آیا صوفیہ کو خرید کر مسجد بنانے کی حقیقت - نورولی شاہ

آیا صوفیہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع ہے، جس کا تاریخی نام قسطنطنیہ ہے۔ صدیوں کی تاریخ رکھنے والے اس شہر کو فتح کرنے کی خواہش مسلمانوں کو بہت پہلے سے تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ کفر کی شان و شوکت ختم کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کو عروج دینے کےلیے ضروری ہے کہ اس عالمی مرکز کا قلع قمع ہو، جہاں پر براجمان سربراہان کا مقصد تمام مملکتوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے تابع بنانا اور ان سے اپنے کام چلانا ہے۔

اس شہر کو فتح کرنے کی بشارت آپ ﷺنے خود دی اور فرمایا : تم لوگ ضرور ایک دن قسطنطنیہ فتح کریں گے ، پس وہ لشکر اور اس کا امیر کیا ہی اچھے لوگ ہوں گے۔تاہم اسے فتح کرنا آسان نہیں تھا۔ دو طرفہ سمندر اور ایک طرف تین فصیلوں اور ان کے درمیان 60 فٹ گہری اور 100 فٹ چوڑی خندقیں حملہ آوروں کی ہمت توڑنے کے لئے کافی تھے۔اس شہر کو سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں فتح کرلیا۔ تاہم یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ اس سے قبل دس بار اسلامی افواج نے اسے فتح کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلی کوشش حضرت امیر معاویہؓ کے دور خلافت میں ہوئی، جس میں مشہور صحابی حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی شامل تھے۔ دوسری بار اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالمالک نے اس کا محاصرہ کیا، تیسرا محاصرہ عباسی خلیفہ المہدی نے کیا، چوتھی مرتبہ ملک شاہ سلجوق نے اپنی قسمت آزمائی ۔اس کے بعد عثمانی سلطان یلدرم نے چار مرتبہ اس شہر کےمحاصرے کیے مگر ناکام رہا۔ نواں محاصرہ موسیٰ بن یلدرم نے اور دسواں محاصرہ مراد ثانی نے کیا۔

سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں فتح قسطنطنیہ ایک یادگار فتح تھی، اس سے عالمی طاقت کا پلڑا پلٹ پڑا اور اس کے بعد صدیوں تک مسلمان دنیا کے حکمران ٹھہرے۔
آیا صوفیہ کو مسجد میں بدلنے کی وجوہاتشہر کی فتح کے بعد عام رعایا کے لیے معافی کا اعلان ہو، انہیں اپنےمذہبی رسومات بجالانے کی کھلی چھٹ دی گئی، تاہم ان کے سب سے بڑے مذہبی مرکز کو مسجد میں بدلنےکا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے کی بنیادی وجوہات تین تھی:

1۔اس نیے شہر میں مسلمانوں کو ایک بڑی مسجد کی ضرورت تھی، جسے راتوں رات تعمیر کرنا ناممکن تھا۔اس لئے انہوں نے مناسب سمجھا کہ اس بڑی اور مرکزی عمارت کو مسجد میں تبدیل کیا جائے۔

2۔ یہ صرف ان کا گرجا نہیں تھا، بلکہ ان کی سیاسی طاقت کا مرکز تھا، انہیں سیاسی شکست دینے کےلیے او اس سے بندھی امیدیں ختم کرانے کےلیے اسے تبدیل کرنا ناگزیر تھا۔

3۔اس گرجے کے ساتھ عیسائیوں کی مختلف توہمات وابستہ تھی، وہ اسے خدائی پناہ گاہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حملے کے وقت ان کے مذہی پیشواہ اور عام رعایا اس میں چھپ گئے تھے یہاں تک کہ گرجے میں تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں رہی ۔ان کا خیال تھا کہ جب عثمانی فوج اس گرجے کے قریب پہنچیں گے تو ان پر آسمان سے بہت بڑی آفت نازم ہوگی، کیونکہ یہ گرجا قیامت تک عیسائیوں کا مرکز بنا رہے گا۔کیا اس کی قیمت اداکی گئی تھی؟

ان باتوں کو سامنے رکھ کر اس گرجے کو مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اگرچہ مسلمانوں نے یہ شہر صلح کے ذریعے نہیں بلکہ بزور شمشیر فتح کیا تھا، اس لئے وہ جنگی اخلاقیات کے تحت اس گرجے کو ختم یا تبدیل کرسکتے تھے، تاہم وسیع الظرف عثمانی سلطان سلطان محمد فاتح نے اسے عیسائیوں سے باقاعدہ خریدا اور اس کی قیمت عیسائی راہبوں کو دی۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق اس گرجے کی قیمت اداکرنے میں سلطان محمد فاتح نے بیت المال سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا، بلکہ سب اپنی جیب سے ادا کیا۔

ثبوت

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دستاویزات کے ثبوت آج تک محفوظ ہیں۔ یہ اصل دساویز انقرہ دائرة المديریۃ العامۃ للسجل العقاری فی أنقرة (The General Directorate of the Real Estate Registry ) میں بھی موجود ہے۔ اس کی ایک کاپی استنبول کے عجائب گھر متحف الآثار الترکيۃ الإسلاميۃ (The Museum of Turkish-Islamic Antiquities ) میں بھی( Classification No:2182) کے تحت موجود ہے۔مشہور ترکی مؤرخ سليم اقدوغان نے کچھ دن قبل الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ اس گرجے کو سلطان محمد فاتح نے زبردستی مسجد میں تبدیل کیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس وقت کی اصلی دستاویزات آج بھی محفوظ ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اسے باقاعدہ خرید کر مسجد بنایا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ عثمانی فوجوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کےبعد عام لوگوں کے لئے معافی کا اعلان کیا تھا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے عوام کا قتل عام کیا، وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔ ان باتوں کے اصلی ثبوت دائرۃ الوثائق و الحجج الترکیہ (Turkish Documents and Arguments Department) میں آج بھی موجود ہیں۔

دساویزات کی تصاویر اٹیچ ہیں۔ یہ اس دساویز کے کچھ صفحات ہیں۔ مکمل دستاویز اوپر دیے گیے محکموں کے پاس موجود ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com