آئین پاکستان - خالد ایم خان

وقت آچکا ہے اب ہمیں ایک زندہ اور باشعور قوم کا ثبوت دیتے ہوئے مستقبل میں ہنگامی بنیادوں پر اہم ترین فیصلے کرنے ہونگے ،ایسے فیصلے جو مستقبل میں اقوام عالم میں پاکستان کو ایک باعزت اور غیرت مند مقام عطا کرسکیں ، اور یہ سب کچھ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے اور پھر سب سے بڑھ کر عالم اسلام کے لئے بہت ضروری اور انتہای اہم ہے ، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم موجودہ نظام کے تحت خود کو اقوام عالم میں باعزت طور پر زندہ رکھ پائیں گے ۔

اور اگر رکھ پائیں گے تو پھر سوچیں کیسے ، کیوں کہ جو نظام حکومت ہمارے ہاں رائج ہے اُس انگریزی نظام نے ہماری عوام کو مایوسی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا،ہم باوجود کوششوں کے بھی آج تک اُس نظام حیات کو نہیں اپنا سکے ،اور وہ نظام حیات جس کی خاطر اس ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ نظام حیات جو کے رہبر عالم ،خاتم النبین حضرت محمد مصطفیﷺ نے عالم اسلام کی بہتری اور بھلائی کی خاطر ہمیں دیا تھا ، جس کا ہر فیصلہ قراٰن وحدیث کی روشنی میں کیا جانتا ہے ۔

ہاں ایک آدھ مرتبہ ضرور پاکستان کی عوام کو دھوکہ دینے کی خاطر قراٰن اور حدیث کی روشنی میں مرتب کئے جانے والے آئین ضرور پیش کئے گئے جن میں اُس وقت کے حکمرانوں نے جانتے بوجھتے کچھ ایسی ٹیکنیکل غلطیاں کیں اور ایسے چور دروازے چھوڑ دئے جن کا استعمال کرتے ہوئے آنے والے حکمرانوں نے اپنے اپنے ذاتی مفادات کے تحت اُن چوردروازوں کا استعمال کرتے ہوئے اُس آئین کی پوری شکل ہی تبدیل کرڈالی اور اب تو اُس آئین میں پیوند لگانے کی بھی جگہ باقی نہیں بچی، اب تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین چوں چوں کے ایک ایسے مربہ کی شکل اختیار کرچکا ہے کہ جس کے تحت آئین کی رو سے عوام کی فلاح کے لئے ،اُن کی حفاظت کے لئے ، اس ملک کی عوام اور اُن کے بچوں کے مستقبل کی خاطر اُٹھائے جانے والے تمام اقدامات سے اب صرف اور صرف حکومت پاکستان کے حکمران اور اُن کے بچے ہی مستفید ہو پائیں گے۔

اس موجودہ گھسے پٹے آئین کے تحت حاصل ہونے والے تمام اختیارات صرف حکمران طبقے ہی کو حاصل ہیں ،اس مُلک میںاُن پر چوری کا کیس بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اُن پر قتل کے مقدمے کا اندراج کیا جاسکتا ہے ، یقین جانیں آپ ان لوگوں کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے ،سب ڈرامہ ہے سب دکھاوا ہے ، جس مُلک میں مُلک کا ایک عام غریب آدمی سالہا سال اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی خاطرمُلکی عدالتوں میں پیشیاں بھگتتا نظر آتا ہے،سالوں تک جیلوں میں بند نظر آتا ہے اُسی مُلک میں مُلکی کرپٹ حکمران طبقہ کہیں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو ڈراتا دھمکاتا نظر آتا ہے تو کہیں آئین میں اپنے زرخرید غلاموں کے ذریعے ترامیم کروانے کے بعدخود کو حاصل ہونے والے جعلی اختیارات کے تحت اعلیٰ عدالتوں میں نہ پیش ہونے کی خاطر اعلیٰ عدالتوں میں استثنٰہ کی درخواستیں دیتا نظر آتا ہے ، بلکہ میں تو یہ کہنے میں بھی بلکل حق بجانب ہوں کہ یہ تمام لوگ اصل میں عدالتوں سے کھیلتے نظر آرہے ہیں ،آئین سے کھیلتے نظر آرہے ہیں ،اس مُلک کی عوام کے مستقبل سے کھیلتے نظر آرہے ہیں ۔

افسوس صد افسوس ،،،، مجھے تو شرم آرہی ہے کہتے ہوئے ،مجھے برین ہیمبرج ہوا دو سال پہلے لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے نئی زندگی عطا کی میرے پاس زندگی کے لیئے ایک پرسنٹ بھی چانس نہیں تھا لیکن جس پر اللہ مہربان ہو جائے مجھے دوبارہ زندگی بخش دی گئی ۔ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں بہت مشکل دن تھے میری پوری فیملی کے لیئے مجھے غصہ کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن کیا کروں بس اتنا ہی کہ ،،،، یہ دہن زخم کی صورت ہے میرے چہرے پہ یا میرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے

K.Electric کے ایم ڈی چند دنوں پہلے ملک کے میڈیا اینکرز کے ساتھ براجمان ہوئے ،اُس کی وزع قطاع دیکھ کر میں اُسے ایک معقول انسان سمجھا لیکن اس کا کمال ڈھٹائی کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ کہنا کہ ،، نہیں کراچی میں تو کہیں لوڈ شیڈنگ نہیں ہے،، نے تو مجھے بھی لا جواب سا کر دیا میں اُسے کیا کہوں ،بس افسوس ہوتا ہے اس ملک کی عوام پر،جن کو اپنی طاقت کابلکل اندازہ نہیں ہے اگر اس عوام کو اپنی قوت کا اندازہ ہو جائے تو یقین جانیں اس ملک میں ان کو بھیڑ بکریوں کی مانند کوئی نہیں ہانکے گا ،یہ خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے ہیں لوٹنے دیں کب تک لوٹیں گے ایک دن آئے گا یہ بھی کھڑے ہو جائیں گے اپنے حقوق کے لیئے اور گلی گلی نگر نگر پکاریں گے کہ میں نہیں مانتا ، میں نہیں مانتا ایسے دستور کو صبح بے نو کو ۔

کیا یہ ہے وہ نظام ؟ جس کے تحت ہم لوگ مستقبل میں اقوام عالم کے اندر خود کو زندہ رکھ پائیں گے ،،افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں ،کبھی بھی نہیں ،، معذرت کے ساتھ جس قوم کے پاس نظریہ ہی نہ ہو ، کوئی اپنا نظام زندگی ہی نہ ہو ، وہاں وہی کچھ ہوتا ہے جو آج کل ہم بحثیت قوم بھگت رہے ہیں، عجب حال ہے اس پوری قوم کا ،ان کو دھوکہ دیا جارہا ہے لیکن انہیں کوئی فکر نہیں ،ان کے بچوں کا مستقبل تاریک کیا جارہا ہے لیکن یہ سب کہیں ایک واری فیر زرداری ،کہیں دیکھو دیکھو شیر آیا ۔کہیں آئے گا عمران سب کی جان کے نعرے مار کر نئے پاکستان کی بنیاد رکھتے تو نظر آرہے ہیں لیکن کوئی ایک بھی اُس نظام حکومت کی جانب پیش قدمی کرتا نظر نہیں آرہا کہ جس کو بنیاد بنا کر ہم لوگ اپنے آنے والے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنا پائیں ۔

ہمیں اب اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر سوشل ازم کو خدا حافظ کہنا پڑے گا ،ہم اب مزید اس سودی نظام کے ساتھ نہیں چل سکتے ،ہمیں اللہ سے جنگ بند کرکے اللہ کی بندگی کی طرف چلنا ہوگا ،اور اُس نظام حیات کو اپنانا ہوگا جو کہ اللہ اور اُس کے نبی ﷺ کا دیا ہوا نظام زندگی ہے ، وہ نظام حکومت جس پر قائم رہتے ہوئے مسلمانوں نے ایک عرصہ تک دنیا کو اپنے زیرنگیں کئے رکھا ، وہ نظام حکومت جس پر عملداری کے بعد ہی ہم لوگ اپنی قوم کو انصاف مہیا کرپائیں گے ، وہ نظام حکومت جس کے تحت اس ملک کا ہر باشندہ برابر کی حیثیت رکھتا ہوگا ،قانون سب کے لئے ایک ہی جیسا ہوگا ،ایک ایسا مکمل نظام حکومت درپیش ہے جس کے بل بوتے ہم لوگ مستقبل میں باعزت طور پر ،ایک خوددار اور بہادر قوم کی مانند اقوام عالم میں سر اُٹھا کر زندہ رہ پائیں ،، کاش ایسا ممکن ہو ،،، امید پر دنیا قائم ہے اور مجھے امید ہے انشاء اللہ ہم ہوں یا نہ ہوں یہ مُلک ضرور ایک دن دنیا پر حکمرانی کرے گا ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com