سفر - (قسط 5) عظمی ظفر

ثروت نے بِنا بتائے آرٹ تھیٹر میں ادکاری کے جوہر دکھاۓ۔ بس پھر کیا تھا، ہر طرف سے داد و تحسین وصول کرتے کرتے وہ اور بھی پھولنے لگی۔یوں یہ نشہ اور بھی سر چڑھنے لگا۔ خواہش کا پنچھی پَر پھڑپھڑا رہا تھا اور اونچی اُڑان اُڑنے کو بے تاب تھا۔ ایسے میں فن و مہارت اور خیرسگالی کا خوبصورت جال بچھا کر اُسے خوب دانہ ڈالا گیا۔ کلاسیکل رقص سکھانے کے لیے پڑوسی ملک سے نامور استاد آئے ہوئے تھے۔

چھ مہینے کی ٹرینگ کے لیے کچھ رقم مخصوص کی گئی تھی۔ رقم تو اس نے جمع کروادی تھی مگر جب اسے یہ پتہ چلا کہ کلاسیکل رقص کے کورس کے لیے کچھ شاگرد ان کے ساتھ جا رہے ہیں اور استاد جی ثروت کو بطور خاص تربیت کے لیے اپنے ملک لے کر جانا چاہتے ہیں تو وہ اور بھی زیادہ مچلنے لگی۔ ویسے بھی ثروت کے لیے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں تھی کہ استاد جی نے اسے چُنا ہے۔ اب اُسے پاسپورٹ وغیرہ کے لیے بڑی رقم اور اجازت درکار تھی، تب سے وہ اور بھی بے چین تھی۔ نانا میاں سے پیسے لینا کچھ مشکل نہیں تھا مگر انھیں بتانا یا اجازت لینا ناممکن تھا۔تھیٹر اور کیمرے کی دنیا ہی الگ تھی۔ چاند چہروں اور ستارہ آنکھوں کو اسکرین پر لانے والوں کے اصل روپ کتنے بھیانک ہوتے ہیں یہ کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ایک سین ایک شوٹ کی خاطر پیسہ بھی لگتا ہے، تو کبھی کبھی عزت و ناموس بھی رُلتی ہے۔

ثروت کو ہاتھوں ہاتھ آگے لے کر آنے والا طلال ملک، احتشام الدین کا سیاسی حریف رہ چکا تھا۔ ثروت تو اس شخص کی اپنے نانا سے دشمنی کے معاملے سے ناواقف تھی البتہ طلال اس کے شجرے سے بخوبی واقف تھا۔ثروت کو معلوم تھا نانا میاں سیاسی امور اور مشاورت کے لیے اس مرتبہ بھی چھ مہینے کے لیے لاہور جائیں گے تو انھیں بِنا بتائے اس نے استاد جی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ان کے پیچھے گھر میں بڑا تھا ہی کون،،، زیادہ سے زیادہ گلبہار خالہ کو بلا لیا جاتا چاندنی بوا کو تو وہ ویسے ہی کسی خاطر میں نہیں لاتی تھی اور رہ گئی تمکین،،، وہ بھی اس کے لیے بس نام کی بہن تھی۔ ایک قدم بہادری سے اٹھایا تو دوسرے قدم کی بھی ہمت ہوگئی۔ اس نے خاموشی سے زیور والے ڈبے سے اپنی ماں کا قیمتی گلو بند نکالا اور موتی محل والے سنار نفیس صاحب کو بیچ آئی۔مگر یہ بھول گٸی کہ وہ ان کے خاندانی سنار ہیں۔

یہ ہے انسان !خود غرض انسان !جو اپنے شوق کے لیے اور شہرت کے نشے میں چور جائز و ناجائز کی ہر حد پھلانگ جاتا ہے۔نفیس صاحب زمانہ شناس تھے، زیور دیکھ کر چونک گئے۔ رقم دے تو دی لیکن اطمینان سے نہیں بیٹھے اور گھر فون کرکے چاندنی بوا کو اطلاع دے دی کہ وہ ملازم کے ہاتھ گلوبند بھجوا رہے ہیں۔
تمکین بٹیا،،، چاندنی بوا حیران، پریشان، گھبراتی ہوئی کمرے میں آئیں۔تمکین جو بشریٰ رحمن کے ناول بت شکن میں گم تھی اور آفاق سے مکمل ہمدردی رکھتی تھی، گھبرا کر کتاب چھوڑ دی۔ اسے لگا شاید نانا میاں ادھر ہی آرہے ہیں۔جج جی بوا،،، وہ جھٹ کھڑی ہوئی۔اۓ بٹیا! جلدی سے بیس ہزار جمع کرو ملازم کھڑا ہے کہیں نانا صاحب نا آجائیں۔

جی،،،کیا،،، کہہ رہی ہیں بوا، بیس ہزار !میرے پاس تو مشکل سے پانچ ہزار جمع ہوں گے۔ اتنی بڑی رقم !!! کون سا ملازم ہے کس کو دینا ہے؟؟ تمکنت شش وپنج میں تھی۔ہم بتاتے ہیں ابھی،اتنے میں چاندنی بوا نے اپنے بکسے میں سے مڑے تڑے نوٹ نکالے،کل ملا کر تین ہزار ہیں بٹیا۔ہوا کیا ہے یہ تو بتائیں ؟نانا میاں سے مانگ لیں نا، تمکین نے کتاب سیدھی کی۔اۓ لو! یہ خوب کہی بٹیا یعنی آ بیل مجھ مار ، پھر جو بات انہوں نے ثروت کے بارے میں بتائی وہ سن کر تو تمکین کے ہوش ہی اڑ گئے۔ بب،، باجی ایسا نہیں کرسکتیں، مگر اب کیا ہوگا بوا؟ نانا صاحب جانے کب تلک لوٹ آئیں، ان کے آنے سے پہلے یہ بلا ٹل جاۓ تو اچھا ہو،، چاندنی بوا کہہ کر ہاتھ مسلنے لگیں۔تمکین یوں کرو مہمان خانے میں محسن بیٹا موجود ہیں، رات نانا صاحب کے کوئی دوست رکے تھے تو تم محسن میاں کو بلا لاؤ۔ ہماری تو ٹانگیں کانپ رہی ہیں، ہم بات کرتے ہیں ان سے۔گھر کے کسی اور ملازم کے کانوں میں بات چلی گئی تو بہت بدنامی ہوگی۔

تمکین چار و ناچار مہمان خانے کی طرف بڑھ گئی،قبل اس کے کہ وہ محسن کو آواز دیتی اُسی کی آواز نے اس کے قدم روک دیئے۔محسن بہت بہترین انداز میں اشعار پڑھ رہا تھا،،،، وہ جیسے اس آواز میں کھو سی گئی تھی۔۔۔

حرف رنجش پہ کوئی بات بھی ہو سکتی ہے،،،

عین ممکن ہے، ملاقات بھی ہو سکتی ہے!!!

زندگی پھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہے،،،

زندگی گردش حالات بھی ہو سکتی ہے!!!

ہم نے یہ سوچ کے رکھا ہے قدم گلشن میں،،،

لالہ و گُل میں تری ذات بھی ہوسکتی ہے!!!

چال چلتے ہوئے، شطرنج کی بازی کے اصول،،،

بھول جاؤ گے تو پھر مات بھی ہوسکتی ہے!!!

ایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا محسن،،،

اس پہ یہ خوف، کہ برسات بھی ہوسکتی ہے!!!

بھٸی واہ وا !اندر سے بھر پور انداز میں داد دی گئی۔داد نے تمکین کو جیسے سوتے سے جگایا ہو وہ چونک پڑی۔" دیکھنا ایک دن بہت آگے جاؤ گے محسن میاں، ایک تو ترنم اوپر سے کیا شعر کہا بہت خوب کیا تھا وہ،، ہاں!!!عین ممکن ہے ملاقات بھی ہوسکتی ہے، بھٸی واہ!!!"

"جی بہت شکریہ عارفین چچا،"

محسن نے جھینپتے ہوئے کہا،

"آپ کا شاگرد ہوں آپ کی شاگردی میں ہی رہنا چاہتا ہوں۔"اچانک تمکین کو یاد آیا کہ کس کام کے لیے آئی تھی۔ اس نے محسن کو آواز دی،،" محسن بھائی!! ایک ضروری کام ہے آپ کو چاندنی بوا بلا رہی ہیں،،" تمکین نے رک رک کر کہا۔ محسن نے بلاوے پر چونکتے ہوئے عارفین سے رخصت چاہی۔کمرے سے باہر نکلا تو تمکین وہاں سے جاچکی تھی۔ محسن یہ سوچ کر مسکرانے لگا کہ،لالہ و گُل میں تری ذات بھی ہو سکتی ہے! قندیل نے ہلکے آسمانی رنگ کی چادر اپنے گرد پوری طرح لپیٹی اور ضروری سامان کا جائزہ لے کر کمرے سے باہر نکل آئی۔امی میں جارہی ہوں، فوزیہ انتظار کر رہی ہوگی۔اس نے چاۓ کا کپ باورچی خانے میں رکھتے ہوئے کہا۔"سنو قندیل !"تمکنت کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ وہ رکنے پر مجبور ہوگٸی۔"تم یونیورسٹی تو جا رہی ہو مگر یہ یاد رکھنا تمہارے کردار پر اگر کوئی انگلی اٹھی تو سب سے پہلے میں تمہاری جان لوں گی پھر اپنی جان دے دوں گی۔ساری زندگی بے گناہی کی سزا کاٹی ہے میں نے۔ اب مجھ میں تمہارے نام سے جڑی سزا سہنے کی ہمت نہیں ہوگی۔۔۔"

"امی!!!"قندیل ششدر رہ گٸی،" آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں ؟؟"اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، قبل اس کے کہ وہ کچھ کہتی زبیر صاحب نے اسے آواز دے دی،" چلو بیٹا میں نکل رہا ہوں۔"

" جی ابو آئی۔"قندیل نے آنکھوں کے کٹوروں میں تیرتے پانی کو بمشکل روکا اور تیزی سے باہر نکل آئی۔باہر مکرم اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا زبیر صاحب سے کوئی بات کر رہا تھا، اسے آتا دیکھ کر چپ ہوگیا۔"چلیں ابو۔۔۔" قندیل نے بھیگتے لہجے میں کہا۔ایسا کیا تھا جو آج قندیل کے چہرے پہ روشنی نہیں تھی،، مکرم باہر کھڑا سوچ رہا تھا اور اندر تمکین پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں۔آج قندیل کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا، اس لیے وہ کچھ دنوں سے بہت خوش تھی کیونکہ تمکنت نے بہت مشکل سے اجازت دی تھی گھر میں سوائے تمکنت کے کسی کو اعتراض نہیں تھا۔"اسی لیے کہتی ہوں تمکنت! بیٹی ذات ہے ہنسنے بولنے دیا کرو، اتنی سختی کرو گی تو مرجھا جائے گی میری بچی۔۔۔" گلبہار بیگم جانے کب آئیں تھیں۔تمکنت بھی ایسا کب چاہتی تھیں مگر ماضی کا خوف سکھ کا سانس لینے ہی کب دیتا تھا اچانک وہ ان کے گلے لگ کے رو پڑیں،"اماں آپ تو جانتی ہیں نا میں بے قصور تھی۔آپ کو تو معلوم ہے سب کچھ، میرا کوئی جرم نہ تھا، وہ محض الزام تھا۔۔۔ایک جھوٹا الزام۔۔۔"

کبھی خود پہ، کبھی حالات پہ رونا آیا،،،

بات نکلی تو ہر اِک بات پہ رونا آیا!!!

تاجر بردران کے مشترکہ ہڑتال پر کپڑا مارکیٹ بند تھی، لہذا دو دن سے محسن گھر پر تھے۔ اس وقت اوپری منزل پر بالکونی میں دونوں بہت دنوں بعد ساتھ بیٹھے تھے۔چائے کے ساتھ لوازمات کی ٹرے ابھی ابھی ملازم رکھ کر گیا تھا۔ ثروت بیگم بہت مطمٸین نظر آرہی تھیں۔"ایک بات ہے بیگم! ان پیڑ پودوں پر بہت محنت کی ہے تم نے۔"انھوں نے اونچے لمبے چھالیے کے درخت پر نظر ڈالی جو ہوا کے دوش پر جھول رہا تھا۔ ساتھ ہی ناریل کے درختوں کے پتے بھی سرسرا رہے تھے۔"ہمممم،،، یاد ہے خلیل بچپن میں ان درختوں کے چھوٹے چھوٹے پھل اٹھا لیا کرتا تھا جو گلہری اور کوے گرادیتے تھے۔ کتنا خوش ہوتا تھا وہ انھیں جمع کرکے،،"ثروت کو خلیل کی حرکت یاد آئی۔"ہاں!! اسے سب کو جمع کرنے کا ہی تو شوق تھا، رشتوں کو،، محبتوں کو،،بکھر کر رہ گیا ہے، آج وہ خود! "

وہ رک کر کہنے لگے،" دکان پر فون آیا تھا اس کا، کہہ رہا تھا ایک کرسچن لڑکی پسند آگئی ہے، بہت جلد شادی کرنے والا ہے۔"محسن کی نظریں بھی ان درختوں پر تھیں، یہ خبر دے کر بھی انھوں نے ثروت کی طرف نہیں دیکھا۔ پیالی میں کینڈرل گھول کر ثروت نے چائے کے کچھ ہی گھونٹ لیے تھے کہ اس خبر نے یکلخت جیسے چائے کا ذائقہ کڑوا کر دیا تھا۔ کئی سالوں پہلے بھی انہوں نے تمکین کی ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ گھولی تھی!!!
انھیں یاد آیا۔جاری ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com