہ دیکھنے والی آنکھوں اور سننے والے کانوں کو کچھ ناگوار گزرتا ہو..اپنے آس پاس اس میڈیائ یلغار کے نمایاں اثرات دیکھتے ہوئے بھی ناگواریت کا کوئ احساس شاید ہی کسی میں جاگتا ہو...یہاں تک کہ لباس, گفتار, رسم ورواج, تقریبات اور گھریلو معاملات بھی اسی رنگ میں رنگتے جارہے ہیں.

احساس زیاں رخصت ہوچکا ...سدھار کی کوشش جب ہی کامیاب ہوتی ہے جب بگاڑ کا احساس اور اس سے بچنے کا شعور زندہ ہو..جس دن یہ شعور اجاگر ہوگیا کہ ہم غلط کو واقعی غلط سمجھنے لگیں وہ دن حقیقی توبہ کا اور سدھار کی طرف پہلا قدم اٹھنے کا دن ہوگا.آئیں اللہ کے غضب میں گھرنے سے پہلے ہی ہم خود اپنے دل میں اور قوم کے افراد میں یہ شعور پیدا کرنے کی جدوجہد کریں کہ ہم کہاں کہاں انفرادی و اجتماعی گناہوں میں ملوث ہیں..توبہ اور اپنے اعمال کی اصلاح کیلیئے حساس ہوجائینگے تو بہت جلد اپنے رب رحمان و رحیم کے فضل و کرم کی چھاؤں میں آجائینگے.. ان شاء اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com