رمزِ زیست - حافظہ خنساء اکرم

اس دنیاۓ پست و بالا میں حضرت انسان اپنی خواہشات کی پوری آب و تاب سے وارد ہوا ہے۔۔اور اسکی کما حقہ تکمیل کے لیے ہر عناصر استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے مگر اکثر اوقات اپنی زیست کی تشنگی کو سیراب کرنے کے لیے کسی ایک ایسی ہستی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے جو اسکے من کی بے کلی کا سدباب کرسکے۔

پھر جب اس ہستی کا ادراک نصیب ہوجاۓ تو اس کے وصل کا عالمِ شوق فرحت و سرور سے بھرپور ہوتا ہے مگر یہ اس انسان کا نصیب ہوتا ہے جو اپنی انا کو لِل٘ہ تیاگ دے اور معرفت کا جام نوش کرلے۔۔۔۔۔ اور معرفت ( قرآن کریم)کے کما حقہ حصول کے لیے ہدایت لازمی امر ہے اور یہ محض چاہنے سے نہیں بلکہ اپنے طالب کے گڑکڑا کر دعا کرنے اور ہر پل معبود کے مطابق ڈھلکنے اسکی توجیہات کو ہر بیان پر فوقیت دینے پر ملتی ہے۔ اور ان سب چیزوں کا احاطہ *سورہ فاتحہ* ہے۔۔ جو عابد کی زندگی کا لائحہ عمل مرتب کرتی ہے اور اس کو دنیا کی بلندیوں کو چھونے اور آغوش جنت میں جانے کےلئے ہر سمے خالق دنیا و آخرت سے باہم منسلک رکھتی ہے۔ کیونکہ ہر عرفان و رضا کا چشمہ اسی *ذات برحق* کے قبضہ قدرت میں ہے۔

اور مومن اپنی بندگی کے بل بوتے اس منصب و جاہ کو پا لیتا ہے مگر اس تک پہنچنے کے لیے اس غلامی کا شرف حاصل کرنا نا گزیر ہے جو کسی اطاعت گزار پر لازم و ملزوم ہے کیونکہ" اطاعت کا مطلب ہے مطیع ہونا اپنے ہونے یا نہ ہونے کے تمام امکانات ایک وحدہ لاشریک کو تھما دینا۔" تاکہ بوقت محشر وہ ھمارے ساتھ وہی ۔معاملہ روا رکھے جو ہم نے اس کے ساتھ رکھنے کی سعی کی تھی۔۔۔۔ اور جب جب انسان اپنی انا کے خول( اللہ کی رضا مندی پانے کے لیے) سے باہر نکلنے کے لیے جدوجھد کرتا ہے تب تب اس کائنات کی ان گنت سچائیاں اپنی مٹھی میں مقید پاتا ہے اور آخرت میں قرب الٰہی کے عندیہ کا حصول ممکن سمجھنے لگتا ہے اورتمغہِ مسلمان انعام میں پاتا ہے کیونکہمسلمان کا مطلب ہے مطیع، فرمانبرداری و عاجزی کرنے والا۔

اور انسان صحیح معنوں میں مسلمان ہو نہیں سکتا جب تک *اطیعواللہ* *واطیعوا الرسول* کا عملی و جمالیاتی ثبوت فراہم نہ کرے، امر باالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو بااحسن طریق نہ نبھآۓ اور اپنے قلب و نظر کو حسناتِ دنیا و آخرۃ کے لیے تیار نہ کرلے۔۔۔۔یہی مطلوب، مقصود، منشور ،موضوع، محبوب ِ زندگی اور مقربین کی رہِ زندگی ہے۔!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com