اللّٰہ پہ یقین‎ - قرةالعین کاشف

اپو (پھپھو ) اوپر کتنا مزہ آ رہا ہے نہ میں جبھی تو کہتا ہوں کہ اوپر چھت پہ ہی سوئیں گےہم ادھر مجھے بہت مزا آتا ہے مجھے بادل بھی نظر آتے ہیں ستارے بھی نظر آتے ہیں چاند بھی نظر آتا ہے میرا پیارا سوا تین سال کا بھتیجا عبدالہادی مجھ سے مخاطب تھا اور ہم دونوں ابھی اوپر چھت پہ آئے تھے ۔

عبدالہادی جب آپ کے بابا ،میں اور دونوں چاچو چھوٹے تھے نا تو ہم بھی اللّٰہ تعالی کی سینری دیکھتے تھے چلتے ہوئے بادل بہت مزہ آتا تھا اور ستارے اور جو سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ہوتا تھا میں کہتی تھی یہ میرا ہے پھر ہم آپ کی دادی امی سے کہانی سنتے تھے اور ہمیں بہت مزہ آتا تھا۔میں بھی کہانی سنو گا آپ سے اپو( پھپھو ) ۔وہ تو میں ضرورسناؤں گی آپ کو اپو کی جاناپو آپ کے فیس (چہرے) پہ یہ کیا ہے ؟زور سے تِل پکڑتے ہوئے عبدالہادی نے پوچھا عبدالہادی یہ تل ہے اور یہ اللہ تعالی نے مجھے دیا ہے یہ اللہ تعالی کا گفٹ ہے ۔

مجھے بھی چاہئے اپو (پھپھو ) مجھے ابھی چاہیے یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔عبدالہادی یہ تو اللہ تعالی دیتے ہیں ۔ میں اللہ تعالی سے کہوں گا اللہ تعالی مجھے بھی ایسے ہی تل دےدیں۔ میں آپ کا تل لے لوں گا اور عبدالہادی نے تل پکڑ کے اپنی ہتھیلی میں رکھ لیا ۔ اور کہا ایک تل میرے انگلی پہ ایک تل میرے ہاتھ میں
اور اپنی مٹی سختی سے بند کر لی ۔اب دیکھئے گا اللہ تعالی میرے ہاتھ میں دو تل دے دیں گے ۔اور ساتھ ہی دعا شروع کردی اللہ تعالی مجھے تل دے دیں آپ۔عبدالہادی اللہ تعالی ہماری سب دعائیں سنتے ہیں لیکن اللہ تعالی ہمیں وہ چیز دیتے ہیں جو ہمارے لئے اچھی ہو ۔

اگر ہماری دعا ہمارے لئے اچھی نہیں ہوتی نہ تو وہ جنت میں ہمارے لئے گفٹ رکھ دیتے ہیں اس دعا کے بدلے میں لیکن اپو مجھے پتا ہے اللّٰہ تعالی مجھے دے دیں گے اللّٰہ تعالی سے میں نے کہا نا اللّٰہ تعالیٰ سے جو بھی مانگتے ہیں وہ ہم کو دے دیتے ہیں نا دادی امی کہتی ہیں اللّٰہ تعالی سب کی دعا سنتے ہیں ۔عبدالہادی تو دعائیں مانگ رہا تھا لیکن میں دل ہی دل میں پریشان تھی کی صبح اگر اس کے ہاتھ پہ تل نہیں ہوگا تو کہے گا کہ میری دعا قبول نہیں ہوئ ۔اب ایسا تو نہیں ہوسکتا نہ کہ صبح اس کے ہاتھ پر ٹھیک اسی مقامات پہ جو اس نے چنے دو تل آجائیں ۔

بس میں دعا گو تھی کے یا اللّٰہ آپ تو ہر چیز پہ قادر ہے آپ نے تو حضرت ابراہیمؑ کو آگ سے بچایا حضرت موسیؑ کو سمندر کے منتخب حصے کو خشک کر کے راستہ دے دیا آپ نے تو حضرت اسمائیل ؑ کی جگہ دنبہ بھیج دیا ہمارے نبیؐ کو ایک ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی اور دونوں جہاں کی سیر کروائ یا رب العالمین عبدالہادی کے ہاتھ میں تل آ جائیں یا تو وہ پھر بھول جائے کہ اس نے دعا مانگی تھی ۔ بس پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ہم باتیں کرتے کرتے سو گئے ۔صبح اذان کی آواز سے میری آنکھ کھلی ۔ہمممممممممم بڑے مزے آرہے ہیں دادی امی کی گود میں بیٹھ کہ ناشتہ ہورہا ہے چھوٹو مجھے دیکھ کے عبدالہادی مسکرانے لگا ۔میں روز چاچو کے ساتھ سوتا ہوں کل آپ کے ساتھ سویا تھا نہ. . . . شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے بہت پیار سے کہا بات کرتے ہوئے میری نظر اس کے ہاتھ پہ گئی اور مجھے کل والے بات یاد آگئ اور میں تقریبا چیخ پڑی عبدالہادی اللہ تعالی نے آپ کے ہاتھ پہ تل دے دیے ہیں۔

عبدالہادی نے اپنا ہاتھ کھول دیکھا تو اس کے ہاتھ کہ دونوں مقامات پر تل موجود تھے سب نے اس کے ہاتھ پہ دیکھا عبدالہادی کے ننھنے ہاتھ گواہی دے رہے تھے کہ اللہ سے پختہ یقین کے ساتھ جو چیز مانگی جائے وہ ضرور دیتا ہے عبدالہادی نے ناشتہ چھوڑ کے دوڑ لگادی سب کو اپنے ہاتھ دکھانے کے لیے۔ میں حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ سب کو رات والی بات بتانے لگی میں بیان نہیں کر سکتی میں بہت زیادہ خوش تھی اور بڑاہی کریم ہے وہ بڑا رحمان ہے جو چیز اسے دل سے مانگو وہ ضرور دیتا ہے۔بس ایمان عبدالہادی کی طرح پختہ ہونا چاہئے وہ اللّٰہ ہے اور وہ کہتا ہے مجھ سے مانگو میں دونگا مجھے پکارو میں تماری پکار سنوں گا۔

(دعا ہمارے حق میں بہتر ہو تو وہ قبول کر لیتا ہے ورنہ وہ دعائیں آخرت کے لیے جمع ہو جائیں گے اور اس وقت انسان کہے گا کہ کاش ہماری کوئی دعا دنیا میں قبول ہی نہ ہوتی) اللّٰہ تعالی اس ننھے بچے کی بات اس کے یقین کے مطابق پوری کی اسے امید تھی کہ اللہ رب العالمین اسے ضرور دیں گے اللّٰہ سے جو مانگو وہ دیتا ہے ۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com